سالم بن عبد اللہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بتایامیں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپوں کی قسم کھاؤ۔ حضرت عمر ؓ کہتے تھے کہ خدا کی قسم جب سے میں نے رسول اللہﷺ کواس سے منع فرماتے ہوئے سنا میں نے ایسی قسم نہیں کھائی نہ خود بات کرتے ہوئے نہ کسی کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے۔ ایک روایت میں ہے جب سے میں نے رسول اللہﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا میں نے ایسی قسم نہیں کھائی نہ ایسی قسم والی(کسی کی) بات بیان کی۔
بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو ایک قافلہ میں پایا۔ حضرت عمرؓ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو آواز دی کہ سنو اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباء کی قسم کھاؤ پس جو قسم کھانے والا ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔
عبد اللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمرؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے قسم کھانی ہو وہ اللہ کے سوا کسی کی قسم نہ کھائے اور قریش اپنے آباء کی قسم کھاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا تم اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ۔
قَالَ وَلِلزُّهْرِيِّ نَحْوٌ مِنْ تِسْعِينَ حَدِيثًا يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ يُشَارِكُهُ فِيهِ أَحَدٌ بِأَسَانِيدَ جِيَادٍ .
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو تم میں سے قسم کھائے اور اپنی قسم میں کہے لات کی قسم وہ لاالہ الاّ اللہ کہے (کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں ) اور جو شخص اپنے دوست سے کہے آؤ میں تم سے جؤا کھیلوں تو چاہئے کہ وہ صدقہ دے۔ ایک روایت میں (فَلْیَتَصَدَّقْ کی بجائے) فَلْیَتَصَدَّقْ بِشَیئٍ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں (مَنْ حَلَفَ مِنْکُمْ فَقَالَ فی حَلِفِہِ باِللَّات کی بجائے) مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالعُزَّی کے الفاظ ہیں۔ ابوالحسین مسلم کہتے ہیں کہ یہ الفاظ تَعَالَ اُقَامِرْکَ فَلْیَتَصَدَّقْ زہری کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کئے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کی خدمت میں اشعر ی لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ آیا ہم آپؐ سے سواریوں کی درخواست کر رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ ہی میرے پاس کوئی (سواری)ہے جس پر میں تمہیں سوار کراؤں۔ وہ کہتے ہیں ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے۔ پھر آپؐ کے پاس کچھ اونٹ لائے گئے۔ آپؐ نے ہمارے لئے سفید کوہان والے تین اونٹ دینے کا ارشاد فرمایا جب ہم چلنے لگے ہم نے کہایا ہم نے ایک دوسرے سے کہا اللہ اس میں ہمارے لئے برکت نہیں ڈالے گا۔ ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں سواری طلب کرنے آئے۔ حضورؐ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے۔ پھر آپؐ نے سواری عطا فرمادی۔ چنانچہ وہ حضورؐ کے پاس آئے اور آپؐ کو یہ بات بتائی۔ آپؐ نے فرمایا میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ سواری اللہ نے تمہیں دی ہے اور بخدامیں اگر اللہ چاہے کوئی قسم نہیں کھاتا پھر اس سے بہتر کوئی بات دیکھتاہوں تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور وہ کرتا ہوں جو بہتر ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُهُ لَهُمُ الْحُمْلاَنَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ - وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ - فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ . فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَىْءٍ . وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلاَ أَشْعُرُ فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَىَّ فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أَلْبَثْ إِلاَّ سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلاَلاً يُنَادِي أَىْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ . فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُوكَ . فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ - لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ - فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ - أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلاَءِ فَارْكَبُوهُنَّ . قَالَ أَبُو مُوسَى فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي بِهِنَّ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلاَءِ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ سَأَلْتُهُ لَكُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ثُمَّ إِعْطَاءَهُ إِيَّاىَ بَعْدَ ذَلِكَ لاَ تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ . فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ . فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوُا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى سَوَاءً .
