بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 168 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتاہے کہ میرے کسی بندہ کو نہیں چاہے کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متّٰی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ ایک روایت میں (لَا یَنْبَغِی لِعَبْدٍ لِی کی بجائے) لَا یَنْبَغِی لِعَبْدِی کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ حضرت زکریا بڑھئی تھے۔
حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے پڑھا لَتَّخِذْتَ عَلَیْہِ أَجْرًا۔
قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے ابو العالیہ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے تمہارے نبیﷺ کے چچا زادیعنی ابن عباسؓ نے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا کسی بندہ کے لئے نہیں چاہئے کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے افضل ہوں اور آپؐ نے اس (یونسؑ )کا ان کے والد کی طرف منسوب کرکے ذکر فرمایا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ!لوگوں میں سے سب سے معزز کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا جو ان میں سے سب سے زیادہ متقی ہے۔ انہوں نے عرض کیا ہم آپؐ سے اس بارہ میں نہیں پوچھ رہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر یوسف جو اللہ کا نبی تھا، اللہ کے نبی کا بیٹا اور وہ اللہ کے نبی کا بیٹا اور وہ (ابراہیم)خلیل اللہ کا بیٹا۔ انہوں نے عرض کیا ہم اس بارہ میں بھی نہیں پوچھ رہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر کیا تم قبائل عرب کے بارہ میں پوچھ رہے ہو۔ اسلام میں ان میں سے سب سے بہتر وہی ہیں جو جاہلیت میں ان میں سب سے بہتر تھے بشرطیکہ (دین کی)سمجھ بوجھ رکھیں۔
حضرت سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا کہ نوف بکالی گمان کرتا ہے کہ بنی اسرائیل والے موسیٰ علیہ السلام خضر والے موسیٰ نہیں ہیں۔ اس پر حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ اللہ کا دشمن غلط کہتا ہے۔ میں نے حضرت ابی بن کعبؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ موسیٰؑ بنی اسرائیل میں خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ کون جانتا ہے؟اس پر موسیٰؑ نے کہا میں سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا، اس لئے کے کہ انہوں نے اللہ اعلم نہیں کہا۔ اس پر اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر میرے بندوں میں سے ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے۔ موسیٰؑ نے کہا اے میرے رب!میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں۔ موسیٰؑ سے کہا گیا کہ ٹوکری میں مچھلی ڈالوجہاں تم مچھلی گم کردوتو وہاں وہ ہوگا۔ پھر وہ (موسیٰؑ )چل پڑے اور ان کے ساتھ ان کا خادم یوشع بن نون بھی چل پڑا۔ پس موسیٰؑ نے ٹوکری میں ایک مچھلی اٹھائی اور پھر حضرت موسیٰؑ اور ان کا جوان دونوں چلنے لگے یہانتک کہ وہ دونوں ایک چٹا ن کے پاس آئے تو موسیٰ علیہ السلام اور ان کا جوان سو گئے اور مچھلی ٹوکری میں ہلنے لگی یہاں تک کہ وہ ٹوکری سے نکل کر سمندر میں گر گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے اس سے پانی کے بہاؤ کو روک دیا یہانتک وہ سرنگ کی طرح ہو گیا اور مچھلی کے لئے راستہ بن گیااور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے جوان کو تعجب ہوا۔ پھروہ دونوں اپنے باقی دن اور رات بھی چلتے رہے اور موسیٰ علیہ السلام کاساتھی ان کو بتانا بھول گیا۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے صبح کی تو انہوں نے اپنے جوان سے کہا کہ ہمیں صبح کا کھانا لا کردو۔ ہمیں ہمارے اس سفر کی وجہ سے بڑی تھکان پہنچی ہے٭ فرمایا کہ موسیٰؑ کو اس وقت تھکان نہ ہوئی جب تک وہ اس جگہ سے گذر نہ گئے جہاں تک جانے کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔ اس نے کہا کیا آپؑ کو پتہ چلا کہ جب ہم نے چٹان پر پناہ لی تھی تو میں مچھلی بھول گیا؟ اور مجھے شیطان کے سوا کسی نے یہ بات نہ بُھلائی کہ میں اسے یاد رکھتا۔ پس اس نے سمندر میں عجب طریق سے اپنی راہ بنا لی۔ 1اس نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے۔ پس وہ دونوں اپنے نقوشِ قدم کاکھوج لگاتے ہوئے لوٹ گئے۔ 2راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں اپنے نقوش قدم کی پیروی کرتے رہے یہانتک کہ وہ دونوں اس چٹان کے پاس آگئے تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو کپڑا اوڑھے ہوئے تھا۔ موسیٰؑ نے اسے سلام کہا اور خضر نے اس سے کہا کہ تمہارے ملک میں سلام کہاں؟ انہوں نے کہا میں موسیٰؑ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ بنی اسرائیل کے موسیٰؑ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس اللہ کی طرف سے ایسا علم ہے جو اللہ نے آپ کوسکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا اور مجھے اللہ کی طرف سے ایسا علم ہے جو اس نے مجھے سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کیا میں اس غرض سے آپ کی پیروی کر سکتا ہوں کہ مجھے بھی اس ہدایت میں سے کچھ سکھادیں جوآپ کو سکھلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہایقینا توہر گز میرے ساتھ صبر کی استطاعت نہیں رکھے گا اور تو کیسے اس پر صبر کر سکے گا جس کا تو تجربہ کے ذریعہ احاطہ نہیں کر سکا۔ اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو مجھے صبر کرنے والا پائے گا اور میں کسی امر میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا3۔ اس نے کہا پس اگر تو میرے پیچھے چلے تو مجھ سے کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کرنا یہاں تک کہ میں خود تجھ سے اس کا کوئی ذکر چھیڑوں 1۔ اس نے کہا ہاں پھر حضرت خضرؑ اور موسیٰؑ دونوں سمندر کے کنارے چل پڑے اتنے میں ان کے پاس سے کوئی کشتی گزری تو ان دونوں نے ان سے بات کی کہ وہ انہیں سوار کر لیں انہوں نے خضر کو پہچان لیا اور ان دونوں کو بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا۔ پھر خضرؑ نے اس کشتی کے ایک تختے کو اکھیڑ دیا۔ حضرت موسیٰؑ نے ان سے کہا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں بغیر کرایہ کے سوار کیا تھا۔ آپ نے ان کی کشتی میں سوراخ کر دیا ہے تاکہ کشتی والوں کو غرق کر دیں۔ یقینا آپ نے ایک عجیب کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے کہا نہیں تھا کہ تو ہر گز میرے ساتھ صبر کی استطاعت نہیں رکھ سکے گا۔ اس نے کہا جو میں بھول گیا اس کا مجھ سے مؤاخذہ نہ کر اور میرے معاملہ میں سختی کرتے ہوئے مجھے مشقت میں نہ ڈال2۔ پھر وہ دونوں اس کشتی سے نکلے اور اس اثناء میں کہ وہ ساحل پر چل رہے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لڑکا ہے جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ خضر نے اس کو سر سے پکڑا اور اسے اپنے ہاتھ سے اوپر کھینچا اور اسے قتل کر دیا۔ اس پر موسیٰؑ نے کہا کیا آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلہ قتل کر دیا۔ یقینا آپ نے ایک بڑا ناپسندیدہ کام کیا ہے۔ اس نے کہا کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ 1یہ پہلے سے زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کے بعد میں تجھ سے کوئی سوال کروں تو پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رہنے دینا۔ یقینا میری طرف سے تو ہر جواز پاچکا ہے۔ وہ دونوں روانہ ہوئے یہانتک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو اس کے مکینوں سے انہوں نے کھانا مانگالیکن انہوں نے انکار کر دیا کہ ان کی میزبانی کریں۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی وہ کہہ رہے تھے کہ وہ جھک رہی تھی تو انہوں نے اسے سیدھا کر دیا2۔ خضرنے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اسے سیدھا کر دیا۔ موسیٰؑ نے اس سے کہا یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے لیکن انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی اور ہمیں کھانا نہ کھلایا۔ اگر آپ چاہتے تو ضرور اس پر اجرت لے سکتے تھے۔ انہوں نے کہا یہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت ہے۔ اب میں تجھے اس کی تعبیر بتاتا ہوں جس پر تو صبر نہیں کر سکا3۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ موسیٰؑ پر رحم کرے۔ کاش وہ صبر کرتے تو ان دونوں کا حال ہم سے بیان کر دیا جاتا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پہلی دفعہ موسیٰؑ کی طرف سے بھول ہوئی تھی۔ فرمایا کہ ایک چڑیا آئی اور اس کشتی کے کنارہ پر بیٹھ گئی پھر اس نے سمندر میں چونچ ماری۔ خضرؑ نے ان سے کہا کہ میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم سے اتنا بھی کم نہیں کیا جتنا کہ اس چڑیا نے سمندر میں سے کم کیا۔ سعید بن جبیر نے کہا وہ پڑھا کرتے تھے۔ وَکَانَ أَمَامَہُمْ مَلِکٌ یَأْخُذُ کُلَّ سَفِینَۃٍ صَالِحَۃٍ غَصْبًا (اور دوسری آیت یوں ) پڑھتے وَأَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ کَافِرًا۔
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے کہا گیا کہ نوف کا خیال ہے کہ وہ موسیٰ جو علم کی تلاش میں گئے تھے یہ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا اے سعید !کیا تم نے اس سے یہ بات خود سنی ہے؟ میں نے کہا ہاں حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ نوف غلط کہتا ہے۔ ہمیں حضرت ابی بن کعبؓ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کو ایام اللہ یاد دلا رہے تھے اور ایام اللہ سے مراد اللہ کی نعمت اور اس کی آزمائش ہیں جب حضرت موسیٰؑ نے کہا کہ میں زمین میں کوئی آدمی اپنے سے زیادہ بہتر اور زیادہ عالم نہیں جانتا۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر اللہ نے (موسیٰؑ )کی طرف وحی کی کہ میں خیر کے بارہ میں اس سے زیادہ جانتا ہوں کہ وہ کس کے پاس ہے۔ یقینا زمین میں ایک ایسا شخص ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے۔ انہوں نے کہا اے میرے ربّ!ان کی طرف میری راہنمائی فرما۔ فرمایا ان کو کہا گیا۔ ایک نمک لگی مچھلی زاد راہ کے طور پر لو پھر تم جہاں مچھلی گم کرو گے وہ وہاں ہے۔ فرمایا پھرحضرت موسیٰؑ اور ان کا جوان چل پڑے یہانتک کہ وہ دونوں اس چٹان تک پہنچے مگر ان کو نظر نہ آیا پھر موسیٰؑ چل پڑے اور انہوں نے اپنے جوان کو چھوڑ دیا اور مچھلی پانی میں ہلنے لگی اور پانی آپس میں ملنے نہ لگا یہانتک کہ طاق کی مانند ہو گیا۔ فرمایا کہ موسیٰ ؑ کے جوان نے کہا کیا میں اللہ کے نبی سے نہ جا ملوں اور انہیں اس بارہ میں بتاؤں۔ آپؐ نے فرمایا پھر اسے بھلا دیا گیا۔ پھر جب وہ دونوں آگے نکل گئے تو اس نے اپنے جوان سے کہا کہ ہمیں ہمارا کھانادو۔ یقینا اپنے اس سفر سے ہمیں بہت تھکان ہوئی ہے٭۔ آپؐ نے فرمایاکہ انہیں اس وقت تک تھکان نہ ہوئی جب تک کہ وہ (اس مقام سے) آگے نہ نکل گئے۔ آپؐ نے فرمایا پھر اسے یاد آیا۔ اس نے کہا دیکھیں کہ جب ہم نے چٹان پر پناہ لی تھی تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور مجھے شیطان کے سواکسی نے یہ بات نہ بھلائی کہ میں اسے یاد رکھتا اور اس نے سمندر میں عجب طریق سے اپنی راہ لی۔ انہوں نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے۔ پس وہ دونوں اپنے نقوش قدم کا کھوج لگاتے ہوئے لوٹ گئے۔ ٭ پھر اس نے موسیٰؑ کو مچھلی(کے گم ہونے)کی جگہ دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ یہی جگہ مجھے بتائی گئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر حضرت موسیٰؑ تلاش کرنے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ خضر کپڑا اوڑھے سیدھے لیٹے ہوئے ہیں یا آپﷺ نے فرمایا کہ بغیر کسی طرف کروٹ لینے کے۔ موسیٰؑ نے کہا السلام علیکم تو خضرؑ نے کپڑااپنے چہرہ سے ہٹایا اور کہا وعلیکم السلام۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا میں موسیٰؑ ہوں۔ خضرؑ نے پوچھا کون سے موسیٰ؟ انہوں نے کہا بنی اسرائیل کا موسیٰؑ۔ خضرؑ نے کہا کوئی بڑی بات ہے جوتمہیں لائی ہے؟ حضرت موسیٰؑ نے کہا میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ مجھے اس ہدایت میں سے کچھ سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے۔ خضرؑ نے کہا یقینا تو میرے ساتھ ہر گز صبر کی طاقت نہیں رکھے گااور تو کیسے اس پر صبر کر سکے گا جب کوئی بات جسے کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ میں وہ کروں گا۔ انہوں نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو مجھے تو صبر کرنے والا پائے گا اور میں کسی امر میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا پس اگر تو میرے پیچھے چلے تو مجھ سے کسی چیز کے متعلق سوال نہ کرنا یہانتک کہ میں خود تجھ سے اس کا کوئی ذکر چھیڑوں 1۔ پس وہ دونوں روانہ ہوئے یہانتک کہ وہ کشتی میں سوار ہوئے جسے (بعد ازاں )اس نے اکھیڑ پکھیڑ دیا۔ آپؐ نے فرمایا یااس کی طرف قصد کیا۔ موسیٰؑ نے اس سے کہا کیا تو نے اس لئے اسے توڑا ہے کہ تم اس کے اہل کو غرق کردو۔ یقینا تو نے ایک بری بات کی ہے۔ اس نے کہا کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ تو ہرگز میرے ساتھ صبر کی استطاعت نہیں رکھ سکے گا۔ اس نے کہا جو میں بھول گیا ہوں اس کا مجھ سے مؤاخذہ نہ کر اور میرے بارہ میں سختی کرتے ہوئے مجھے مشقت میں نہ ڈال2۔ وہ دونوں پھرروانہ ہوئے یہانتک کہ جب وہ کچھ لڑکوں سے ملے جو کھیل رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایاپھر خضرؑ ان (بچوں )میں سے ایک کی طرف تیزی سے گئے اور اسے قتل کردیا۔ موسیٰ علیہ السلام اس وقت ڈر گئے اور انہوں نے کہا کیا تو نے ایک معصوم جان کو جس نے کسی کی جان نہیں لی قتل کر دیا یقینا تو نے ایک سخت ناپسندیدہ بات کی ہے3۔ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہم پر اور موسیٰ ؑ پر اللہ کی رحمت ہو۔ اگرموسیٰؑ جلدی نہ کرتے تو عجیب باتیں ملاحظہ کرتے۔ لیکن انہیں اپنے ساتھی سے شرمندگی محسوس ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اگر میں تجھ سے کوئی سوال پوچھوں تو پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رہنے دینا۔ یقینامیری طرف سے تو ہر جواز پا چکا ہے1۔ اگر وہ صبر کرتے تو ضرور عجیب باتیں ملاحظہ کرتے۔ راوی کہتے ہیں جب آپؐ کسی نبی کا ذکر فرماتے تو اپنے سے یوں شروع فرماتے کہ ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور ہمارے بھائی پر اسی طرح ہم پر اللہ کی رحمت ہو۔ پھر وہ دونوں روانہ ہوئے یہانتک کہ جب ایک کنجوس بستی والوں کے پاس پہنچے اور کئی مجالس میں گئے اور اس(بستی)کے مکینوں سے انہوں نے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان کی میزبانی سے انکار کر دیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہتی تھی تو انہوں نے اسے سیدھا کر دیا۔ اس نے کہا اگر تو چاہتا تو ضرور اس کام پر اجرت لے سکتا تھا۔ اس نے کہا یہ میر ے اور تمہارے درمیان (جدائی)کا وقت ہے2 اور اس نے اس کا کپڑا پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا اب میں تجھے اس کی حقیقت بتاتا ہوں جس پر تو صبر نہیں کر سکا۔ جہاں تک کشتی کا تعلق ہے تو وہ چند غریبوں کی ملکیت تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ ۔ ۔ الخ3۔ پھر جب کشتی کو غصب کرنے والا آئے گا تو اسے عیب دار دیکھ کر اس (کشتی)کو چھوڑ دے گا اور وہ کشتی کو ایک لکڑی لگا کر درست کرلیں گے۔ پس جہاں تک اس لڑکے کا تعلق ہے تو وہ جب سے پیدا کیا گیا تھااس کا مزاج کافرانہ مزاج تھا اور اس کے والدین اس پر بہت شفقت کر تے تھے۔ اگر وہ بڑا ہوتا تو ان دونوں پرسرکشی اور ناشکری کرتے ہوئے ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیتا۔ پس ہم نے چاہاکہ ان کا ربّ انہیں پاکبازی کے اعتبار سے اس سے بہتر اور زیادہ رحم کرنے والا متبادل عطا کرے اور جہاں تک دیوار کا تعلق ہے تو وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کے لئے خزانہ تھا۔ ۔ ۔ الخ۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ ان کی اور حُرّبن قیس بن حصن الفزاری کی حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھی کے بارہ میں بحث ہوئی۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ وہ خضرؑ تھے۔ اسی اثناء میں حضرت ابی ّبن کعبؓ انصاری ان دونوں کے پاس سے گزرے تو حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بلایا اور کہا اے ابو طفیل !ہمارے پاس آؤ، میری اور میرے ساتھی کی موسیٰ ؑ کے اس ساتھی کے بارہ میں بحث ہوئی ہے جس کی ملاقات کے لئے انہوں نے راستہ پوچھاتھا۔ پس کیا آپؓ نے رسول اللہﷺ کو اس بارہ میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس پر حضرت اُبَیؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ موسیٰؑ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور موسیٰؑ سے کہا کیا آپ ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ عالم ہو؟ موسیٰ ؑ نے کہا نہیں۔ اس پر اللہ نے حضرت موسیٰؑ کی طرف وحی کی نہیں بلکہ ہمارا بندہ خضرؑ ہے راوی نے کہا کہ پھر حضرت موسیٰؑ نے ان سے ملنے کے لئے راستہ پوچھا تو اللہ نے ان کے لئے مچھلی کو نشان بنایا اور ان سے کہا گیا کہ جب تم مچھلی گم کرو تو واپس آنا۔ یقینا تم ضرور اس سے مل لو گے۔ پھر موسیٰؑ جتنا اللہ نے چاہا چلتے گئے۔ پھر انہوں نے اپنے جوان سے کہا ہمیں ہمارا کھانا لادو۔ موسیٰؑ کے جوان نے، جب آپ نے اس سے کھانا طلب کیا، کہا دیکھیں جب ہم نے چٹان پر پناہ لی تھی تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان کے سوا کسی نے یہ بات نہیں بھلائی کہ میں اسے یاد رکھتا تو موسیٰؑ نے اپنے جوان سے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے۔ پس وہ دونوں اپنے نقوش قدم کا کھوج لگاتے ہوئے لوٹ گئے٭ اور انہوں نے خضرؑ کو پایا۔ پس یہ ان دونوں کا حال تھا جو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا سوائے اس کے کہ (راوی)یونس نے کہا کہ موسیٰؑ اس مچھلی کے پیچھے پیچھے چلتے تھے جو سمندر میں تھی۔