بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے اور نعمانؓ اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانو ں تک لے گئے اور کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سناہے کہ حلال(بھی) واضح ہے اور حرام(بھی) واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ باتیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچالیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں داخل ہو گیا۔ اس چرواہے کی طرح جو کسی محفوظ علاقہ کے گرد (جانور) چراتا ہے بعیدنہیں کہ وہ(جانور)اس(چراگاہ) کے اندر چرنے لگ جائے۔ خبردار ہربادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے اور سنو ! اللہ کا ممنوعہ علاقہ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔ سنو !جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہوگا۔ اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہوگا اور سنو وہ دل ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عامر شَعبی نے رسول اللہﷺ کے صحابی حضرت نعمانؓ بن بشیر بن سعدکو حمص میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں (یُوْشِکُ اَنْ یَرْتَعَ فِیْہِکی بجائے) یُوْشِکُ اَنْ یَقَعَ فِیْہِ کے الفاظ ہیں۔ یعنی قریب ہے کہ وہ چراگاہ میں پڑجائے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایاکہ میں نے تمہارا اونٹ چار دینار میں لیا ہے۔ تم مدینہ تک اس پر سواری کر سکو گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک اونٹ ادھار لیا پھر اس سے بہترعمر کا اونٹ دیا اور فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے بہتر ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک کررہ گیا۔ انہوں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ مجھے آملے اور میرے لئے دعا کی اور اسے ضرب لگائی تو وہ ایسی رفتار سے چلنے لگا کہ پہلے کبھی ایسانہ چلا تھا۔ آپؐ نے فرمایا مجھے یہ ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے عرض کیا نہیں آپؐ نے پھر فرمایا مجھے یہ بیچ دو۔ میں نے آپؐ کو ایک اوقیہ میں بیچ دیا اور اپنے گھر والوں تک اس پر سواری کی استثناء کرلی۔ جب میں پہنچ گیا تو آپؐ کے پاس اونٹ لے کر آیا۔ آپؐ نے مجھے اس کی قیمت ادا کردی۔ پھر میں واپس لوٹا۔ آپؐ نے مجھے بلوایا اور فرمایا کیا تم میرے بارے میں خیال کرتے ہو کہ میں نے تمہیں کم قیمت لگائی ہے تاکہ تمہارا اونٹ لے لوں۔ اپنا اونٹ اور درہم لے جاؤ، یہ تمہارے ہیں۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا۔ آپؐ مجھے آ ملے۔ میری سواری میرا پانی کھینچنے والا اونٹ تھا جو تھک گیا تھا اور چلتانہ تھا۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے مجھ سے پوچھا تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ بیمار ہے۔ وہ کہتے ہیں تورسول اللہﷺ پیچھے ہٹے اور اسے انگیخت کی اور اس کے لئے دعا کی۔ پس وہ سب اونٹوں سے آگے آگے چلنے لگا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا اب اپنے اونٹ کو کیسا پاتے ہو؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا بہت اچھا۔ اسے آپؐ کی برکت پہنچی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم اسے میرے پاس بیچتے ہو؟ مجھے شرم آئی اور ہمارا اس کے علاوہ کوئی پانی لانے والا اونٹ نہ تھا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا جی ہاں اور مَیں نے اسے آپؐ کے پاس بیچ دیا اس بات پر کہ مدینہ پہنچنے تک میں اس پر سوار رہوں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے نئی نئی شادی کی ہے اور میں نے آپؐ سے اجازت چاہی۔ آپؐ نے مجھے اجازت دے دی اور میں مدینہ کی طرف لوگوں سے آگے نکل گیااور وہاں پہنچ گیا۔ میرے ماموں مجھے ملے انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارہ میں پوچھا۔ میں نے اس کے بارہ میں جو میں نے کیا تھا بتایا تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے رسول اللہﷺ سے اجازت مانگی تھی تو آپؐ نے مجھے فرمایا تھا کہ تم نے کس سے شادی کی ہے؟ کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے آپؐ سے عرض کیا کہ بیوہ سے شادی کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم نے کنواری سے کیوں نہ شادی کی؟ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے۔ میں نے آپؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے والد فوت ہوگئے یا کہا کہ شہید ہوگئے اور میری چھوٹی بہنیں ہیں اس لئے میں نے پسندنہ کیا کہ ان کے پاس ان جیسی بیاہ کر لاؤں جو ان کی تربیت نہ کر سکے۔ نہ ان کا خیال رکھ سکے۔ اس لئے بیوہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کا خیال رکھے اور ان کی تربیت کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر جب رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے، میں صبح آپؐ کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا۔ آپؐ نے مجھے اس کی قیمت دے دی اور وہ(اونٹ) بھی مجھے واپس کردیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ آئے تو میرا اونٹ بیمار پڑ گیا پھر باقی روایت اسی طرح بیان کی۔ اس روایت میں یہ ہے کہ پھر آپﷺ نے مجھے فرمایا کہ یہ اونٹ میرے پاس بیچ دو۔ میں نے عرض کیا نہیں حضورؐ یہ آپؐ کاہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں بلکہ اسے میرے پاس فروخت کرو۔ میں نے کہا نہیں بلکہ یارسولؐ اللہ! وہ آپؐ کا ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ میرے پاس بیچ دو۔ میں نے عرض کیا کہ مجھ پر ایک اُوقیہ سونا قرض ہے۔ یہ اونٹ اس (اُوقیہ) کے عوض آپؐ کا ہوا۔ آپؐ نے فرمایا میں نے لے لیا تم اس پر مدینہ پہنچو۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ پہنچا تو رسول اللہﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا اسے سونے کا ایک اُوقیہ دے دو اور اسے کچھ زیادہ بھی دینا۔ جابرؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے ایک اُوقیہ سونا اور ایک قیراط زائد دیا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ رسول اللہﷺ کا یہ زائد (انعام) مجھ سے جدا نہ ہونے پائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ میری ایک تھیلی میں تھا جو اہل شام نے یوم الحرہ ٭ میں چھین لی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے میرا پانی لانے والا اونٹ پیچھے رہ گیا۔ پھر راوی نے باقی روایت بیان کی اور اس میں یہ کہا کہ رسول اللہﷺ نے اسے چھڑی چبھوئی پھر مجھے فرمایا کہ اللہ کانام لے کر سوار ہوجاؤ اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ انہوں (حضرت جابرؓ ) نے کہا کہ آپؐ مجھے زیادہ عطا فرماتے رہے اور فرماتے تھے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جب میرے پاس تشریف لائے اور میرا اونٹ تھک گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپؐ نے اسے چھڑی لگائی اور وہ چھلانگیں لگا کر(دوڑنے لگا) اس کے بعد میں اونٹ کی مہار تھامتا تھا تاکہ حضورﷺ کی بات سن سکوں مگر نہ سن سکتا تھا پھر نبیﷺ مجھے آن ملے اور فرمایا اسے میرے پاس بیچ دو۔ میں نے وہ آپؐ کے پاس پانچ اُوقیہ میں فروخت کردیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اس شرط پر کہ مدینہ پہنچنے تک میں اس پر سوار رہوں گا۔ آپؐ نے فرمایا تم مدینے تک اس پر سوار رہو۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں آپؐ کے پاس وہ (اونٹ) لے آیا۔ نبیﷺ نے مجھے ایک اُوقیہ زیادہ عطا فرمایا پھر وہ (اونٹ بھی) مجھے دے دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہا جہاد کی خاطر۔ پھر پوری روایت بیان کی او راس میں یہ اضافہ ہے آپؐ نے فرمایا اے جابر! کیا تم نے پوری قیمت لے لی ہے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر فرمایا قیمت بھی تمہاری اور اونٹ بھی تمہارا قیمت بھی تمہاری اور اونٹ بھی تمہارا۔
محارب کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابرؓ بن عبداللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے ایک اونٹ دو اوقیہ اور ایک یا دو درہم میں گائے کے بارہ میں ارشاد فرمایا۔ وہ ذبح کی گئی اور لوگوں نے اس میں سے کھایا۔ جب آپؐ مدینہ پہنچے آپؐ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میں مسجد جاؤں اور دو رکعت ادا کروں اور آپؐ نے میرے لئے اونٹ کی قیمت وزن کی اور میرے لئے پلڑے کو جھکا یا(یعنی زیادہ ادائیگی فرمائی)۔ ایک اور روایت میں سابقہ روایت کا مضمون ہے مگر اس میں (اِشْتَرَی مِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ بَعِیْرًا بِوُقِیَّتَیْنِ وَدِرْہَمٍ أَوْدِرْہَمَیْنِ کی بجائے) فَاشْتَرَاہُ مِنِّیْ بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاہُ کے الفاظ ہیں۔ اور اس میں اَلْوُقِیَّتَیْنِ وَالْدِّرْہَمَ والدِّرْہَمَیْنِ کا ذکر نہیں اور اس میں (أَمَرَ بِبَقَرَۃٍ فَذُبِحَتْ فَأَکَلُوْا مِنْھَا کی بجائے) أَمَرَ بِبَقَرَۃٍ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَھَا کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو رافعؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص سے نو عمر اونٹ اُدھار لیا۔ پھر آپؐ کے پاس زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے اونٹ آئے تو آپؐ نے حضرت ابو رافعؓ کو حکم دیا کہ اس شخص کو نو عمر اونٹ ادا کردے۔ حضرت ابو رافعؓ آپؐ کے پاس واپس آئے اور کہا کہ مجھے ان اونٹوں میں (اس کے اونٹ سے)بہتر ملا ہے جو ساتویں سال میں داخل ہوچکا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے وہی دے دو۔ لوگوں میں سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں ان سے بہتر ہو۔ ایک اور روایت میں (عَنْ اَبِی رَافِعٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَکْرًا...کی بجائے) عَنْ اَبِی رَافِعٍ مَوْلَی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ بَکْرًاکے الفاظ ہیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طر ح ہے مگر اس میں (خِیَارَ النَّاسِ أَحْسَنُہُمْ قَضَائً کی بجائے) فَاِنَّ خَیْرَعِبَادِاللّٰہِ أَحْسَنُہُمْ قَضَائً کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کا رسول اللہﷺ کے ذمہ کچھ حق تھا اس نے آپؐ سے درشتی کی نبیﷺ کے صحابہؓ نے اس (کی فہمائش) کا قصد کیا نبیﷺ نے فرمایا حق دار٭ کچھ کہہ بھی لیتاہے پھر ان سے فرمایا اس کے لئے اونٹ خریدو اور اس کو دے دو۔ انہوں نے کہا ہم نے اس کی عمر کے اونٹ سے بہتر عمر کا اونٹ ہی پایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہی خریدو اور اسے دے دو کیونکہ تم میں سے بہتر یا تم میں بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں تم سب سے اچھا ہے۔