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے ساتھیوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھجوایا کہ میں آپؐ سے سواری مانگوں جب وہ آپؐ کے ساتھ جیش العسرۃ یعنی غزوئہ تبوک میں تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! میرے ساتھیوں نے مجھے آپؐ کے پاس بھیجاہے تاکہ آپؐ انہیں سواری عطا فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سواری کے لئے کچھ نہیں دے سکتا۔ اور میں آپؐ سے مِلا اور آپؐ ناراض تھے اور مجھے پتہ نہیں چلا میں رسول اللہﷺ کے نہ دے سکنے کی وجہ سے غمزدہ واپس لوٹا اور اس ڈر سے بھی کہ رسول اللہﷺ اپنے دل میں مجھ سے ناراض نہ ہوں میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس آیا اور انہیں بتایا جو رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا۔ میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ میں نے سنا کہ بلالؓ مجھے پکار رہے ہیں اے عبد اللہ بن قیس! میں نے انہیں جواب دیا۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو، حضورؐ تمہیں یاد فرمارہے ہیں۔ میں جب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے ان چھ اونٹوں کے بارہ میں جو آپؐ نے اس وقت سعدؓ سے خریدے تھے فرمایایہ جوڑی اور یہ جوڑی اور یہ جوڑی لے لو اور ان کو اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ اللہ یا فرمایا اللہ کا رسولﷺ تمہیں یہ سواریاں دیتے ہیں اور ان کو سواری کے لئے استعمال کرو۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں میں ان کو لے کراپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے تمہیں یہ سواری کے لئے دئیے ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم !میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں یہانتک کہ تم میں سے کو ئی میرے ساتھ ان لو گوں کے پاس چلے جنہوں نے رسول اللہﷺ کی بات سنی تھی جب میں نے تمہارے لئے آپؐ سے سوال کیا تھا اور آپؐ کا پہلی مرتبہ نہ دینا اور پھر بعد میں مجھے دے دینا (سنا اور دیکھا تھا۔)یہ نہ سمجھ لینا کہ میں نے تم سے کوئی ایسی بات کہی ہے جو رسول اللہﷺ نے نہیں فرمائی تھی۔ انہوں نے کہابخداآپ ہمارے نزدیک قابلِ اعتبار ہیں مگر پھر بھی ہم وہ ضرور کریں گے جو آپؓ چاہتے ہیں۔ پھر حضرت ابو موسیٰ ؓ اپنے ساتھ ان میں سے بعض لوگوں کو لے کر چلے یہانتک کہ ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہﷺ کی وہ بات اور آپؐ کا ان کو دینے سے انکار اور پھر بعدمیں آپؐ کا انہیں دے دینے کا سنا تھا۔ چنانچہ ان لوگوں نے بھی انہیں بالکل وہی بات بتائی جیسا کہ ابو موسیٰؓ نے انہیں بتائی تھی۔
ابو قِلابہ کہتے ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ ؓ کے پاس تھے انہوں نے اپنا دستر خوان لگوایا جس پر مرغ کا گوشت تھا۔ بنی تیم اللہ میں سے ایک شخص جو سرخ رنگ کاتھا آیا جوآزاد کردہ غلاموں سے ملتا جلتا تھا۔ انہوں نے اسے کہا آجاؤ۔ وہ ٹھٹکا۔ انہوں نے کہا آجاؤ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہامیں نے اسے کچھ چیز کھاتے دیکھا ہے جس کی وجہ سے مجھے اس سے کراہت آئی اور میں نے قسم کھائی کہ میں یہ نہیں کھاؤنگا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کہا آؤ میں اس بارہ میں تمہیں حدیث سناؤں میں اشعری قبیلہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا ہم آپؐ سے سواری کے طالب تھے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ ہی میرے پاس کوئی(سواری) ہے جو میں دوں۔ کچھ دیر جب تک اللہ نے چاہاہم ٹھہرے پھر رسول اللہﷺ کے پاس مالِ غنیمت کے کچھ اونٹ آئے۔ آپؐ نے ہمیں بلایااور ہمیں سفید کوہان والے پانچ اونٹ دینے کاارشاد فرمایا۔ جب ہم چلے تو ہم میں سے کسی نے کہا کہ ہم نے رسول اللہﷺ سے آپؐ کی قسم کا ذکر نہیں کیاہمارے لئے ان میں برکت نہ ہوگی۔ ہم رسول اللہﷺ کے پاس واپس گئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! ہم آپؐ کے پاس سواری مانگنے آئے تھے اور آپؐ نے قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمیں کوئی سواری نہ دیں گے۔ پھر آپؐ نے ہمیں سواری عطا کردی ہے۔ یا رسولؐ اللہ !کیا آپؐ بھول گئے؟ آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اگر اللہ چاہے تو کوئی قسم نہیں کھا تا مگر پھر کوئی اور بات اس سے بہتر دیکھتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہے اور قسم کھول دیتا ہوں پس تم جاؤ تمہیں اللہ نے سواری عطا فرمائی ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ جَرْم قبیلہ کی اس شاخ اور اشعریوں کے درمیان مودّت اور بھائی چارہ کا تعلق تھا اور ہم حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری کے پاس تھے اور ان کو کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغ کا گوشت تھا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ راوی زَہدَم جَرْمی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ ؓ کے پاس آیا اور وہ مرغ کا گوشت کھا رہے تھے۔ باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ (حضورﷺ نے) فرمایاتھا کہ خدا کی قسم میں اسے (اپنی قسم کو) بھولا نہیں۔
. ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ
يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مُشَاةً فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ . بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
زَھدم سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس آپؐ سے سواری مانگنے آئے۔ آپؐ نے فرمایا میرے پاس کچھ نہیں جو میں تمہیں سواری کے لئے دوں۔ اللہ کی قسم میں تمہیں سوارنہیں کرا سکتا۔ پھر آپؐ نے ہمیں سفیدو سیاہ کوہان والے تین اونٹ بھجوائے۔ ہم نے کہا ہم رسول اللہﷺ کے پاس سواری لینے آئے تھے۔ آپؐ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے پھر ہم آپؐ کے پاس آئے اور آکر آپؐ کوبتایا۔ آپؐ نے فرمایا میں کوئی قسم نہیں کھاتا مگر جب دوسری بات کو اس سے بہتر دیکھتا ہوں تو وہ کرتا ہوں جو زیادہ بہتر ہو۔
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ہم پیدل تھے ہم اللہ کے نبیﷺ کے پاس سواری مانگنے آئے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نبیﷺ کے پاس رات دیر تک رہا۔ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس آیا توبچوں کو سوتے پایا۔ اس کی بیوی اس کے پاس اس کا کھانا لائی۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ اپنے بچوں (کے نہ کھانے) کی وجہ سے کھانا نہیں کھائے گا۔ پھر اس کی رائے بنی تو اس نے کھانا کھا لیا۔ پھر رسول اللہﷺ کے پاس آکر اس واقعہ کا ذکر کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس کے برعکس بات کو بہتر جانا تو وہ اسے کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