بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اپنا مال بڑھا نے کے لئے لوگوں سے ان کے اموال مانگتا ہے تو وہ صرف انگارے مانگتا ہے چاہے وہ کم لے یا زیادہ لے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے جسے وہ نبیﷺ تک رفع کرتے ہیں آپؐ نے فرمایا بوڑھے شخص کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان رہتا ہے زندگی اور مال کی محبت میں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اگر تم میں سے کوئی شخص صبح کے وقت جا ئے اور ایندھن جمع کر کے اپنی پشت پر لائے اور اس میں سے صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے مانگنے سے مستغنی ہوجائے یہ اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ کسی شخص سے مانگے اور وہ اسے دے یا نہ دے۔ یقینا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے اور (صدقہ خیرات کرنا) ان سے شروع کرو جو تمہارے زیرِ کفالت ہیں۔ ایک اور روایت قیس بن ابو حازم سے مروی ہے وہ کہتے ہیں ہم حضرت ابو ہریرہؓ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی شخص صبح کو جائے اور ایندھن اپنی پشت پراٹھا کر لائے اور اسے بیچے۔ پھر باقی روایت بیان(راوی) کی روایت کے مطابق ہے۔
حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایااگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا گٹھا بنائے اور پھر اسے اپنی پشت پر اٹھاکرلائے اور اسے بیچے وہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی شخص سے مانگے جو اسے دے یا اسے نہ دے۔
حضرت عوف بن مالکؓ اشجعی کہتے ہیں ہم نو یا آٹھ یاسات افراد رسول اللہﷺ کے پاس تھے آپؐ نے فرمایا تم اللہ کے رسولؐ کی بیعت کرو گے! ہم نے تازہ تازہ بیعت کی تھی۔ ہم نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! ہم توآپؐ کی بیعت کرچکے ہیں۔ آپؐ نے (پھر) فرمایا تم اللہ کے رسولؐ کی بیعت نہیں کرو گے؟ ہم نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! ہم تو آپؐ کی بیعت کرچکے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم اللہ کے رسولؐ کی بیعت نہیں کرو گے؟ راوی کہتے ہیں ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور عرض کیا یارسولؐ اللہ! ہم تو آپؐ کی بیعت کرچکے ہیں اب ہماری بیعت کس بات پر ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ وقت نماز ادا کرنے پر اور اطاعت کرو گے اور آپؐ نے سرگوشی کے انداز میں آہستہ سے کچھ فرمایا اور تم لوگوں سے کوئی سوال نہیں کرو گے۔ (راوی کہتے ہیں ) میں نے دیکھا ان میں سے کسی شخص کا چابک گر جاتا تھا لیکن وہ کسی سے نہ کہتا تھا کہ وہ اسے اس کوپکڑادے۔
قبیصہ بن مخارق ہلالی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے ایک مالی ذمہ داری قبول کرلی تو میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں اس بارہ میں سوال کے لئے گیا۔ آپؐ نے فرمایا ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے۔ پھر ہم تمہارے لئے اس کے بارہ میں حکم دیں گے۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا اے قبیصہ سوال کرنے کی تین میں سے ایک کو اجازت ہے۔ وہ شخص جومال کی ذمہ داری اٹھائے اس کے لئے مانگناجائز ہے یہاں تک کہ وہ اس کوحاصل کرلے پھر وہ (سوال سے)رک جائے ایک وہ شخص جس پر کوئی ایسی مصیبت آئے جو اس کے مال کو ضائع کردے اس کے لئے سوال کرنا جائزہے۔ یہانتک کہ اس کی معیشت کے لئے سہارا مل جائے یا معیشت کا رخنہ بھر جائے اور ایک وہ شخص جسے فاقے کا سامنا ہو۔ یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ نے آلیا ہے تو اس کے لئے سوال جائز ہے یہانتک کہ اس کی معیشت کے لئے سہارا مل جائے یا معیشت کا رخنہ بھر جائے۔ اس کے سوا سوال کرنااے قبیصہ حرام ہے۔ اس کا مرتکب حرام کھاتا ہے۔
سالم بن عبد اللہؓ بن عمر اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ مجھے عطا فرماتے تھے میں عرض کرتا اسے اس کو دے دیں جو اس کامجھ سے زیادہ ضرورتمند ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپؐ نے مجھے کچھ مال عطا فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ یہ اس کو عطا فرمادیں جو مجھ سے زیادہ اس کاضرورتمند ہو۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا لے لو، وہ مال جو تمہیں بغیر حرص کے اور بغیر مانگے ملے اسے لے لو ورنہ اس کے پیچھے مت پڑو۔
سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ حضرت عمرؓ کو کچھ عطا فرماتے تو حضرت عمرؓ آپؐ سے عرض کرتے یا رسولؐ اللہ !اسے اس شخص کو عطا فرمادیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورتمند ہے۔ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایایہ لے لواور اس سے مالی فائدہ اٹھاؤ یا اس کو صدقہ کردو اور وہ مال جو تمہیں بغیر حرص کے اور بن مانگے ملے وہ لے لو ورنہ اس کے پیچھے مت پڑو۔ سالم کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ اسی وجہ سے کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے اور جو چیز آپؓ کو دی جاتی اسے ردّ نہیں کرتے تھے۔
حضرت ابن ساعدی مالکی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے مجھے عامل بنایا جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور وہ (مال) انہیں دے دیا تو انہوں نے کچھ اجرت دینے کا ارشاد فرمایا۔ میں نے عرض کیا میں نے محض للہ یہ خدمت سر انجام دی ہے اور میرا اجر اللہ پر ہے۔ انہوں نے کہا جو تمہیں دیا جائے وہ لے لو میں نے بھی رسول اللہﷺ کے زمانہ میں کام کیا تو آپؐ نے مجھے اجرت عطا فرمائی میں نے یہی کہا مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا جب کوئی چیزجو تمہیں بن مانگے دی جائے، لو اور کھاؤ اور صدقہ کرو۔