بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت واثلہ بن اسقعؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یقینا اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل میں سے کنانہ کو چُن لیا اور کنانہ میں سے قریش کو چُن لیا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چُن لیا اور بنی ہاشم میں سے مجھے چُن لیا۔
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں مکہ کے حجر٭کو جانتا ہوں جو میری بعثت سے قبل مجھے سلام کہا کرتا تھا۔ میں اب بھی اس کو خوب پہچانتا ہوں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے پانی منگوایا تو ایک کم گہرا پیالہ لایا گیا اور لوگ وضو کرنے لگے۔ میں نے اندازہ کیا کہ ساٹھ سے اسّی(افراد)تھے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا کہ وہ آپؐ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن بنی آدم کا سردار ہوں گااور میں سب سے پہلاہوں جس کی قبر کھولی جائے گی اور میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور میں سب سے پہلا ہوں جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اس وقت دیکھا جبکہ نماز عصر کا وقت ہوچکا تھا لوگوں نے وضو ء کے پانی کی تلاش کی مگر ان کو نہ ملا۔ تو رسول اللہﷺ کے پاس وضوء کا تھوڑا سا پانی لایا گیا۔ رسول اللہﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور لوگوں کو ارشاد فرمایاکہ اس سے وضوء کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ پانی آپؐ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا۔ چنانچہ لوگوں نے وضوء کیا یہانتک کہ ان کے آخری (آدمی) نے بھی وضوء کر لیا۔
قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ نے ہمیں بتایا کہ اللہ کے نبیﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ زَوراء (مقام)پر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ زَوراء مدینہ میں ہے، بازار اور اس مسجد کے پاس جو وہاں ہے۔ رسول اللہﷺ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں کچھ پانی تھا اور آپؐ نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا تو (پانی)آپؐ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا آپؐ کے سب صحابہؓ نے وضوء کیا۔ قتادہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے ابو حمزہؓ !وہ کتنے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ تین سو کے قریب تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبیﷺ زَوراء (مقام) میں تھے کہ آپؐ کے پاس پانی کا برتن لایا گیا۔ اس (پانی میں )آپؐ کی انگلیاں نہیں ڈوبتی تھیں یا اتنا تھا جو آپؐ کی انگلیوں کو چھپا لے۔ ۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت امّ مالکؓ نبیﷺ کی خدمت میں گھی تحفہ کے طور پر اپنے ایک چمڑے کے برتن میں بھیجا کرتی تھیں۔ پھر جب ان کے بیٹے ان کے پاس آکر سالن مانگتے اور ان کے پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اس (برتن)کا قصد کرتیں جس میں سے وہ نبیﷺ کو تحفہ بھجواتیں اور اس میں گھی موجود پاتیں۔ اس وقت تک ان کے گھر کا سالن موجود رہا جب تک کہ انہوں نے اسے نچوڑ نہ لیا۔ پھر جب امّ مالکؓ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں توآپؐ نے فرمایا تم نے اسے نچوڑ لیا؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم اسے (اس کی حالت پر)چھوڑ دیتی تو وہ ہمیشہ رہتا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیﷺ کے پاس غلّہ مانگنے کے لئے آیا۔ آپؐ اسے نصف وسق ٭جو َدئیے۔ وہ آدمی اور اس کی بیوی اور ان دونوں کے مہمان اس میں سے کھاتے رہے پھر اس(آدمی)نے اسے ماپا اور نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم ضرور اس میں سے کھاتے رہتے اور وہ ضرور تمہارے لئے موجود رہتا۔
