بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت عمر بن ابی سلمہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے پوچھاکیاروزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟ آپؐ نے اسے فرمایایہ ام سلمہؓ سے پوچھ لو۔ چنانچہ انہوں (حضرت ام سلمہؓ ) نے اسے بتایا کہ رسول اللہﷺ ایسا کر لیتے ہیں۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! اللہ نے توآپؐ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادیئے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا بات یہ ہے اللہ کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والااور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔
(راوی) ابو بکر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ر ضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا وہ اپنے بیان میں کہتے تھے جس کوجنبی ہونے کی حالت میں فجر ہو جائے وہ روزہ نہ رکھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے اس بات کااپنے باپ عبدالرحمن بن حارث سے ذکر کیا۔ انہوں نے اس سے انکار کیااور عبدالرحمان چل پڑے اور میں ان کے ساتھ تھایہاں تک حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہ ر ضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ عبدالرحمان نے ان دونوں سے اس بارہ میں پوچھا۔ ان دونوں نے کہا کہ نبیﷺ بغیر احتلام کے جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے اور ر وزہ رکھتے تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم مروان کے پاس آئے۔ عبدالرحمان نے ان سے اس بات کا ذکر کیا۔ مروان نے کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم حضرت ابو ہریرہؓ کے پاس جاؤ اور جو وہ کہتے ہیں اس کی تر دید کرو۔ راوی کہتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہؓ کے پاس آئے اور ابوبکربن عبدالرحمان سب جگہ موجودرہے۔ راوی کہتے ہیں عبدالرحمان نے ان سے ذکر کیا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کیا ان دونوں (ازواج مطہرات)نے تم سے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں انہوں (حضرت ابو ہریرہؓ ) نے کہا وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔ پھرحضرت ابو ہریرہؓ نے جو وہ اس بارہ میں کہتے تھے اسے حضرت فضل بن عباسؓ کی طرف منسوب کیا اور حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا میں نے یہ بات فضلؓ سے سنی ہے اور میں نے خود اسے نبیﷺ سے نہیں سنا پھرحضرت ابو ہریرہؓ نے اس بات سے جو وہ کہا کرتے تھے رجوع کر لیا۔ (راوی کہتے ہیں ) میں نے عبد الملک سے کہا کیا ان دونوں (ازواج مطہرات) نے یہ بات رمضان کے متعلق کہی تھی؟ انہوں نے کہا ایساہی ہے آپؐ بغیر احتلام کے جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تو آپؐ روزہ رکھ لیتے تھے۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ رمضان میں کبھی احتلام کے بغیرجنبی ہونے کی حالت میں فجر کرتے تو آپؐ نہاتے اور روزہ رکھ لیتے۔
عبداللہ بن کعب الحمیری سے روایت ہے کہ ابو بکر نے انھیں بتایا کہ مروان نے انہیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاکے پاس بھیجاکہ وہ اس شخص کے بارہ میں پوچھے جو جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتا ہے کہ کیا وہ روزہ رکھ لے؟ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ ازدواجی تعلق کی وجہ سے _نہ کہ احتلام کی وجہ سے _ جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تو آپؐ روزہ نہ چھوڑتے اور نہ (اُسے) بعد میں رکھتے۔
حضرت عائشہ ر ضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ سے فتویٰ پوچھنے آیا اور وہ دروازے کے پیچھے سے سن رہی تھیں۔ اس نے کہا یارسولؐ اللہ! نماز کا وقت ہوجاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں۔ کیا میں روزہ رکھ لوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے(بھی) نماز کا وقت جنبی ہونے کی حالت میں آجاتا ہے اور میں روزہ رکھتا ہوں۔ اس نے کہایا رسولؐ اللہ! آپؐ ہماری طرح نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اگلی پچھلی لغزشوں سے منزہ رکھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم میں قوی امیدرکھتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور میں سب سے زیادہ ان باتوں کا علم رکھنے والا ہوں جن سے مجھے بچنا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اس نے کہا یارسولؐ اللہ! میں ہلاک ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا کس چیز نے تجھے ہلاک کیا؟ اس نے کہا میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرلیا۔ آپؐ نے فرمایا کیاتمہیں ایک غلام آزاد کر نے کی توفیق ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا نے کی توفیق ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ بیٹھ گیا۔ پھرنبیﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے (اسے)فرمایایہ صدقہ کردو۔ اس نے کہااپنے سے زیادہ ضرورت مند پر؟ تو پھر اس کے دو لاوے کے میدانوں کے درمیان (سارے مدینہ میں ) کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ اس کا محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبیﷺ ہنسے اور خوب ہنسے پھر آپؐ نے فرمایا جاؤ اور یہ اپنے گھروالوں کو کھلاؤ۔ ایک اور روایت میں بِعَرَقٍ فِیْہِ تَمْرٌ کے الفاظ کے بعد وَھُوَ الزِّنْبِیْلُ کے الفاظ ہیں (یعنی عرق سے مراد) زنبیل ہے اور اسی روایت میں فَضَحِکَ النَّبِیُّﷺ حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ کے الفاظ نہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رمضان میں اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر بیٹھا۔ اس نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی گردن(آزاد کرنے کی توفیق) ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم دوماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلاؤ۔ ایک اور روایت میں ہے ایک شخص نے رمضان میں روزہ تو ڑ دیا تو رسول اللہﷺ نے اسے ارشاد فرمایا کہ وہ ایک گردن آزاد کر کے کفارہ ادا کردے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک شخص کو جس نے رمضان میں روزہ تو ڑ دیا تھا ارشاد فرمایا کہ وہ ایک گردن آزاد کر ے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ۔ ۔