بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب ایک شخص دیوالیہ ہوجائے اور کوئی شخص اپنا سودا اُس کے پاس اسی حالت میں پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے زائد ازضرورت پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو لوگ تم سے پہلے تھے ان میں سے ایک شخص کی روح فرشتوں نے قبض کی اور پوچھا کہ کیا تم نے کوئی نیک کام کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے کہا یاد کرو۔ اس نے کہا کہ میں لوگوں کوقرض دیتا تھا اور اپنے ملازموں کو حکم دے رکھاتھا کہ تنگدست کو مہلت دیں اور فراخی والے سے درگزر کریں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ عزّوجل نے حکم دیا اس شخص سے درگزر کرو۔
ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہؓ اور حضرت ابو مسعودؓ اکٹھے ہوئے حضرت حذیفہؓ نے کہا کہ ایک شخص اپنے رب سے ملا۔ اللہ نے فرمایا کہ تم نے کیا عمل کیا؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی خاص نیک عمل نہیں کیا البتہ میں ایک مال دارآدمی تھا اور میں لوگوں سے اس کا مطالبہ کرتا تھااور میں آسودہ حال سے قبول کر لیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ میرے بندے سے درگزر کرو۔ حضرت ابو مسعودؓ کہتے تھے کہ میں نے اسی طرح رسول اللہﷺ کو فرما تے ہوئے سنا۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہنبیﷺ نے بیان فرمایاکہ ایک شخص فوت ہوا اور جنت میں داخل ہوا اسے کہا گیا کہ تم کیا کرتے تھے؟ راوی کہتے ہیں یا تو اسے یاد آیا یا اسے یاد دلایا گیا اس نے کہا کہ میں لوگوں سے خریدو فروخت کیا کرتا تھا۔ اور تنگدست کو مہلت دیتا تھا۔ اور ریزگاری یا(کہا) نقدی کے بارہ میں درگذر کرتا تھا ٭۔ چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔ حضرت ابو مسعودؓ کہتے تھے کہ میں نے یہ رسول اللہﷺ سے سنا ہے۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے پاس اس کے بندوں میں سے ایک بندہ جسے اللہ نے مال عطا کیا تھا لایا گیا۔ اللہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے دنیا میں کیا کیا؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ وہ کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اپنا مال عطاء فرمایا تھا میں لوگوں سے خریدو فروخت کرتا تھا اور میری عادت درگزر کرنے کی تھی۔ میں مالدار کوسہولت دیتا تھا اور تنگدست کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ فرمائے گا کہ میں تم سے زیادہ اس کا حقدار ہوں۔ میرے بندے سے درگزر کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنیؓ اور حضرت ابومسعودؓ انصاری کہتے ہیں کہ ہم نے اسی طرح یہ رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے۔
حضرت ابو مسعودؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ تھے ان میں سے ایک شخص کا حساب لیا گیا اس کی کوئی نیکی نہ پائی گئی سوائے اسکے کہ وہ لو گوں سے میل جول رکھتاتھا اور وہ خوشحال تھا اور وہ اپنے ملازموں کو حکم دیتا تھا کہ تنگدست سے درگزر کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ہم اس سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں۔ اس سے درگزر سے کام لو‘‘۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے ملازم سے کہتا تھا کہ جب تم تنگدست کے پاس جاؤ تو اس سے درگزر کرو شاید اللہ بھی ہم سے درگزر فرمائے۔ پھروہ اللہ کے حضور پیش ہوا تو اللہ نے اس سے درگزر فرمایا۔
عبد اللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو قتادہؓ نے اپنے ایک مقروض کو بلوایا تو وہ ان سے چھپ گیا۔ پھر وہ اس سے ملے تو اس نے کہا کہ میں تنگدست ہوں (حضرت ابو قتادہؓ )نے کہا اللہ کی قسم؟ اس نے کہا اللہ کی قسم!(حضرت ابو قتادہؓ ) نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جسے یہ بات خوش کرے کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی مصیبتوں سے نجات دے تو چاہئے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا (مطالبہ ہی) چھوڑدے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا امیر آدمی کا (قرض واپس کرنے سے) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ جب تم میں سے کسی کو (قرض کی ادائیگی کے لئے) کسی صاحب استطاعت کے سپرد کیا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کو مان لے۔