بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 39 hadith
عبد اللہؓ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب ان کی زیارت کرسکتے ہواورمیں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب جتنا تم مناسب سمجھو رکھ سکتے ہو اور میں نے تمہیں مَشک کے علاوہ نبیذ (پینے سے) منع کیا تھا۔ اب تم دوسرے تمام برتنوں سے پی سکتے ہو اور نشہ آور چیز نہ پیو۔ ایک اور روایت میں (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ نَھَیْتُکُمْکی بجائے) اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِﷺ قَالَ کُنْتُ نَھَیتُکُمْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے وہ اسے مرفوع بیان کرتی ہیں آپؐ نے فرمایا جب (تم میں سے کسی پر ذی الحجہ کا پہلا) عشرہ آجائے اور اس کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ ذبح کرنا چاہتا ہو تو وہ نہ بال کاٹے اور نہ ناخن تراشے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا نہ کوئی فرع ہے اور نہ عتیرہ ہے۔ ابن رافع نے اپنی روایت میں یہ بات زائد بیان کی کہ فرع پہلا بچہ ہے جسے مشرک ذبح کیا کرتے تھے۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب (ذی الحجہ کاپہلا) عشرہ آجائے اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو وہ اپنے بال اورجسم سے کچھ نہ کاٹے۔ راوی سفیان1سے کہا گیا کہ بعض لوگ اس روایت کو مرفوع بیان نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا لیکن میں تو کرتا ہوں۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب تم ذی الحجہ کا ہلال دیکھو اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو وہ اپنے بال (کاٹنے) اور نا خن (تراشنے) سے رکا رہے۔
عمر بن مسلم بن عمار بن اکیمہ لیثی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیّب کو کہتے سنا کہ میں نے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ قربان کرنا چاہتا ہے تو جب ذی الحجہ کی پہلی رات کا چاندنکل آئے تو جب تک وہ قربانی نہ کرلے اپنے بال اور ناخن ہر گز نہ کاٹے۔ عمرو بن مسلم بن عمار بن لیثی نے بیان کیا کہ ہم قربانیوں سے کچھ پہلے حمام میں تھے بعض لوگوں نے بال صاف کئے۔ حمام کے بعض لوگوں نے کہا کہ سعید بن مسیب اسے ناپسند کرتے ہیں یا کہا اس سے منع کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں ) میں سعید بن مسیّب سے ملا اور ان سے اس بات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے! یہ تو ایسی روایت ہے جسے بھلادیا گیا ہے اور چھوڑدیا گیا۔ مجھے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ نے بتایا انہوں نے کہا کہ نبیﷺ نے فرمایا۔ ۔ ۔ ۔
ابو طفیل عامر بنؓ واثلہ بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علیؓ بن ابی طالب کے پاس تھا کہ آپؓ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ نبیﷺ آپؓ سے کیا راز کی باتیں کیاکرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں آپؓ ناراض ہوئے اور کہا نبیﷺ مجھ سے کوئی ایسی راز کی بات نہیں کرتے تھے جسے وہ دوسرے لوگوں سے چھپاتے ہوں۔ ہاں مگر آپؐ نے مجھے چار باتیں بتائیں۔ وہ کہتے ہیں پھر اس نے کہا کہ اے امیر المؤ منین !وہ کیا ہیں؟ وہ کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا اللہ اس پر لعنت کرے جو اپنے باپ پر لعنت کرے اور اللہ اس پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے لئے ذبح کرتا ہے۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دے اور اللہ لعنت کرے اس پر جو زمین کے نشان کو بدلے۔
ابو طفیلؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے حضرت علیؓ بن ابی طالب سے کہا کہ ہمیں کچھ بتائیں جو رسول اللہﷺ نے آپؐ سے علیحدگی میں کیں۔ انہوں نے کہا مجھے آپؐ نے کوئی ایسی راز کی بات نہیں بتائی جو دوسروں سے چھپائی ہو، ہاں میں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ اس پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے لئے ذبح کرتا ہے۔ اور اللہ لعنت کرے اس پر جو کسی بدعتی کوپناہ دیتا ہے۔ اور اللہ لعنت کرے اس پر جو اپنے والدین پر لعنت کرتا ہے۔ اور اللہ لعنت کرے اس پر جو(زمین کے لئے) نشان تبدیل کرتا ہے۔
ابو طفیلؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت علیؓ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہﷺ نے آپؓ لوگوں کو کسی بات میں خاص کیا ہے؟ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ہمیں کوئی ایسی خاص بات نہیں بتائی جودوسرے سب لوگوں کو عام طور پر نہ بتائی ہو سوائے اس کے کہ جو میری اس تلوار کے میان میں ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر انہوں نے صحیفہ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا اللہ اس پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے لئے ذبح کرتا ہے اور اللہ لعنت کرے اس پر جو زمین کے نشان چوری کرتا ہے۔ اور اللہ لعنت کرے اس پر جو اپنے والد پر لعنت کرتا ہے۔ اور اللہ لعنت کرے اس پر جو کسی بدعتی کوپناہ دیتا ہے۔