بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جمع ہوجاؤ میں تمہیں قرآن کا تہائی حصہ پڑھ کر سناؤں گا۔ چنانچہ جمع ہونے والے جمع ہوگئے۔ پھر اللہ کے نبیﷺ باہر تشریف لائے اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کی تلاوت کی پھر آپؐ اندر تشریف لے گئے۔ اس وقت ہم میں سے ایک نے دوسرے کو کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ کوئی خبر ہے جو حضورؐ کے پاس آسمان سے آئی ہے اور اس وجہ سے آپؐ اندر تشریف لے گئے ہیں۔ پھر اللہ کے نبیﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تمہیں ایک تہائی قرآن سناؤں گا۔ سنو! یہ (سورۃ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تمہیں ایک تہائی قرآن سناتا ہوں پھر آپؐ نے قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ کی تلاوت کی اور یہ (سورت) پوری پڑھی۔
حضرت عمرہ بنت عبد الرحمان جو نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ کے زیرِ کفالت تھیں حضرت عائشہؓ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کو ایک سریّہ پر امیر بنا کر بھیجا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قراءت کرتے اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ پر ختم کرتے۔ جب وہ لوٹے تو اس کا ذکر رسول اللہﷺ کی خدمت میں کیا گیا آپؐ نے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے اس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کیونکہ یہ رحمان کے وصف (پرمشتمل) ہے اس لئے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے بتا دو کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آج رات ایسی آیات اتری ہیں کہ ان جیسی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں یعنی قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِاور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھ پر ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان جیسی کبھی نہیں دیکھی گئیں (یعنی)معوذّتین٭۔ حضرت عقبہ بن عامر الجُہنیؓ محمدﷺ کے بلند پایہ صحابہ میں سے تھے۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا صرف دو باتوں میں رشک جائز ہے ایک اس آدمی پر جسے اللہ نے قرآن دیااور وہ رات کی گھڑیوں میں اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے اور وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے رات کے اوقات میں خرچ کرتا ہے اور دن کے اوقات میں بھی۔
سالم بن عبد اللہؓ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا صرف دو باتوں میں رشک جائز ہے ایک تو اس آدمی پر جسے اللہ نے یہ کتاب دی ہو اور وہ رات اور دن کے اوقات کی عبادت میں اس کو پڑھتا ہے اور وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ رات اور دن کے اوقات میں اس سے صدقہ کرتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ صرف دو باتوں میں رشک ہے ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے حق کی خاطر خرچ کرنے پر مسلّط کردے اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے حکمت عطاء کی اور وہ اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اسے سکھاتا ہے۔
عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ حضرت نافع بن عبد الحارث حضرت عمرؓ سے عُسفان میں ملے حضرت عمرؓ ان کو مکہ پر عامل بنایا کرتے تھے تو حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ تم نے وادی والوں پر کسے مقرر کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ ابن ابزٰی کو۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کون ابن ابزیٰ؟ انہوں نے کہاہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک غلام۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک آزاد کردہ غلام کو ان پر حاکم مقرر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا وہ اللہ عزّوجل کی کتاب کو پڑھنے والا اور فرائض کا عالم ہے حضرت عمرؓ نے کہا تمہارے نبیﷺ نے فرمایا تھاکہ اللہ یقینا اس کتاب کے ذریعہ بعض قوموں کو بلند کرے گا اور دوسروں کو اس کے ذریعہ نیچا کردے گا۔
قارہ کے عبدالرحمان بن عبدسے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن الخطابؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورۃ الفرقان کی قرا ءت کرتے سنا جواس سے مختلف تھی جس پر میں قرا ءت کرتا تھا اور رسول اللہﷺ نے مجھے وہ قر اءت سکھائی تھی اور قریب تھا کہ میں اس پرجلدی گرفت کروں پھر میں نے اسے مہلت دی یہانتک کہ جب وہ فارغ ہوا۔ تو میں نے اس کی چادر اس کے گلے میں ڈالی اور اسے رسول اللہﷺ کے پاس لے گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے اسے سور ۃ الفرقان اس قرا ءت سے مختلف پڑھتے ہوئے سناہے جو آپؐ نے مجھے پڑھائی ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو(اور اسے فرمایا) پڑھو۔ چنانچہ اس نے اسی قرا ءت میں پڑھا جو میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنی تھی۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ (سورۃ) اسی طرح اُتاری گئی ہے۔ پھر مجھ سے فرمایا پڑھو، میں نے پڑھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ اسی طرح اتاری گئی ہے۔ یہ قرآن سات قرا ء توں پر اتارا گیا ہے اس میں سے جو بھی میسّر ہو پڑھو۔ مسور بن مخرمہ اور قارہ کے عبدالرحمان بن عبدنے عروہ بن زبیر کو بتایا کہ انہوں نے حضرت عمر بن الخطابؓ کو کہتے ہوئے سنا انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کی زندگی میں ہشام بن حکیم کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ پھر اس جیسی روایت بیان کی اور مزید بیان کیا کہ قریب تھا کہ میں نماز میں اس پر جھپٹ پڑوں لیکن میں نے صبر کیا یہانتک کہ اس نے سلام پھیرا۔