حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیایارسولؐ اللہ! زمین پر سب سے پہلے کونسی مسجدبنائی گئی تھی؟ آپؐ نے فرمایا مسجد حرام، میں نے عرض کیا پھر کونسی؟ آپؐ نے فرمایا مسجد اقصیٰ، میں نے پوچھا کہ دونوں مسجدوں میں کتنا (وقفہ) تھا؟ آپؐ نے فرمایا: چالیس سال، لیکن تمہیں جہاں نماز کا وقت آجائے (اسی جگہ) نماز پڑھ لو، وہی مسجد ہے۔ ابو کامل کی روایت میں (وَاَیْنَمَا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے بجائے) حَیْثُمَا اَدْرَکَتْکَ الصَّلَاۃُ فَصَلِّہْ فَاِنَّہُ مَسْجِدٌ کے الفاظ ہیں۔
ابر اہیم بن یزیدالتَیْمِیسے روایت ہے کہ میں اپنے والد کو مسجد کے باہر چبوترہ پر قرآن سنایا کرتا تھا۔ جب میں سجدہ(والی آیت) پڑھتاتو وہ سجدہ کرتے۔ میں نے اُن سے پوچھا اے میرے باپ! کیا آپ رستہ میں سجدہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو ذرؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے زمین میں بنائی جانے والی پہلی مسجد کے بارہ میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ مسجد حرام۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونسی تو آپؐ نے فرمایا مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا کہ ان دونوں میں کتنا(وقفہ) تھا؟ آپؐ نے فرمایا چالیس سال، پھر ساری زمین تمہارے لئے مسجد ہے۔ پس جہاں کہیں تمہیں نماز کا وقت آجائے، نماز پڑھ لو۔
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
حضرت جابر بن عبد اللہؓ انصاری سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ (خصوصیات) دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں: ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیاگیا ہے اور میرے لئے غنیمتیں جائز کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے جائز نہیں تھیں اور میرے لئے(کرّئہ) زمین کو پاک اور پاکیزگی کا ذریعہ اور مسجد ٹھہرایا گیا ہے۔ پس جس شخص کو نماز کا وقت آلے تو وہ جہاں کہیں (بھی) ہو نماز پڑھ لے اور ایک ماہ کی مسافت کے (برابر) رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور مجھے شفاعت عطاء کی گئی ہے۔
قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہمیں لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی بنائی گئی ہیں۔ ہمارے لئے تمام زمین مسجد بنائی گئی ہے اور جب ہمیں پانی نہ ملے تو اس کی مٹی ہمارے لئے پاک کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے اور ایک اور خصوصیت کا ذکر کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے انبیاء پرچھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم٭ دیئے گئے ہیں اور رعب سے مجھے مدد د دی گئی ہے اور غنیمتیں میرے لئے جائز کی گئی ہیں اور زمین میرے لئے پاکیزگی کا ذریعہ اور مسجد بنائی گئی ہے اور مجھے سب مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے ذریعہ نبیوں پر مہر لگائی گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور اس دوران کہ میں سو رہا تھا زمین کے خزانوں کی چابیاں لائی گئیں اور میرے سامنے رکھ دی گئیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ تو تشریف لے گئے اب تم ان خزانوں کو نکال رہے ہو۔
نے فرمایا کہ دشمن کے مقابلہ پر مجھے رعب سے مدد کی گئی ہے اور مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں اور اس دوران کہ میں سو رہا تھا زمین کے خزانوں کی چابیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَىٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ . فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ - قَالَ - فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ - قَالَ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا . قَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ . قَالَ أَنَسٌ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ كَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَخِرَبٌ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فُسُوِّيَتْ - قَالَ - فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً - قَالَ - فَكَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے۔ آپؐ بنی عمرو بن عوف نامی قبیلہ میں مدینہ کی بالائی بستی میں اترے آپؐ نے ان میں چودہ راتیں قیام فرمایا پھر آپؐ نے بنی نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا۔ وہ اپنی تلواریں حمائل کئے آگئے۔ وہ کہتے ہیں گویا میں رسول اللہﷺ کو اپنی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں اور حضرت ابو بکرؓ آپؐ کے پیچھے سوارہیں اور بنی نجار کے سردار آپؐ کے گرد ہیں یہانتک کہ آپؐ حضرت ابو ایوبؓ کے صحن میں اُترے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو جہاں نماز کا وقت آجاتاآپؐ وہیں نماز پڑھ لیتے۔ آپؐ بھیڑبکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے۔ پھر آپؐ نے مسجد(کی تعمیر) کاارشاد فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر آپؐ نے بنی نجار کے سرداروں کو بلایا۔ وہ آئے تو آپؐ نے فرمایااے بنی نجار !اپنے اس احاطہ کی قیمت مجھ سے طے کرلو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں نہیں، اللہ کی قسم! ہم صرف اللہ سے اس کی قیمت کے طلبگار ہیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں اس میں جو کچھ تھا میں بتاتا ہوں اس میں کھجور کے درخت تھے اور مشرکوں کی کچھ (پرانی) قبریں تھیں اور کھنڈرات بھی تھے۔ پس رسول اللہﷺ نے کھجور کے درختوں کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو وہ کاٹ دیئے گئے اور مشرکوں کی قبروں کے بارہ میں (ارشاد فرمایا)تو وہ کھود ی گئیں ٭اور کھنڈرات کے بارہ میں (ارشاد فرمایا) تو وہ برابر کر دئیے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کھجور کے درختوں کو قطار میں قبلہ کی جانب لگا دیا اور اس کے دونوں پہلوؤں میں پتھر لگادیئے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ (صحابہؓ ) رجز پڑھتے تھے اور رسول اللہﷺ ان کے ساتھ تھے اور وہ کہتے تھے اے اللہ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