بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 39 hadith
حضرت عمرانؓ بن حصین سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت اللہ کے نبیﷺ کے پاس آئی جو زنا سے حاملہ تھی۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبیؐ ! میں نے حدکے واجب ہونے کا کام کیا ہے۔ آپؐ مجھ پر حدلگائیں۔ اللہ کے نبیﷺ نے اس کے ولی کو بلایا اور فرمایا اس سے حسنِ سلوک کرنا پھر جب یہ بچہ جن لے تو اسے میرے پاس لے آنا اس نے ایسا ہی کیا۔ نبیﷺ نے اس کے بارہ میں ارشاد فرمایا۔ اس کے کپڑے اس پرلپیٹ دیئے گئے پھر آپؐ نے اس کے بارہ میں حکم دیا تو اسے رجم کردیا گیا۔ پھر آپؐ نے اس کی نمازِ (جنازہ) پڑھائی۔ حضرت عمرؓ نے آپؐ سے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! آپؐ اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے ہیں؟ حالانکہ اس نے زنا کیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر وہ اہلِ مدینہ کے ستر لوگوں میں تقسیم کی جائے تو ضرور ان کے لئے کافی ہوجائے اور کیا تم نے اس سے بہتر کوئی توبہ دیکھی کہ اس نے اپنی جان اللہ تعالیٰ کی خاطر قربان کردی۔
حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت زیدؓ بن خالدجہنی سے روایت ہے وہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ بادیہ نشینوں میں سے ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کی یا رسولؐ اللہ ! میں آپؐ کو اللہ کی قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ میرے لئے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجئے۔ دوسرے فریق نے کہا جو پہلے سے زیادہ سمجھدار تھا ہاں یا رسولؐ اللہ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجئے اور مجھے اجازت دیجئے، تو رسول اللہﷺ نے فر مایا کہو، اس نے کہا میرا بیٹا اس کے پاس مزدور تھا اُس نے اِس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا اور مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے کے لئے سنگساری کی سزا ہے اور میں نے اس کی طرف سے ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیہ دے کر اسے چھڑایا پھر میں نے اہلِ علم سے پوچھا انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو دُرّے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس شخص کی بیوی پر رجم ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ لونڈی اور بکریاں واپس کی جائیں اور تمہارے بیٹے پر سو دُرّے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔ اے انیسؓ صبح تم اِس(شخص)کی بیوی کے پاس جاؤ۔ اگر وہ اعتراف کرے تو اُسے رجم کردو۔ راوی کہتے ہیں پس وہ صبح اُس کے پاس گئے۔ اس نے اعتراف کیا۔ رسول اللہﷺ نے اُس کے بارہ میں حکم دیا اور وہ رجم کی گئی۔
نافع سے روایت ہے کہ انہیں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت لائے گئے جو زنا کے مرتکب ہوئے تھے۔ رسول اللہﷺ روانہ ہوئے یہانتک کہ یہود کے پاس آئے اور فرمایا جو زنا کرے، اس پر توریت میں تم اس کی کیا(سزا) پاتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم ان دونوں کے منہ کالے کرتے ہیں اور ان دونوں کوسوار کرتے ہیں اور ان دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے مخالف سمت کرتے ہیں اور ان دونوں کو پھرایا جاتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا توریت لے آؤ اگر تم درست بات کہہ رہے ہو۔ وہ توریت لے آئے اور اسے پڑھنے لگے یہانتک کہ جب وہ رجم کی آیت سے گذرے تو اس نوجوان نے جو پڑھ رہا تھا اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ دیا اور جو اس سے پہلے یا بعد تھا پڑھنے لگا۔ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے جو رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ آپؐ سے کہا اِسے کہیے کہ اپنا ہاتھ اُٹھائے۔ اُس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے نیچے رجم کی آیت تھی۔ رسول اللہﷺ نے ان دونوں کے بارہ میں حکم دیا اور وہ دونوں رجم کئے گئے۔ حضرت عبد اللہؓ بن عمرؓ کہتے ہیں میں ان میں شامل تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا اور میں نے اس (یہودی) مرد کو دیکھا کہ وہ اپنے وجودسے اس عورت کو پتھروں سے بچاتا تھا۔ ایک اور روایت حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ زنا (کے جرم) میں دو یہودیوں ایک مرد اور ایک عورت کو رجم کیاجنہوں نے زنا کیا تھا۔ یہودی ان دونوں کو لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہود رسول اللہﷺ کے پاس اپنے میں سے ایک مرد اور عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا لے کر آئے۔ باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے۔
