بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 15 hadith
حُمید بن عبدالرحمان بن عوف نے بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا زمانہ سمٹ جائے گا اور علم اٹھا لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے اور بخل و حرص(نفوس میں ) ڈالا جائے گا اور ہرج بہت ہوگا۔ لوگوں نے کہا ہرج کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا قتل۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا زمانہ قریب ہو جائے گااور علم اٹھا لیا جا ئے گا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا زمانہ قریب ہو جائے گا، علم اٹھا لیا جائے گا اور ایک اور روایت میں ہے علم کم ہو جائے گا جبکہ ایک روایت میں یُلْقَی الشُّحُّکا ذکر نہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن عاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہ اٹھائے گا کہ وہ اسے لوگوں سے چھین لے لیکن وہ علماء کو اٹھاکر علم کو اٹھائے گا یہانتک کہ جب وہ کسی عالم کو نہ چھوڑے گا۔ لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے، ان سے سوال کئے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ وہ خودبھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے نئے سال کے شروع میں ملا اور میں نے آپؓ سے سوال کیا۔ آپؓ نے یہ حدیث اسی طرح دہرائی جس طرح پہلے بیان کی تھی۔
حضرت عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں مجھے حضرت عائشہؓ نے فرمایا اے میرے بھانجے ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمروؓ حج کو جاتے ہوئے ہمارے پاس سے گذریں گے۔ پس تم ان سے ملو اور ان سے(باتیں ) پوچھو کیونکہ انہوں نے نبیﷺ سے بہت سا علم حاصل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں اُن سے ملا اور ان سے ان باتوں کے بارہ میں پوچھا جو وہ رسول اللہﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ عروہ کہتے ہیں ان باتوں میں سے جو انہوں نے بیان کیں ایک یہ تھی کہ نبیﷺ نے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ لوگوں سے علم چھیننے کے ذریعہ نہیں اٹھائے گا لیکن وہ علماء کو اٹھالے گا تو علم ان کے ساتھ اٹھالے گا۔ لوگوں میں جاہل سردار باقی چھوڑ دے گاجو انہیں بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ پس وہ(خود) بھی گمراہ ہوں گے اور گمراہ کریں گے۔ عروہ کہتے ہیں جب میں نے یہ بات حضرت عائشہؓ کو بتائی تو انہوں نے اس کو بڑا جانا اور اسے ناپسند کیا۔ انہوں نے کہا کیا انہوں نے تمہیں بتایا ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ عروہ کہتے ہیں یہانتک کہ جب اگلا سال آیا۔ انہوں (حضرت عائشہؓ )نے ان (عروہ) سے کہا ابن عمروؓ آئے ہیں تم ان سے ملو اور ان سے گفتگو کرو یہانتک کہ تم ان سے اس حدیث کے بارہ میں دریافت کرو جو انہوں نے تمہیں علم کے بارہ میں بتائی تھی۔ عروہ کہتے ہیں میں ان سے ملا اور ان سے اس بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے اسے میرے پاس ویسے ہی بیان کیا جیسا انہوں نے اس کے بارہ میں پہلی مرتبہ بیان کیا تھا۔ عروہ کہتے ہیں جب میں نے انہیں (حضرت عائشہؓ ) کو یہ بات بتائی۔ وہ فرمانے لگیں میرے خیال میں انہوں نے سچ کہا ہے میں دیکھتی ہوں کہ انہوں نے اس میں نہ کوئی چیز زیادہ کی ہے اور نہ کم۔
حضرت جریر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کچھ بدوی لوگ_ان پر اونی کپڑے تھے _ رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ آپؐ نے اُن کا برا حال دیکھا اور وہ سخت ضرورت مند تھے۔ آپؐ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی۔ انہوں نے اس سے دیر لگائی یہانتک کہ اس کے آثار آپؐ کے چہرے پر دیکھے گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر ایک انصاریؓ شخص درہموں کی ایک تھیلی لایا۔ پھرایک اور آیا پھر تانتا بندھ گیا یہانتک کہ آپؐ کے چہرے پر خوشی نظر آنے لگی۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے اسلام میں اچھی سنت جاری کی پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لئے اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر لکھا جاتا ہے اور یہ بات ان کے اجر میں سے کچھ بھی کم نہیں کرتی اور جس نے اسلام میں بُرا طریق جاری کیا اور اس کے بعد اس پر عمل ہونے لگا تو اس کے لئے، اس پر عمل کرنے والے کاگناہ لکھا جائے گا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا۔ایک روایت میں ہے کہ جریر نے بتایاکہتے ہیں رسول اللہﷺ نے خطاب فرمایا اور صدقہ کی ترغیب دلائی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایاکوئی بھی بندہ سنتِ صالحہ کا آغاز نہیں کرتا جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جوشخص ہدایت کی طرف بلائے تو اس کا اجر ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کی مانند ہوگا اور یہ ان کے اجر میں کچھ بھی کم نہ کرے گی اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے تو اس پر اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کے گناہ ہوں گے۔ یہ بات ان کے گناہوں میں سے بھی کم نہ کرے گی۔