بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 39 hadith
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ چور(کا ہاتھ) دینار کے چوتھے حصہ اور اس سے زیادہ میں کاٹتے تھے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ کاٹا نہ جائے مگر دینار کے چوتھے حصہ یا اس سے زائد میں۔
عَمرہؓ سے روایت ہے انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپؓ نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہاتھ کاٹا نہ جائے گامگر دینار کے چوتھے حصہ اور اس سے زائد پر۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حِصّہ یا زائد کے سوا نہ کاٹا جائے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہیں کاٹا جاتا تھاخواہ وہ ڈھال حجفۃ ہو یا تُرس٭ اور وہ دونوں قیمتی ہوتی تھیں۔ ایک اور روایت میں (وَکِلَاھُمَا ذُوْثَمَنٍ کی بجائے) وَھُوَ یَوْمَئِذٍ ذُوْثَمَنٍ کے الفاظ ہیں۔ ٭حجفۃ چمڑے سے بنی ہوئی ڈھال ہوتی تھی اور ترس لوہے کی ڈھال ہوتی تھی۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال کے عوض کاٹا تھا جس کی قیمت تین درھم تھی۔ بعض روایات میں قِیْمَتُہُ اور بعض روایات میں ثَمَنُہُکے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ لعنت کرے چور پر جو انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتاہے اور وہ رسی چراتاہے اور اس کاہاتھ کاٹاجاتاہے۔ ایک اور روایت میں (یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ اور یَسْرِقُ الحَبْلَ کی بجائے) اِنْ سَرَقَ حَبْلًا اور اِنْ سَرَقَ بَیْضَۃً کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ سے فکر پیدا ہوئی جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا اس کے بارہ میں کون رسول اللہﷺ سے بات کرے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کی رسول اللہﷺ کے محبوب اُسامہؓ کے سوا کون جرأت کر سکتا ہے۔ چنانچہ آپؐ سے اُسامہؓ نے بات کی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارہ میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ’’اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیاکہ جب ان میں سے کوئی معزز چوری کرتا تھا تو اُسے چھوڑ دیتے تھے اور جب اُن میں کوئی کمزور چوری کرتا تھا تو اُس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ ایک اور روایت میں (اِنَّمَا أَھْلَکَ الَّذِیْنَ قَبْلَکُمْ کی بجائے) اِنَّمَاھَلَکَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کے الفاظ ہیں۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ قریش کو اس عورت کے معاملہ نے فکر میں ڈالا جس نے نبیﷺ کے عہد میں غزوہ فتح (مکہ) میں چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا اس کے بارہ میں رسول اللہﷺ سے کون بات کرے گا؟تو انہوں نے کہا کہ اُسامہؓ بن زید کے سواجو رسول اللہﷺ کو محبوب ہے کون اس بات کی جرأت کر سکتا ہے۔ پس اس عورت کو رسول اللہﷺ کی خدمت میں لایا گیا اور اُسامہ بن زیدؓ نے اس کے بارہ میں آپؐ سے بات کی۔ رسول اللہﷺ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدود میں ایک حد کے بارہ میں سفارش کرتے ہو؟ حضرت اُسامہؓ نے آپؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے لئے اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ پھرجب شام ہوئی رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور خطاب فرمایا۔ آپؐ نے اللہ کی ثناء بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر فرمایا امّابعد تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ ان میں سے جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمدؐ نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ پھر آپؐ نے اس عورت کے بارہ میں جس نے چوری کی تھی حکم دیااور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں اس کے بعد اس کی توبہ بہت اچھی ہوئی اور اس نے شادی کرلی اس کے بعد وہ میرے پاس آیاکرتی تھی اور میں اس کی ضرورت رسول اللہﷺ تک پہنچاتی تھی۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت عائشہؓ نے فرمایا وہ ایک مخزومی عورت تھی جوعاریۃً سامان لیتی تھی اور پھر اس کا جانتے بوجھتے ہوئے انکار کردیتی تھی۔ رسول اللہﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو اس کے گھر والے حضرت اسامہؓ بن زید کے پاس آئے اور اُن سے گفتگو کی اور انہوں نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے بات کی۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