حضرت براءؓ بن عازب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پا س سے ایک یہودی لے جایا جارہا تھاجس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اور (اسے) کوڑے لگائے جارہے تھے۔ آپﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا تم اپنی کتاب میں زنا کرنے والے کی یہی سزا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں پھر آپؐ نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر جس نے موسیٰؑ پر توریت اُتاری ہے پوچھتا ہوں کہ کیا تم اپنی کتاب میں زنا کی یہی سزا پاتے ہو؟اس نے کہا نہیں اور اگر آپؐ مجھے یہ قسم دے کر نہ پوچھتے تو میں آپؐ کو نہ بتاتا ہم اس میں رجم پاتے ہیں لیکن یہ(بدکاری) ہمارے معززلوگوں میں عام ہوگئی ہے۔ جب ہم معزز کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ہم کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد جاری کرتے۔ ہم نے کہا آؤ ہم کسی ایک چیز پر اتفاق کرلیں جسے ہم معزز اور حقیر پر قائم کریں تو ہم نے رجم کی بجائے منہ کا لا کرنا اور درے مقرر کیا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ ! میں وہ پہلا شخص ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کرتا ہوں جبکہ انہوں نے اسے ماردیا۔ پھر آپؐ نے اس شخص کے بارہ میں حکم دیا تو وہ رجم کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یٰاَیُّھَاالرَّسُوْلُ لَایَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ۔ ۔ ۔ ترجمہ: اے رسولؐ تجھے وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آیت کے اس ٹکڑے تک اِنْ اُوْتِیْتُمْ ھَذَا فَخُذُوْہُ وہ کہتے محمدﷺ کے پاس جاؤ اگر وہ تمہیں (مُنہ) کالا کرنے اور دُرّے لگانے کا حکم دیں تو قبول کر لو اور اگر تمہیں رجم کا فتوی دیں تو بچو۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت تمام کفار کے بارہ میں نازل فرمائی ترجمہ: اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ ہیں جو کافر ہیں۔ اور جو کوئی اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ ہیں جو ظالم ہیں اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ ہیں جوفاسق ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس کے بارہ میں حکم دیا اور وہ رجم کیا گیا اور اس میں اس کے بعد آیت کے اترنے کا ذکر نہیں کیا۔
ابو زبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ کو فرماتے سناکہ نبیﷺ نے اسلم (قبیلے) کے ایک شخص کو رجم کیا تھا اور یہود میں سے ایک مرداور اس کی عورت کورجم کیا تھا۔ ایک اور روایت میں (اِمْرَاَ تَہُکی بجائے) اِمْرَئَ ۃً کے الفاظ ہیں۔
ابواسحاق بن شیبانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہؓ بن ابی اوفیٰ سے پوچھا کیا رسول اللہﷺ نے رجم کیا؟ انہوں نے کہا ہاں۔ وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا سورۃ نور کے نازل ہونے کے بعد کیا یا اس سے پہلے؟ انہوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کی بدکاری ظاہر ہوجائے تو چاہئے کہ وہ اسے دُرّوں کی حد لگائے اور اس کو طعن و تشنیع نہ کرے، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے دُرّوں کی حد لگائے اور اس کو طعن و تشنیع نہ کرے، پھر اگر وہ تیسری مرتبہ زنا کرے اور اس کا زنا ظاہر ہوجائے تو وہ اسے بیچ دے خواہ بالوں کی ایک رسی کے عوض میں۔ ایک اور روایت میں (اِنْ زََنَتِ الثَّالِثَۃَ فَتَبَیَّنَ زِنَاھَا فَلْیَبِعْھَاکی بجائے) اِذَا زَنَتْ ثَلَا ثاً ثُمَّ لِیَبِعْھَا فِی الرَّابِعَۃِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے اس لونڈی کے بارہ میں پوچھا گیا جس کی شادی نہ ہوئی ہو اور وہ زنا کی مرتکب ہو۔ آپؐ نے فرمایا اگر وہ زنا کرے توا سے دُرّے مارو پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے دُرّے مارو پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے دُرّے ماروپھر اسے بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ (بیچنے کا حکم) تیسرے کے بعد یا چوتھے کے بعد ہے۔ قعنبی اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے الضَّفِیْرُ: الْحَبْلُ کہااَلضَّفِیْر کے معنے رسی کے ہیں۔ عبداللہ بن عتبہ حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ جہنی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے لونڈی کے بارہ میں سوال کیا گیا مگر اس روایت میں ابن شھاب کے اس قول الضَّفِیْرُ الْحَبْلُ کا ذکر نہیں کیا ایک اور روایت میں (أَبَعْدَ الثَّالِثَۃِ اَوِ الرَّابِعَۃِ کی بجائے) فِی بَیْعِھَافِی الثَّالِثَۃِ اَوِالرَّابِعَۃِکے الفاظ ہیں۔
ابو عبد الرحمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! اپنے ان غلاموں پر جو شادی شدہ ہیں اور ان پر بھی جو غیر شادی شدہ ہیں حد قائم کرو۔ رسول اللہﷺ کی ایک لونڈی زنا کی مرتکب ہوئی تو آپؐ نے مجھے ارشاد فرمایا تھا کہ میں اسے دُرّے لگاؤں تو معلوم ہوا کہ وضع حمل سے فارغ ہوئی ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے درے ما رے تو کہیں میں اسے قتل ہی نہ کردوں تومیں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا آپؐ نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا۔ ایک اور روایت میں مَنْ اَحْصَنَ مِنْھُمْ وَمَنْ لَمْ یُحْصِنْ کے الفاظ نہیں مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ اُتْرُکْھَا حتّٰی تَمَا ثَلَ یعنی اس کو چھوڑدویہانتک کہ وہ تندرست ہوجائے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپؐ نے اسے کھجور کی دو شاخوں سے قریباً چالیس مرتبہ مارا۔ وہ (حضرت انسؓ ) کہتے ہیں حضرت ابو بکرؓ نے بھی(اپنے عہدِ خلافت میں ) ایسا ہی کیا تھا۔ جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو آپؓ نے لوگوں سے مشورہ کیا حضرت عبد الرحمانؓ نے کہا کم سے کم حد اسّی ہے تو حضرت عمرؓ نے اسی کا حکم دیا۔ ایک روایت میں (أَنَّ النَّبِیَّﷺ أُتِیَ بِرَجُلٍ کی بجائے) اَتَی رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ بِرَجُلٍ کے الفاظ ہیں۔