بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 129 hadith
ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت سہلؓ بن حنیف سے صفین میں سنا وہ کہتے تھے اپنی رائے کو اپنے دین کے بارہ میں متہم کرو میں اپنے آپ کو ابو جند ل ؓ والے دن دیکھتا ہوں اگر میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کو رد کر سکتا( تو اس دن کرتا )۔ اور اب ہم کوئی پہلو نہیں کھولتے کہ اس میں سے کوئی اور پہلو پھوٹ پڑتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا۔ وہ کہتے ہیں جب یہ آیت اُتری یقینا ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح عطا کی ہے تاکہ اللہ تیری خاطر مغفرت کا سامان فرمائے۔اور اللہ کے قول (فَوْزًا عَظِیْمًا) تک۔ (الفتح2تا6)آپؐ حدیبیہ سے لوٹ رہے تھے اور انہیں (صحابہؓ کو) بہت رنج و غم تھا اور آپؐ نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کی تھی ۔آپؐ نے فرمایا مجھ پر یہ آیت اُتری ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے ۔
حضرت حذیفہ ؓ بن یمان بیان کرتے ہیں مجھے بدر میں شامل ہونے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں اور میرا باپ حُسیل ؓنکلے وہ کہتے ہیں ہمیں قریش کے کافروں نے پکڑا انہوں نے کہا تم محمد(ﷺکے پاس جانے )کا ارادہ رکھتے ہو۔ہم نے کہا ہم آپؐ کے پاس نہیں جارہے بلکہ ہماراارادہ مدینہ کا ہے ۔ انہوں نے ہم سے اللہ کا عہد اور اس کا پختہ وعدہ لیاکہ ہم مدینہ جائیں گے اور آپ کے ساتھ مل کر جنگ نہیں کریں گے ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ہم نے آپؐ کو یہ بات بتائی۔آپؐ نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان سے ان کاعہد پورا کریں گے اور ان کے معاملہ میں اللہ سے مدد چاہیں گے۔
ابراہیم التیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم حضرت حذیفہؓ کے پاس تھے کہ ایک شخص نے کہا اے کاش میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوتا اور آپؐ کی معیت میں جنگ کرتا اوراپنے جوہر دکھاتا۔حضرت حذیفہؓ نے کہا تم ایسا کرتے ؟ میں نے دیکھا کہ ہم لوگ احزاب کی رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ تیزہوا اور شدید ٹھنڈ نے ہمیں آپکڑا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی شخص ہمارے پاس (دشمن) قوم کی خبر لائے گا۔ اللہ تعالیٰ (ایسے شخص کو) قیامت کے دن میرے ساتھ رکھے گا۔ ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا آپؐ نے پھر فرمایا کیا کوئی شخص ہے؟ جو ہمارے پاس (دشمن) قوم کی خبر لائے ؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن (ایسے شخص کو) میرے ساتھ رکھے گا۔ ہم خاموش رہے ۔ اور ہم میں سے کسی نے جواب نہ دیا پھر آپؐ نے( تیسری مرتبہ )فرمایا کیا کوئی شخص ہے جو ہمارے لئے دشمن قوم کی خبر لائے ۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن (ایسے شخص کو ) میرے ساتھ رکھے گا۔ ہم خاموش رہے۔ آپؐ نے فرمایا اے حذیفہؓ ! تم اُٹھو اور ہمارے پاس (دشمن ) قوم کی خبر لاؤ۔اب میرے لئے کھڑے ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا جبکہ آپؐ نے میرا نام لے کر مجھے پکارا تھا۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ اور (دشمن ) قوم کی خبر لے کر آؤ۔ انہیں میرے خلاف انگیخت نہ کر بیٹھنا۔جب میں آپؐ کے پاس سے چلا تو گویا میں حمام میں چل رہا ہوں (یعنی سردی کا احساس نہ تھا) یہانتک کہ میں ان کے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ابو سفیان اپنی کمر کو آگ سے سینک رہا ہے ۔ میں نے تیر کمان میں چڑھایا اور اسے مارنے کا ارادہ کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد یاد آگیا کہ انہیں میرے خلاف انگیخت نہ کر بیٹھنا۔ اگر میں اسے تیر مارتا تو اسے ضرور لگتا ۔ پس میں لوٹا اور گویا میں حمام میں چل رہا تھا۔ جب میں آپؐ کے پاس پہنچا تو آپؐ کو (دشمن)قوم کی حالت بتائی اور جب فارغ ہوا تو سردی محسوس کی۔ جس پر رسول اللہ ﷺ نے ایک اورعباء جسے لے کر آپؐ نماز ادا فرماتے تھے مجھے اوڑھا دی۔ میں صبح تک سوتا رہا جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایا اے سونے والے اُٹھ ٭۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ احد کے دن فقط سات انصار اور قریش کے دو آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے ، جب انہوں(دشمن) نے آپؐ پر حملہ کیا تو آپؐ نے فرمایا انہیں ہم سے کون دور کرے گا ؟اور اس کے لئے جنت ہے یا (فرمایا ) وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور لڑا یہانتک کہ شہید ہوگیا انہوں نے پھر آپؐ پرحملہ کیا ۔آپؐ نے فرمایا انہیں ہم سے کون ہٹائے گا ؟ اور اس کے لئے جنت ہے یا( فرمایا) وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا ۔ انصارؓ میںسے پھر ایک شخص آگے بڑھا اور لڑا یہانتک کہ وہ شہید ہوگیا اور اسی طرح ہوتا رہا یہانتک کہ سات اشخاص شہید ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دو ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔
عبد العزیز بن ابو حازم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سہل ؓ بن سعد سے سنا ان سے احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے زخمی ہونے کے بارہ میں پوچھا گیا انہوں نے بتایا۔ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا اور آپؐ کا سامنے کا دانت مبارک ٹوٹ گیا اور آپؐ کے سر پر جو خَود تھا ٹوٹ گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ خون دھوتی تھیں اور حضرت علیؓ بن ابی طالب ڈھال سے اس پر پانی ڈالتے تھے ۔جب حضرت فاطمہؓ نے دیکھا کہ پانی سے اور زیادہ خون نکلتا ہے توانہوں نے چٹائی کا ٹکڑا لیا اسے جلایا یہانتک کہ وہ راکھ ہوگیا۔ پھر اسے زخم پر لگایاتو خون رُک گیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابو حازم نے حضرت سہلؓ بن سعد کو اس وقت جبکہ ان سے رسول اللہ ﷺ کے زخمی ہونے سے متعلق پوچھا جارہا تھاسنا ۔ اللہ کی قسم ! میں اس کوخوب جانتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ کا زخم دھورہا تھا اورجو پانی ڈال رہا تھا اور جس چیز سے آپؐ کے زخم کا علاج کیا گیا ۔باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپؐ کا چہرہ زخمی کیا گیا اور انہوں نے ھَُشِمَتْ کی بجائے کُسِرَتْ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ ایک اور روایت میں(جُرِحَ وَجْہُہُ کی بجائے ) أُصِیْبَ وَجْہُہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کاسامنے کا دانت ٹوٹ گیا اور آپؐ کا سر زخمی ہوا اور اس سے خون نکلنے لگا ۔ آپؐ فرماتے تھے وہ قوم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جنہوں نے اپنے نبی کو زخمی کیا اور اس کا دانت توڑا جبکہ وہ انہیں اللہ طرف بلاتاہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تیرے پاس کچھ اختیار نہیں٭۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں گو یا میں رسول اللہ ﷺ کو ایک نبی کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جنہیں ان کی قوم نے مارا تھا اور وہ اپنے چہرہ سے خون صاف کر رہے تھے اور یہ دعا کر رہے تھے اے میرے رب ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ جانتے نہیں ۔ ایک اور روایت میں (وَھُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْھِہِ کی بجائے ) فَہُوَ یَنْضِحُ الدَّمَ عَنْ جَبِیْنِہِ کے الفاظ ہیں۔
ھمام بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ وہ روایات ہیں جو ہمارے پاس حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کی ہیں ۔ انہوںنے احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا شدید غضب اس قوم پرہوا جس نے اللہ کے رسول ﷺکے ساتھ ایسا کیا ہے اور آپؐ اس وقت اپنے دانت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس شخص پر اللہ کا شدیدغضب ہوا جسے اللہ کا رسول ؐ اللہ عزّ وّجل کی راہ میں قتل کرے ۔
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اس اثناء میں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل اور اس کے ساتھی بیٹھے تھے۔ ایک دن پہلے ایک اونٹنی ذبح کی گئی تھی ۔ ابو جہل نے کہا تم میں سے کون ہے جو بنی فلاں کی اونٹنی کی بچہ دانی جاکر لے آئے۔ اور اسے جب محمد (ﷺ) سجدے میں جائیں۔ آپؐ کے کندھوں پر ڈال دے۔ توقوم کا بد بخت ترین آدمی اُٹھا اور وہ لے آیا۔ جب نبی ﷺ نے سجدہ کیا تو اس نے وہ آپؐ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی ۔ راوی کہتے ہیںوہ تضحیک کرنے لگے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے اور میں کھڑا دیکھ رہا تھا کاش مجھے طاقت ہوتی تو اسے رسول اللہ ﷺ کی پشت سے ہٹا دیتا ۔ نبی ﷺ سجدہ میں تھے ۔ آپؐ اپنا سر نہیں اُٹھاتے تھے ۔ یہانتک کہ ایک شخص گیا اوراُس نے حضرت فاطمہؓ کو بتایا وہ آئیں اور وہ چھوٹی لڑکی تھیں اور انہوں نے اسے آپؐ سے اتار پھینکا۔ پھر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں اور انہیں برا بھلاکہا جب نبی ﷺنے اپنی نماز ختم کی تو آپؐ نے بلند آواز سے ان کے خلاف دعا کی اور جب آپؐ دعا کرتے تو تین مرتبہ دعا کرتے اور جب (اللہ سے )مانگتے تو تین مرتبہ مانگتے ۔ پھر آپؐ نے تین مرتبہ کہااے اللہ! توقریش پر گرفت کر۔ جب انہوں نے آپؐ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی جاتی رہی اور وہ آپؐ کی دعا سے خائف ہوگئے ۔پھر آپؐ نے دعا کی اے اللہ ! تو ابو جہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عقبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط پرگرفت کر ،آپؐ نے ساتویں کا ذکر کیا مگر میں اسے یاد نہیں رکھ سکا ۔ پس اس کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے ان لوگوں کو جن کے آپؐ نے نام لئے تھے بدر کے دن گرے ہوئے دیکھا پھر انہیں بدر کے گڑھے میں لے جاکر ڈال دیا گیا ۔ ابواسحاق کہتے ہیں کہ اس روایت میں ولید بن عقبہ کے نام میں غلط فہمی ہے۔