بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 288 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے دو میں سے ایک گروہ کو نماز خوف کی ایک رکعت پڑھائی جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے تھا۔ پھر یہ لوگ ہٹ گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کے مقابل پر آکھڑے ہوئے اور وہ لوگ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی آئے اور نبیﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر نبیﷺ نے سلام پھیرا۔ اور ان لوگوں نے ایک رکعت پوری کی اور ان لوگوں نے بھی ایک رکعت پوری کی۔ سالم بن عبداللہ بن عمرؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کی نماز خوف کے بارہ میں اس مفہوم (کی روایت) بیان کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے (نمازِ خوف) رسول اللہﷺ کے ساتھ پڑھی۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک جنگ میں نمازِ خوف پڑھائی تو ایک گروہ حضورؐ کے ساتھ کھڑا ہوا اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ پھر حضورؐ نے ان لوگوں کو جو آپؐ کے ساتھ تھے ایک رکعت پڑھائی پھر وہ چلے گئے اور دوسرے آگئے اور ان لوگوں کو بھی آپؐ نے ایک رکعت پڑھائی پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت (مزید)ادا کی۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ اگر اس سے زیادہ خوف ہو تو تم سوار یا کھڑے ہوئے اشارہ سے بھی نماز پڑھ سکتے ہو۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نمازِ خوف میں حاضر تھا۔ آپؐ نے ہماری دو صفیں بنائیں۔ ایک صف رسول اللہﷺ کے پیچھے جبکہ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ چنانچہ نبیﷺ نے اللہ اکبر کہا ہم سب نے بھی للہ اکبر کہا پھرآپؐ نے رکوع کیا تو ہم سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایاتو ہم نے بھی اٹھالیا۔ پھر آپؐ اور وہ صف جو آپؐ کے قریب تھی سجدہ میں چلی گئی اور دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب رسول اللہﷺ نے سجدہ کر لیا اور آپؐ سے قریبی صف کھڑی ہو گئی تو دوسری صف سجدہ میں چلی گئی۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور دوسری صف آگے آگئی اور اگلی صف پیچھے ہوگئی پھر نبیﷺ نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیاپھرآپؐ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو ہم سب نے بھی اٹھا لیا۔ پھر آپؐ سجدہ میں چلے گئے۔ اور وہ صف جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی اور اب قریب تھی اس نے بھی سجدہ کیا۔ اور پچھلی صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ جب نبیﷺ اور اس صف نے جو آپؐ کے قریب تھی سجدہ کر لیا تو دوسری صف سجدہ میں چلی گئی۔ جب انہوں نے سجدے کر لئے تونبیﷺ نے سلام پھیرا اور ہم سب نے (بھی)سلام پھیرا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ جس طرح تمہارے یہ پہریدار اپنے امراء کے ساتھ کرتے ہیں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ جہینہ قبیلہ کے ایک گروہ سے لڑائی کی۔ انہوں نے ہم سے شدید جنگ کی پھر ہم جب ظہر پڑھ چکے تو مشرکوں نے کہا کہ اگر ہم ان پریک دفعہ حملہ کریں تو ضرور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔ حضرت جبریلؑ نے رسول اللہﷺ کو یہ بات بتادی تو رسول اللہﷺ نے اس بات کا ہم سے ذکرکیا۔ انہوں (مشرکوں )نے کہاہے کہ عنقریب ان کی ایک نماز آئے گی جو انہیں اولاد سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ چنانچہ جب عصر کا وقت آیا راوی کہتے ہیں کہ آپؐ نے ہماری دو صفیں بنائیں اور مشرک ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اللہ اکبر کہا تو ہم نے بھی اللہ اکبر کہا۔ آپؐ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا تو پہلی صف نے آپؐ کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر جب یہ کھڑے ہو گئے تودوسری صف نے سجدہ کیا پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی اور دوسری صف آگے آگئی اور وہ پہلی صف کی جگہ پر آکر کھڑے ہوگئے۔ پھر رسول اللہﷺ نے اللہ اکبر کہااور ہم نے بھی اللہ اکبر کہا۔ آپؐ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر پہلی صف نے آپؐ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری کھڑی رہی۔ جب دوسری صف نے سجدہ کر لیا پھرسب بیٹھ گئے تو رسول اللہﷺ نے ان پر سلام کیا۔ ابو الزبیر کہتے ہیں کہ پھر حضرت جابرؓ نے خصوصیت سے کہا جس طرح تمہارے یہ امراء نماز پڑھتے ہیں۔
حضرت سہلؓ بن ابو حثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے خوف کی حالت میں اپنے صحابہؓ کو نماز پڑھائی۔ آپؐ نے اپنے پیچھے ان کی دو صفیں بنوائیں۔ چنانچہ وہ لوگ جو آپؐ کے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور کھڑے رہے یہانتک کہ انہوں نے جو آپؐ کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھ لی۔ پھر وہ آگے آگئے اور جو ان کے آگے تھے پیچھے چلے گئے۔ پھر حضورؐ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپؐ بیٹھے رہے جب تک کہ انہوں نے جوپیچھے تھے ایک رکعت پڑھ لی۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔
صالح بن خوّات اس سے روایت کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع کے دن رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی کہ ایک گروہ نے آپؐ کے ساتھ صف بنائی۔ اور ایک گروہ دشمن کے سامنے تھا۔ وہ لوگ جو آپؐ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپؐ کھڑے رہے جبکہ لوگوں نے اپنے طور پر اپنی (نماز) پوری کی اور پھر چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف آراء ہوئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا تو آپؐ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی۔ پھر حضورؐ بیٹھے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر اپنی (نماز)پوری کی۔ پھر آپؐ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ آرہے تھے یہانتک کہ ہم ذات الرقاع پہنچے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس آئے تو ہم نے اسے رسول اللہﷺ کے لئے چھوڑ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی آیا اور رسول اللہﷺ کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی تو اس نے اللہ کے نبیﷺ کی تلوار لے کر سونت لی اور رسول اللہﷺ سے کہا کیا آپؐ مجھ سے ڈرتے ہیں؟آپؐ نے فرمایا نہیں۔ اس نے کہا کہ آپؐ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپؐ نے فرمایا اللہ مجھے تجھ سے بچائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ کے صحابہؓ نے اسے دھمکایا۔ پھر آپؐ نے تلوار نیام میں کرلی اور اسے لٹکا دیا۔ راوی کہتے ہیں پھر نماز کے لئے اذان دی گئی تو حضورؐ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ تو وہ پیچھے ہوگئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہﷺ کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز خوف ادا کی کہ رسول اللہﷺ نے دوگروہوں میں سے پہلے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں چنانچہ رسول اللہﷺ نے چار رکعتیں پڑھیں اور ہر گروہ کو آپؐ نے دو رکعتیں پڑھائیں۔