بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 32 hadith
یحییٰ جو ابن سعید ہیں بُشَیر بن یسارسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سہل بن ابو حثمہؓ سے روایت ہے۔ راوی یحییٰ کہتے ہیں کہ میر اخیال ہے کہ انہوں (بشیر بن یسار) نے کہا حضرت رافع بن خد یج ؓ سے (بھی) مروی ہے کہ ان دونوں (حضرت سہل بن ابو حثمہؓ اور حضرت رافعؓ بن خد یج) نے کہا۔ حضرت عبداللہ بن سہلؓ بن زید اور مُحَیِّصہ بن مسعود بن زید دونوں (سفر پر) نکلے یہانتک کہ جب وہ دونوں خیبر پہنچے تو وہاں کسی جگہ الگ الگ ہوگئے پھر اچانک حضرت مُحَیِّصہؓ نے حضرت عبد اللہ بن سہلؓ کو مقتول پایا اور انہوں نے اسے دفن کردیا پھر وہ اور حضرت حُوَیِّصہؓ بن مسعود اور حضرت عبد الرحمانؓ بن سہل جو اُن میں سب سے چھوٹے تھے رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئے۔ عبد الرحمانؓ اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے بات کرنے لگے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا عمر میں بڑے کو موقعہ دو، تووہ خاموش ہوگئے۔ پھر اس کے ساتھیوں نے بات کی اور (حضرت عبدالرحمان بن سہلؓ ) ان دونوں کے ساتھ گفتگو میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے رسول اللہﷺ سے حضرت عبد اللہ بن سہلؓ کے قتل کا ذکر کیا۔ آپؐ نے اُن سے فرمایا کیا تم پچاس افراد قسمیں کھاتے ہوتو تم اپنے(مقتول کے) قاتل سے قصاص کے مستحق ہو جاؤ گے_راوی کہتے ہیں کہ آپؐ نے صَاحِبَکُمْ فرمایا یا فرمایا قَاتِلَکُمْ _ انہوں نے کہا ہم کیسے قسم کھائیں جب کہ ہم موجودنہیں تھے۔ آپؐ نے فرمایا پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا ہم کافر قوم کی قسمیں کیسے قبول کر لیں۔ رسول اللہﷺ نے جب یہ دیکھا تو آپؐ نے اس کی دیت ادا کردی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیریں کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔
حضرت سہل بن ابی حثمہؓ اور حضرت رافع ؓ بن خدیج سے روایت ہے کہ حضرت محیصہ بن مسعودؓ اورحضرت عبد اللہ بن سہلؓ خیبر کی طرف چلے پھر وہ کھجوروں (کے باغات) میں الگ ہوگئے۔ حضرت عبد اللہ بن سہل ؓ قتل کردئیے گئے۔ (اُن کے قبیلہ کے لوگوں ) نے یہود پر الزام لگایا۔ مقتول کے بھائی حضرت عبدالرحمانؓ اور ان کے چچا کے دو بیٹے حویصہؓ اور محیصہؓ نبیﷺ کے پاس آئے۔ حضرت عبد الرحمانؓ اپنے بھائی کے بارہ میں بات کرنے لگے اور وہ ان سب سے چھوٹے تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا بڑے کو موقعہ دو یا فرمایا کہ بڑا شروع کرے۔ پھر ان دونوں نے اپنے ساتھی (مقتول) کے بارہ میں بات کی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے پچاس (افراد) اُن میں سے کسی شخص کے خلاف قسم کھائیں تو وہ اپنی رسی کے ساتھ (مقتول کے ولی) کے سپرد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے ہم عینی شاہدنہیں ہیں تو ہم قسم کیسے کھائیں؟ آپؐ نے فرمایاپھر اُن میں سے یہودی پچاس افراد کی قسموں کے ذریعہ تم سے بری ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! یہ کافر قوم ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔ حضرت سہلؓ کہتے ہیں میں ایک دن ان کے اونٹوں کے باڑہ میں داخل ہوا۔ ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے پاس سے اسے دیت ادا کردی اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
بُشَیربن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سہلؓ بن زید اور محیصہؓ بنمسعود بن زید جودونوں انصاری تھے اور بنی حارثہ میں سے تھے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں خیبر گئے۔ ان دنو ں خیبر سے صلح ہوچکی تھی اور وہاں یہودی رہتے تھے وہ دونوں اپنے اپنے کام کیلئے الگ ہوئے۔ حضرت عبد اللہ بن سہل ؓ قتل کردئیے گئے۔ وہ کھجور کے درخت کے نیچے حوض میں مقتول پائے گئے۔ ان کے ساتھی نے انہیں دفن کردیا اور مدینہ آگئے۔ مقتول کے بھائی حضرت عبدالرحمانؓ بن سہل اور محیصہؓ اور حویصہؓ آئے اور رسول اللہﷺ سے عبد اللہؓ کا واقعہ اور جہاں وہ قتل کیا گیا تھا بیان کیا۔ راوی بُشَیرنے بیان کیا اور وہ رسول اللہﷺ کے ان صحابہؓ سے روایت کرتے ہیں جن سے وہ ملے تھے کہ حضورؐ نے ان سے فرمایا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے اور اپنے (مقتول کے) قاتل سے قصاص کے مستحق ہوجاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپؐ نے قَاتِلَکُمْفرمایا یا فرمایا صَاحِبَکُمْ _ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! نہ ہم نے یہ واقعہ دیکھا نہ ہم (وہاں ) موجود تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ آپؐ نے فرمایا پھر یہودی پچاس قسموں کے ذریعہ تم سے بری ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! ہم کافروں کی قوم کی قسمیں کیسے قبول کریں۔ بُشَیر نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ انصارؓ میں سے ایک شخص جو بنو حارثہ میں سے تھا جسے عبد اللہ بن سہلؓ بن زید کہتے تھے، وہ اور اس کا چچا زاد جس کا نام محیصہؓ بن مسعود بن زید تھا (سفر) پر چلے پھر انہوں نے لیث کی روایت کی طرح یہانتک روایت بیان کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔ یحییٰ کہتے تھے کہ مجھے بُشَیرنے بتایا کہ مجھے حضرت سہل بن ابی حثمہؓ نے خبر دی کہ ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے باڑہ میں مجھے لات ماری تھی۔ ایک اور روایت میں ہے سہل بن ابی حثمہؓ نے بتایا کہ دیت کی ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے باڑہ میں مجھے لات ماری تھی۔ اور ایک اور روایت میں ہے کہ سہل بن ابی حثمہ انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کے کچھ لوگ خیبر گئے۔ وہاں جاکر الگ ہوگئے۔ ان میں سے ایک کو انہوں نے مقتول پایا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ اور اس میں راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ناپسند فرمایاکہ اس کا خون رائیگاں جائے۔ پھر آپؐ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے اس کی سو اونٹ دیت دی۔
ابو لیلی عبداللہ بن عبدالرحمان بن سہلؓ نے بیان کیا کہ حضرت سہل بن ابی حثمہؓ نے انہیں اپنی قوم کے بڑوں سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت عبداللہؓ بن سہل اور حضرت محیصہؓ اپنی کسی مشکل کی وجہ سے جو انہیں پہنچی تھی خیبر گئے پھر حضرت محیصہ ؓ آئے اور انہوں نے بتایا کہ حضرت عبد اللہؓ بن سہل کوقتل کر دیا گیا ہے اور ان کو ایک چشمہ یا گڑھے میں پھینکا گیا وہ یہود کے پاس آئے اور کہا اللہ کی قسم تم نے اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ آئے اور اپنی قوم کے پاس پہنچے اور ان سے یہ ذکر کیا۔ پھر وہ اور اس کے بھائی حضرت حویصہؓ جو اُن سے بڑے تھے اور عبد الرحمان بن سہل آئے حضرت محیصہؓ بات کرنے لگے اور یہ وہ ہیں جو خیبر گئے تھے۔ رسول اللہﷺ نے محیصہؓ سے فرمایا بڑے کو، بڑے کو بات کرنے دو آپؐ کی مراد عمر کے لحاظ سے تھی۔ پھر حضرت حویصہؓ نے بات کی پھر حضرت محیصہؓ نے گفتگو کی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت دیں یا اعلانِ جنگ کریں۔ رسول اللہﷺ نے اس بارہ میں انہیں لکھا تو انہوں نے (جواب میں ) لکھا اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ رسول اللہﷺ نے حضرت حویصہؓ حضرت محیصہؓ اور حضرت عبدالرحمانؓ سے فرمایاکیا تم قسم کھاتے ہو اور (اس طرح) تم اپنے (مقتول کے) قاتل کے خون کے حقدار ہوجاؤ گے۔ انہوں نے کہا نہیں آپؐ نے فرمایا پھر یہودی تمہارے بالمقابل قسم کھائیں گے۔ انہوں نے کہا وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ پھر رسول اللہﷺ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا فرمائی اور رسول اللہﷺ نے ان کی طرف سو اونٹنیاں بھیجیں جو اُن کی حویلی میں داخل کی گئیں۔ سہل کہتے ہیں ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہؓ کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار رسول اللہﷺ کے انصار صحابہؓ میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے قسامت کا وہی طریق جیسے وہ اسلام سے قبل قائم تھا قائم رکھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے اسی (قسامت کے طریق) کے مطابق انصار کے مقتول کے بارہ میں فیصلہ فرمایاجس کا انہوں نے یہود پر دعویٰ کیا تھا۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس مدینہ آئے۔ اس کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی۔ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو صدقہ کے اونٹوں میں چلے جاؤ اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور صحت مند ہو گئے پھر انہوں نے چرواہوں پر حملہ کیا اور انہیں قتل کردیا اور اسلام سے مرتد ہو گئے اور رسول اللہﷺ کی اونٹنیاں ہانک کر لے گئے۔ رسول اللہﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپؐ نے ان کے تعاقب میں لوگ بھیجے۔ انہیں لایا گیا۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیری اور انہیں حَرّہ(کے میدان) میں چھوڑ دیا یہانتک کہ وہ مر گئے ٭۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام پر آپؐ کی بیعت کی۔ ان کو علاقہ کی آب وہوا موافق نہیں آئی۔ ان کے جسم بیمار ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپؐ نے فرمایاتم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں کیوں نہیں چلے جاتے تاکہ تم ان کے پیشاب اور دودھ پیو۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں پس وہ چلے گئے اور انہوں نے ان اونٹوں کے پیشاب اور دودھ پیئے اور وہ صحت مند ہو گئے۔ پھرانہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ رسول اللہﷺ کو یہ اطلاع پہنچی تو آپؐ نے ان کے تعاقب میں لوگ بھیجے۔ وہ پکڑے گئے، اُنہیں لایا گیا۔ آپؐ نے ان کے بارہ میں حکم دیا اُن کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں پھر اُنہیں دھوپ میں ڈالا گیا یہانتک کہ وہ مر گئے ایک اور روایت میں (طَرَدُوا لْاِبِلَ کی بجائے) اَطْرَدُوْالنَّعَمَکے الفاظ ہیں اور (سُمِرَ اَعْیُنُھُمْ کی بجائے) سُمِّرتْ اَعْیُنُھُمْ کے الفاظ ہیں۔ حضرت انسؓ بن مالک کی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس عکل یا عرینہ کی قوم کے لوگ آئے اور انہیں مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی۔ رسول اللہﷺ نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں میں جانے کا ارشادفرمایا اور آپؐ نے انہیں فرمایا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ مزید ہے کہ ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری گئیں اور ان کو حرہ میں ڈال دیا گیا وہ پانی مانگتے تھے مگر ان کو پانی نہ دیاجاتا۔ ابوقلابہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے پیچھے بیٹھا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا تم قسامت کے بارہ میں کیا کہتے ہو؟ عنبسہ نے کہا کہ حضرت انسؓ بن مالک نے ہم سے یہ یہ بیان کیا۔ میں (ابو قلابہ) نے کہامجھ سے حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ نبیﷺ کے پاس ایک قوم آئی۔ پھر باقی روایت انہوں نے راوی ایوب اور حجاج کی طرح بیان کی۔ ابو قلابہ کہتے ہیں جب میں فارغ ہوا تو عنبسہ نے کہا سبحان اللہ۔ ابو قلابہ کہتے ہیں میں نے کہا اے عنبسہ ! کیا آپ مجھ پر تہمت لگا رہے ہیں انہوں نے کہا نہیں ہم سے بھی حضرت انسؓ بن مالک نے اسی طرح بیان کیا تھا اے اہل شام! تم اس وقت تک بھلائی میں رہو گے جب تک تم میں یہ یا اس جیسا شخص موجود ہے۔ ایک اور روایت میں (أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُکْلٍ ثَمَانِیَۃً قَدِمُوْا عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ کی بجائے) قَدِمَ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ ثَمَانِیَۃُ نَفَرٍ مِنْ عُکْلٍ کے الفاظ ہیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں یہ مزید ہے کہ ان کا خون روکنے کے لئے ان کے زخموں کو داغا نہیں گیا تھا۔ ایک اور روایت حضرت انسؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ آئے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور آپؐ کی بیعت کی۔ مدینہ میں ان دنوں وباء پیدا ہوگئی جسے برسام٭ کہتے ہیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپؐ کے پاس انصارؓ کے بیس کے قریب نوجوان تھے جن کو آپؐ نے اُن کی طرف بھیجا اور ان کے ساتھ ایک کھوجی بھیجا جو اُن کے پاؤں کے نشان تلاش کرتا جاتا تھا۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ ایک یہود ی نے ایک لڑکی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا۔ اس نے اسے پتھر سے قتل کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں اس لڑکی کو نبیﷺ کے پاس لایا گیا اور اس میں ابھی جان باقی تھی۔ آپؐ نے اس سے پوچھا کیا فلاں شخص نے تجھے قتل کیا ہے؟تو اس نے سر سے اشارہ کیا کہ نہیں پھر آپؐ نے دوسری بارایک اور نام لے کراُس سے پوچھا تو اس نے سر سے اشارہ کیا کہ نہیں۔ پھر آپؐ نے اس سے تیسری دفعہ(ایک اور نام لے کر) پوچھا تو اس نے کہا ہاں اور اس نے سر سے اشارہ کیا۔ اس پررسول اللہﷺ نے اس (یہودی) کو دو پتھروں سے قتل کروادیا. ایک اور روایت میں (قَتَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ بَیْنَ حَجَرَیْنِکی بجائے) فَرَضَخَ رَاْسَہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ کے الفاظ ہیں یعنی اس یہودی کا سردو پتھروں کے درمیان کچلا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک شخص نے انصار کی ایک لڑکی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا پھر اس کو ایک گڑھے میں پھینک دیا اور اس نے اس کا سر پتھر سے کُچل دیاتھا وہ پکڑا گیا اور رسول اللہﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپؐ نے اس کے بارہ میں حکم دیا کہ اسے سنگسار کیا جائے یہانتک کہ وہ مرجائے پس اسے سنگسار کیا گیا یہانتک کہ وہ مر گیا۔