بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ جب وہ اپنے گھروالوں کے پاس لوٹے تو وہاں تین بڑی اور موٹی گابھن اونٹنیاں پائے ہم نے عرض کیا جی ہاں آپؐ نے فرمایا کہ تین آیات ایسی ہیں تم میں سے جو کوئی انہیں نماز میں پڑہے گا وہ اس کے لئے تین بڑی اور موٹی گابھن اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہیں۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم صفہ میں تھے رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز صبح بطحان یا عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑی بڑی کوہانوں والی اونٹنیاں لے آئے۔ ہم نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! ہم سب ایسا پسند کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر تم میں سے ہر ایک کیوں صبح مسجدنہیں جاتا تاکہ اللہ عزوجل کی کتاب میں سے دوآیتوں کاعلم حاصل کرلے یا پڑھے جو اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین (آیات) جو تین (اونٹنیوں ) سے بہتر ہیں اور چار (آیات) چار (اونٹنیوں )سے بہتر ہیں۔ اسی طرح اپنی تعداد کے مطابق اونٹوں سے (بہتر ہیں )۔
حضرت ابو امامہؓ باہلی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے شفیع ہو کر آئے گا۔ زھراوین یعنی سورۃ بقرہ اور آل عمران کو پڑھا کرو۔ کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے دو بدلیاں ہوں یا دو سائبان ہوں یا گویا وہ پر پھیلائے ہوئے اڑنے والے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں جو اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے دفاع کریں گی۔ سورۃ بقرۃ پڑھا کرو یقینا اس کا پڑھنا برکت ہے اور اس کا چھوڑنا حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ معاویہ کہتے ہیں کہ یہ بات مجھ تک پہنچی ہے کہ البطلۃ سے مراد السَحَرَۃُ یعنی جادوگر ہیں۔
حضرت نواسؓ بن سمعان الکلابی کہتے ہیں سنا کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن قرآن اور قرآن والوں کو جو اس پر عمل کرتے تھے لایا جائے گا سورۃ بقرہ اور آلِ عمران اس کے آگے آگے ہوں گی اور رسول اللہﷺ نے ان دونوں (سورتوں ) کے لئے تین مثالیں بیان فرمائیں جنہیں میں کبھی نہیں بھولا۔ آپؐ نے فرمایا گویا وہ دونوں بدلیاں ہیں یا دو سیاہ سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے یا گویا وہ پر پھلائے ہوئے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں وہ دونوں سورتیں اپنے اصحاب کادفاع کریں گی۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اس دوران کے جبرائیلؑ نبیﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے اوپر سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی چنانچہ انہوں نے اپنا سر اُٹھایا اور کہا کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے اور آج تک کبھی نہیں کھولاگیا تھا پھر اس میں سے ایک فرشتہ اترا تو اس(جبرائیل) نے کہاکہ یہ فرشتہ ہے جو زمین پر اُترا ہے اور آج تک کبھی نہیں اُترا تھاچنانچہ اس فرشتہ نے سلام کیا اور کہا کہ آپؐ کو دو نوروں کی خوشی ہو جو آپؐ کو دئیے گئے اور آپؐ سے قبل کسی نبی کو نہیں دیئے گئے سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کی آخری آیات آپؐ ان دونوں (نوروں )میں سے ایک حرف بھی پڑہیں گے تو آپؐ کو وہ (نور) دیا جائے گا۔
عبد الرحمان بن یزید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو مسعودؓ سے بیت اللہ کے پاس ملا۔ میں نے کہا کہ سورۃ البقرۃ کی دو آیتوں کے بارہ میں ایک حدیث آپ سے مجھ تک پہنچی ہے اس پر انہوں نے کہا ہاں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے جو سورۃ البقرۃکی آخری دو آیات رات کو پڑھے گااُسے یہ دونوں کفایت کریں گی۔
حضرت ابو مسعودؓ انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے رات کو سورۃ البقرہ کی یہ آخری دو آیات پڑھیں، وہ اس کے لئے کفایت کریں گی۔ عبد الرحمان نے کہا کہ میں حضرت ابو مسعودؓ سے جب وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے ملا میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبیﷺ سے روایت میرے پاس بیان کی۔
حضرت ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کیں وہ دجال سے بچایا گیا۔ شعبہ نے سورۃ الکہف کی آخری آیات کہا اور ہمام نے سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات کہا۔
حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے ابو المنذر کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں جو تمہارے پاس ہے سب سے عظیم آیت کونسی ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے ابو المنذر کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی کتاب میں جو تمہارے پاس ہے سب سے عظیم آیت کونسی ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اَللّٰہُ لََا اِلٰہَ اِلّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وہ کہتے ہیں پھر حضورؐ نے میرے سینہ پر (ہاتھ) مارا اور فرمایا بخدا اے ابوالمنذر! علم تمہیں مبارک ہو۔
حضرت ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ایک تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ ایک دوسری روایت جو قتادہ سے اسی سند سے مروی ہے نبیﷺ کا یہ ارشاد ہے۔ فرمایا اللہ نے قرآن کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کو قرآن کے حصوں میں سے ایک حصہ بنایا۔