بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس کچھ کھجوریں لائی گئیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ کھجور ہماری کھجور میں سے تونہیں ہے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع دے کر اس کھجور کا ایک صاع لیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ سود ہے اسے واپس کرو۔ پھر ہماری کھجور فروخت کرو، ہمارے لئے اِس (حاصل شدہ رقم) سے یہ خریدو۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سود کھانے اور کھلانے والے اور اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ’’جمع‘‘ کھجوردی جاتی تھی اور وہ ملی جُلی کھجوریں ہوتی تھیں اور ہم اس کے دو صاع دے کر ایک صاع لیتے تھے۔ رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپؐ نے فرمایا کھجور کے دو صاع ایک صاع کے بدلے نہیں۔ نہ ہی گندم کے دو صاع کے عوض ایک صاع گندم نہ دو درہم کے بدلے ایک دِرہم۔
ابو نضرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سونے چاندی کے تبادلہ کے بارہ میں پوچھا انہوں نے کہا کیا دست بدست؟ تو میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اس میں حرج نہیں۔ پھر میں نے (یہ بات) حضرت ابو سعیدؓ کوبتائی میں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سونے چاندی کی بیع کے بارہ میں پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا کیا دست بدست؟ میں نے کہا ہاں تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں (حضرت ابو سعیدؓ ) نے کہا کیا انہوں (حضرت ابن عباسؓ )نے ایسا کہا تھا ! ہم انہیں عنقریب لکھیں گے پھر وہ تمہیں یہ فتوٰی نہیں دیں گے پھر انہوں (حضرت ابو سعیدؓ )نے کہا کہ خدا کی قسم رسول اللہﷺ کا کوئی خادم کھجور لے کر آیا۔ رسول اللہﷺ نے اسے اوپرا سمجھا اور فرمایا شاید یہ ہماری زمین کی کھجور نہیں۔ اس (خادم) نے بتایا کہ ہماری زمین کی کھجور میں یا (کہا) ہماری کھجور میں اس سال کوئی بات تھی تو میں نے یہ لے لی اور کچھ(اپنی کھجور) زیادہ دے دی۔ آپؐ نے فرمایا تم نے زیادہ دیا توسوددیا۔ اس کے قریب (بھی) مت جاؤ۔ جب تمہیں اپنی کھجور میں سے کوئی چیز پسندنہ آئے تو اسے فروخت کردو، پھراس کھجور میں سے جو تم چاہتے ہو خرید لو۔
ابو نضرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے سونے چاندی کی تجارت کے بارہ میں پوچھا تو ان دونوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا اور میں حضرت ابوسعید خدریؓ کے پاس بیٹھا تھا میں نے ان سے سونے چاندی کی تجارت کے بارہ میں پوچھا انہوں نے کہا جو زیادہ ہو وہ سود ہوگا۔ مجھے یہ بات ان دونوں (حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابن عمرؓ )کے قول کی وجہ سے اوپری لگی۔ وہ کہنے لگے میں تو تمہیں صرف وہی حدیث سنا رہا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے۔ حضورؐ کی خدمت میں آپؐ کی کھجوروں کے درخت کا منتظم ایک صاع عمدہ کھجور لایا اور نبیﷺ کی کھجور اِس قسم کی تھی۔ نبیﷺ نے اسے فرمایا یہ تمہیں کہاں سے ملی ہے؟ وہ کہنے لگا میں اپنی کھجور کے دو صاع لے کر گیا اور اس کے عوض اس کھجور کا یہ ایک صاع خریدا ہے اور اس کھجور کی قیمت بازار میں یہ ہے اور اس کی وہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا تیرا بھلا ہو۔ تونے سود دیا ہے۔ اگر تم ایسا کرنا ہی چاہو تو اپنی کھجور ایک سودے میں فروخت کرو۔ پھراپنے اس سودے سے جو کھجور چاہو خریدو۔ حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے کہ کھجور کے بدلے کھجور کے سود ہونے کا زیادہ امکان ہے یا چاندی کے عوض چاندی کے(سود ہونے کا)۔ (ابو نضرہ) کہتے ہیں میں بعد میں حضرت ابن عمرؓ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے منع کیا اور میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس نہیں گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو الصہباء نے مجھے بتایا کہ انہوں نے مکہ میں حضرت ابن عباسؓ سے اس بارہ میں پوچھا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا۔
ابوصالح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعیدخدری ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ ’’دینار دینار کے عوض اور درہم درہم کے عوض برابر برابر ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سودی کام کیا۔‘‘ میں نے انہیں کہا کہ ابن عباسؓ اس سے مختلف کہتے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ میں ابن عباسؓ سے ملا تھا اور ان سے پوچھا تھا کہ بتائیں تو سہی جو آپ کہتے ہیں اس کے بارہ میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ نے یہ بات رسول اللہﷺ سے سنی ہے یا اللہ عزّوجل کی کتاب میں اسے پایا ہے؟ وہ کہنے لگے نہ میں نے یہ رسول اللہﷺ سے سنا ہے نہ اللہ کی کتاب میں اسے پایا ہے لیکن اُسامہ بن زیدؓ نے مجھے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ سود اُدھار میں ہے۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ اُسامہ بن زیدؓ نے مجھے بتایاکہ نبیﷺ نے فرمایا کہ سود صرف اُدھار میں ہے۔
حضرت ابن عباسؓ حضرت اُسامہ بن زیدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو (تجارت) دست بدست ہو اس میں کوئی سودنہیں۔
اوزاعی کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح نے مجھے بتایاکہ حضرت ابوسعید خدریؓ حضرت ابن عباسؓ سے ملے اور ان سے کہا کہ فرمائیے سونے چاندی کی تجارت کے بارہ میں جو آپ کا قول ہے کیا وہ ایسی بات ہے جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی یا کوئی ایسی چیزہے جسے آپ نے اللہ عزّ وجلّ کی کتاب میں پایاہے؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا ہر گز نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا جہاں تک رسول اللہﷺ کا تعلق ہے تو آپ لوگ اس بارہ میں زیادہ جانتے ہیں اور جہاں تک اللہ کی کتاب کا تعلق ہے تو اس کا مجھے پتہ نہیں ہاں مگر اُسامہ بن زیدؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سنو !سودصرف اُدھار میں ہے۔
علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔ راوی(علقمہ) کہتے ہیں میں نے کہا اور اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر (بھی)۔ انہوں (حضرت عبداللہؓ ) نے کہا ہم وہی بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنا۔