حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ فَقَالُوا نَعَمْ . فَقَالُوا لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ . وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ .
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ کچھ بادیہ نشین رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہامگربخدا!ہم تو بوسہ نہیں دیتے۔ اِس پر رسول اللہﷺ نے فرمایامجھ کو کیا اختیار ہے اگر اللہ نے تم سے رحمت چھین لی ہے؟ایک اور روایت میں ’’تمہارے دل سے رحمت‘‘ کے الفاظ ہیں۔
أَبْصَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ الْحَسَنَ فَقَالَ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نے نبیﷺ کودیکھا۔ آپؐ حضرت حسنؓ کا بوسہ لے رہے تھے۔ اس نے کہا: میرے دس بچے ہیں میں نے کبھی ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ .
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے زیادہ حیادار تھے اور جب آپؐ کچھ ناپسند فرماتے تو ہم اسے آپؐ کے چہرہ سے جان جاتے تھے۔
إِلَى الْكُوفَةِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا . وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
مسروق سے روایت ہے کہ جب امیر معاویہؓ کوفہ آئے تو ہم حضرت عبداللہ بن عمروؓ کے پاس گئے۔ انہوں نے رسول اللہﷺ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپؐ نہ توطبعًا تلخ زبان استعمال کرنے والے تھے نہ تکلفًا۔ نیز انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہیں جو تم میں سے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔ راوی عثمان کہتے ہیں کہ (حضرت عبداللہؓ بن عمرو)نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب وہ امیرمعاویہؓ کے ساتھ کوفہ آئے۔
کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں، بہت کثرت سے _آپؐ اپنے اس مصلَّی سے جس پر آپؐ صبح کی نمازپڑھا کرتے تھے نہ اٹھتے جب تک سورج طلوع نہ ہوجاتا۔ پھر جب (سورج)طلوع ہو جاتا توآپؐ کھڑے ہوتے_(اورمجلس میں )لوگ باتیں کرتے، جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرنے لگ جاتے اور ہنستے اور حضورؐ تبسم فرماتے۔
قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَغُلاَمٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک سفر پر تھے۔ ایک سیاہ رنگ کاغلام جسے انجشہ کہا جاتا تھا حُدی پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا: اے انجشہ! آہستہ، آبگینے لے جا رہے ہو۔
تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ .
حضرت انسؓؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لائے جبکہ ایک ہانکنے والا جسے انجشہ کہا جاتا تھا ان(سواری کے جانوروں )کو (تیزی سے) ہانک رہاتھا۔ حضورؐ نے فرمایا: اے انجشہ!تیرا بھلا ہو، آرام سے، تم آبگینے لے جا رہے ہو۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ابو قلابہ نے کہا: رسول اللہﷺ نے ایسی بات کہی کہ اگر تم میں سے کوئی وہ کہتا تو تم ضرور اس وجہ سے اس کا عیب نکالتے۔
حضرت انسؓ بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کی ازواج مطہراتؓ کے ساتھ حضرت امّ سلیمؓ تھیں اور ایک ہانکنے والا ان(کی سواریوں ) کو ہانک رہا تھا۔ اس پراللہ کے نبیﷺ نے فرمایا اے انجشہ!آہستہ، تم آبگینے لے جا رہے ہو۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ .
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا ایک خوبصورت آواز والا حدی خوان تھا۔ (ایک دفعہ)رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا: اے انجشہ !آہستہ، آبگینوں کو نہ توڑ دینا یعنی کمزورعورتوں کو۔ ایک اور روایت حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ کے الفاظ نہیں ہیں۔