بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 39 hadith
حضرت جُندبؓ بن سفیان کہتے ہیں میں عیدالاضحٰی میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا۔ آپؐ نے نماز پڑھی اور نماز سے فارغ ہوئے۔ ابھی آپؐ واپس تشریف نہیں لے گئے تھے تو آپؐ نے قربانیوں کا گوشت دیکھا جو آپؐ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ذبح کی گئی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا جس نے اپنی قربانیوں کو نماز پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کیا تھا یافرمایا ہماری نماز سے قبل ہی ذبح کیا تو وہ اس کی جگہ پر اور جانور ذبح کرے۔
حضرت جُندبؓ بن سفیان کہتے ہیں میں عیدالاضحٰی میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا۔ جب آپؐ لوگوں کو نماز پڑھانے سے فارغ ہوئے تو بکریوں کو دیکھا کہ ذبح کی گئی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو وہ اس کی جگہ بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔
حضرت جندبؓ بجلی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس تھا۔ آپؐ نے عید الاضحٰی کے دن نماز پڑھائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا جس شخص نے نماز پڑھنے سے پہلے جانور ذبح کیا تو وہ اس کی جگہ دوبارہ (جانور ذبح) کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا تو وہ اللہ کا نام لے کر ذ بح کرے۔
حضرت براءؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میرے ماموں حضرت ابو بردہؓ نے نماز سے پہلے قربانی کی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ بکری گوشت کے لئے(ذبح ہوئی) ہے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرے پاس بکری کا چھ ماہ کا بچہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس کے ذریعہ قربانی کرلو اور تمہارے علاوہ اور کسی کے لئے یہ درست نہیں ہوگا۔ پھر فرمایا جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس نے اپنی ذات کے لئے (جانور) ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی پوری ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پالیا۔
حضرت براءؓ بن عازب سے روایت ہے کہ ان کے ماموں حضرت ابو بردہؓ بن نَیار نے نبیﷺ کے ذبح کرنے سے پہلے (جانور) ذبح کیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یقینا اس دن گوشت مکروہ٭ ہے اور میں نے اس لئے قربانی میں جلدی کی تاکہ اپنے اہل اور پڑوسیوں اور گھر والوں کو کھلاؤں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا دوبارہ قربانی کرو۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرے پاس دودھ والی بکری کا بچہ ہے۔ وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہترہے۔ آپؐ نے فرمایا وہ تیری دو قربانیوں میں سے بہتر ہے اور تیرے بعد کسی اور کے لئے بکری کے بچہ کی قربانی جائز نہیں۔ ایک اور روایت حضرت براءؓ بن عازب سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں قربانی کے دن رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کوئی بھی نماز سے پہلے ذبح نہ کرے۔ وہ (عازبؓ ) کہتے ہیں میرے ماموں نے کہا یا رسولؐ اللہ! یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت مکروہ ہے۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت براءؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی تو وہ نہ ذبح کرے یہاں تک کہ نماز پڑھے۔ میرے ماموں نے کہا یا رسولؐ اللہ !میں تو اپنے بیٹے کی طرف سے قربانی کرچکا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا یہ کام تم نے جلدی میں اپنے گھر والوں کے لئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا میرے پاس ایک بکری ہے جو دو بکریوں سے بہتر ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے ذبح کرو وہ بہتر قربانی ہے۔
حضرت براءؓ بن عازب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایاہم اپنے اس دن سب سے پہلا جو کام کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر ہم واپس جاتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔ جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو اختیار کیا اور جس نے(اسے) پہلے ہی ذبح کرلیا تو وہ گوشت ہے۔ جو اس نے اپنے گھر والوں کے لئے پہلے ہی کیا ہے۔ اس کا کچھ بھی قربانیوں سے تعلق نہیں ہے۔ حضرت ابو بردہؓ بن نیار نے جانور پہلے ذبح کرلیا تھا۔ تو انہوں نے کہا میرے پاس جَذعہ (سال سے چھوٹی)ہے جو مُسِنّہ (سال سے بڑی) سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا اسے ذبح کرلو اور تمہارے سوا یہ اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کی جگہ خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کے الفاظ ہیں۔
حضرت براءؓ بن عازب بیان کرتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہﷺ نے ہم سے خطاب فرمایا اور فرمایا کوئی شخص قربانی نہ کرے جب تک نماز نہ پڑھ لے۔ ایک شخص نے کہا میرے پاس ایک سال سے چھوٹی بکری ہے جو دوگوشت والی بکریوں سے بہتر ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے ذبح کرلو۔ اور سال سے چھوٹی کی قربانی تیرے بعد کسی کے لئے جائز نہیں ہوگی۔
حضرت براءؓ بن عازب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بردہؓ نے نمازِ(عید) سے قبل جانور ذبح کرلیا تو نبیﷺ نے فرمایا اس کے بدلہ میں اور قربانی کرو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے پاس جذعہ (ایک سال سے چھوٹی بکری) کے علاوہ کوئی جانور نہیں۔ شعبہ کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہا کہ وہ مُسِنّہ (سال سے بڑی بکری) سے بہتر ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کو اس کی جگ ہپر ذبح کرلو اور تمہارے علاوہ یہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہوگی۔ ایک اور روایت شعبہ سے مروی ہے جس میں انہوں نے ِ
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے قربانیوں کے دن فرمایا جس نے نماز سے پہلے (جانور) ذبح کیا ہے تو وہ دوبارہ ذبح کرے۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا یارسولؐ اللہ ! یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی خواہش ہوتی ہے اور اپنے ہمسائیوں کی محتاجی کا ذکر کیا۔ رسول اللہﷺ نے گویا اس کی بات کو صحیح سمجھا۔ اور اس نے کہا میرے پاس جذعہ ہے جو مجھے دو گوشت والی بکریوں سے زیادہ پسند ہے کیا میں اسے ذبح کرلوں؟ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اسے اجازت دے دی۔ راوی کہتے ہیں مجھے علم نہیں کہ آپؐ کی رخصت اس شخص کے علاوہ کسی اور کے لئے بھی ہے۔ پھر رسول اللہﷺ دو مینڈھوں کی طرف گئے اور انہیں ذبح کیا۔ لوگ اپنی بکریوں کی طرف گئے اور انہیں تقسیم کیا۔ راوی نے ’’تقسیم کیا‘‘ کے لئے فَتَوَزَّعُوْھَا کا لفظ استعمال کیایا فَتَجَزَّعُوْھَا کا لفظ۔ رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی پھر آپؐ نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا جس نے نماز سے پہلے (جانور) ذبح کیا ہے وہ دوبارہ (ذبح) کرے۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ اسی طرح ایک اور روایت حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے عید الاضحٰی کے دن ہمیں خطبہ دیا۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے گوشت کی خوشبو محسوس کی۔ آپؐ نے انہیں ذبح کرنے سے منع فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا جس نے (جانور)ذبح کر لیا ہے وہ دوبارہ (جانور)ذبح کرے۔