حضرت معاذ بن جبلؓ بیان کرتیہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوئہ تبوک کے سال نکلے آپؐ نمازیں جمع کرتے تھے۔ آپؐ ظہرعصر اور مغرب و عشاء اکٹھی ادا فرماتے۔ ایک روزآپؐ نے نماز میں کچھ تاخیر فرمائی۔ آپؐ باہر تشریف لائے اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع کیں۔ پھر اندر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد باہر تشریف لائے اور مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کیں۔ پھر حضورؐ نے فرمایا کہ کل تم انشاء اللہ تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور جب تک خوب دن نہ نکل آئے تم اس تک نہیں پہنچو گے پس تم میں سے جو اس کے پاس پہنچے اس کے پانی کو بالکل نہ چھوئے جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔ (راوی کہتے ہیں )پھر ہم اس(چشمہ)پر پہنچے لیکن دو آدمی وہاں ہم سے پہلے پہنچ چکے تھے اور چشمہ تسمہ کی طرح تھا جِس سے تھوڑا تھوڑا پانی بہہ رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان دونوں سے پوچھا کیا تم نے اس کے پانی کو چھوؤا ہے؟ اُن دونوں نے کہا جی ہاں۔ پھر نبیﷺ نے ان دونوں کو تنبیہ فرمائی اور جو اللہ نے چاہا آپؐ نے ان کو کہا۔ راوی کہتے ہیں پھر لوگوں نے اس چشمہ سے اپنے ہاتھوں کے ذریعہ تھوڑا تھوڑا کر کے پانی نکالا یہانتک کہ ایک برتن میں کچھ پانی جمع ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے اس میں اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور چہرہ دھویا۔ پھراس(پانی)کواس(چشمہ)میں واپس ڈال دیا تو چشمہ تیزی سے بہنے لگایا_ انہوں نے مُنْھَمِرْ کی بجائے غَزِیرکا لفظ بولا یعنی کثرت سے بہنے لگا۔ ابوعلی نے اس بارہ میں شک کیا ہے کہ ان دونوں میں سے راوی نے کیا کہا_یہانتک کہ لوگ خوب سیراب ہوگئے۔ پھر حضورؐ نے فرمایا اے معاذؓ ! اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو تُو دیکھ لے گا کہ یہ جگہ باغوں سے بھر گئی ہے۔
حضرت ابو حمیدؓ سے روایت ہے کہ ہم غزوئہ تبوک کے لئے رسول اللہﷺ کے ہمراہ نکلے۔ ہم وادی القرٰی میں ایک عورت کے باغ کے پاس پہنچے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کے پھل کا اندازہ کرو۔ چنانچہ ہم نے اس کا اندازہ کیا اور رسول اللہﷺ نے اس کے پھل کا تخمینہ دس وسق لگایا اور اس عورت سے فرمایا کہ اس کا حساب رکھنا یہانتک کہ ہم تمہارے پاس واپس آئیں انشاء اللہ۔ (راوی کہتے ہیں ) پھر ہم چلے یہانتک کہ ہم تبوک پہنچ گئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا آج رات تم پر ایک سخت آندھی چلے گی پس تم میں سے کوئی آدمی اس میں کھڑا نہ ہو۔ تم میں سے جس کے پاس اونٹ ہے اسے چاہئے کہ اس کی رسی مضبوطی سے باندھ دے۔ چنانچہ تیز آندھی چلی۔ ایک آدمی کھڑا ہو اتو اسے ہوا اٹھالے گئی یہانتک کہ اسے طَیِّء کے دوپہاڑوں میں پھینک دیا۔ پھر ایلہ کے حاکم ابن العَلماء کا ایلچی رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک خط لے کر حاضر ہوا اور ایک سفید خچر تحفۃً حضورؐ کی خدمت میں پیش کیا اور رسول اللہﷺ نے (بھی)اسے خط لکھا اور ایک چادر اسے تحفۃً بھجوائی پھر ہم (واپس)چل پڑے یہانتک کہ ہم وادی القرٰی میں پہنچ گئے۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت سے اُس کے باغ کے بارہ میں پوچھا کہ اس کا پھل کتنا ہوا؟ اس نے کہا کہ دس وسق۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں جلدی جارہا ہوں پس تم میں سے جو چاہے میرے ساتھ جلدی چلے اور جو چاہے ٹھہر جائے۔ پھر ہم روانہ ہوئے یہانتک کہ ہمیں مدینہ دکھائی دیا تو حضورؐ نے فرمایا یہ طابہ ہے (پاکیزہ اور خوشگوار ہے)اور یہ اُحد ہے یہ ایسا پہاڑ ہے کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھرآپؐ نے فرمایا کہ انصارؓ کے گھروں میں بہترین گھر بنی نجار کا گھر پھر بنی عبدالاشہل کا گھر پھر بنی عبدالحارث بن الخزرج کا گھر پھر بنی ساعدہ کا گھر اور آپؐ نے انصارؓ کے سب گھروں کو اچھا قرار دیا۔ حضرت سعد بن عبادہؓ ہم سے آ ملے تو ابو اسیدنے کہا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے انصارؓ کے گھروں کی فضیلت بیان کی اور ہمیں آخر پررکھا ہے؟ حضرت سعدؓ رسول اللہﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے انصارؓ کے گھروں کی فضیلت بیان کی ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا کیا تمہارے لئے کافی نہیں کہ تم خیر والوں میں سے ہو؟ ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایاکہ انصارؓ کے سب گھروں میں خیر ہے لیکن اس روایت میں انہوں نے سعد بن عبادہؓ کا قصّہ بیان نہیں کیا اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کا سمندراس ٭کے نام لکھ دیا لیکن وہیب کی روایت میں یہ ذکرنہیں مزید کہا کہ رسول اللہﷺ نے اس کی طرف خط لکھا۔