بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراءت پر (قرآن) پڑھایا۔ میں نے ان سے بات کی اور ان سے مزید (قراء توں کا) تقاضا کرتا رہا اور وہ میرے لئے زیادہ کرتے رہے یہانتک کہ وہ سات قراء توں تک پہنچے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ یہ سات قراء تیں ایک ہی مفہوم رکھتی ہیں جس میں حلال و حرام کا کوئی اختلاف نہیں۔
ر طاری ہوئی تھی تو آپؐ نے میرے سینہ پر (ہاتھ) مارا میں پسینے سے شرابور تھا۔ گویا کہ میں ڈر کی حالت میں اللہ عزوجل کو دیکھ رہا تھا۔ تب حضورؐ نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابیؓ مجھے پیغام بھیجا گیا کہ میں قرآن کو ایک قراءت پر پڑھوں میں نے اس کو جواب دیا کہ میری امت کے لئے آسانی پیدا کردے۔ چنانچہ اس نے مجھے دوسری مرتبہ یہ جواب دیا کہ میں اسے (قرآن کو)دو قراء توں پر پڑھوں۔ پھر میں نے عرض کیاکہ میری امت کے لئے آسانی فرمادے۔ پھر اس نے تیسری مرتبہ مجھے جواب دیا کہ اسے سات قراء توں پر پڑھ لو۔ پس ہر سوال کے بدلے جس کا میں نے تجھے جواب دیا ہے ایک دعا کا تجھے حق دیا گیا ہے جو تو مجھ سے مانگ سکتا ہے۔ تب میں نے عرض کیا اے اللہ! میری امت کو بخش دے۔ اے اللہ میری امت کو بخش دے۔ اور تیسری(دعا) میں نے اس دن کے لئے چھوڑ رکھی ہے جس دن ساری مخلوق میری طرف رغبت کرے گی یہانتک کہ ابراہیمﷺ بھی۔ ابو بکر بن ابی شیبہ سے روایت ہے کہ ابی ّبن کعبؓؓ نے کہاکہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک شخص داخل ہوااس نے نماز پڑھی اور ایک قراءت کی پھر اس کے بعد (راوی نے) ابن نمیر جیسی روایت بیان کی۔
حضرت ابی ّبن کعبؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے وہ کہتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام آپؐ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ آپؐ کو حکم دیتا ہے کہ آپؐ کی امت ایک قراءت پر قرآن پڑھے۔ اس پر آپؐ نے عرض کیا میں اللہ سے اس کی عافیت اور مغفرت طلب کرتا ہوں۔ یقینا میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھروہ آپؐ کے پاس دوسری مرتبہ آئے اور کہا کہ اللہ آپؐ کو حکم دیتا ہے کہ آپؐ کی امت دو قراءت پر قرآن پڑھے۔ پھر آپؐ نے کہا کہ میں اللہ سے اس کی (طرف سے)عافیت اور مغفرت طلب کرتا ہوں کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر وہ آپؐ کے پاس تیسری دفعہ آئے اور کہا کہ اللہ آپؐ کو حکم دیتا ہے کہ آپؐ کی امت تین قر اءت پر قرآن پڑھے۔ پھر آپؐ نے کہا کہ میں اللہ سے اس کی (طرف سے) عافیت اور مغفرت طلب کرتا ہوں کیونکہ میری امت اس بات کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر وہ آپؐ کے پاس چوتھی مرتبہ آئے اور کہا کہ اللہ آپؐ کو حکم دیتا ہے کہ آپؐ کی امت سات قراء توں پر قرآن پڑھے۔ وہ جس قراءت پر بھی قرآن پڑھیں گے وہ درست ہوں گے۔
ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہؓ کے پاس آیا اور کہا اے ابو عبد الرحمان! آپ یہ حرف کس طرح پڑھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں یہ ’’الف‘‘ ہے یا ’’ی‘‘(یعنی) مِنْ مَّائٍ غَیْرِ اٰسِنٍ ہے یا مِنْ مَّائٍ غَیْرِ یَاسِنٍ ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ تم نے اس کے علاوہ سارے قرآن کا احاطہ کر لیا ہے؟ اس نے کہا کہ میں مفصّل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیتا ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ تیزی سے شعر پڑھنے کی تیزی کی طرح۔ یقینا کچھ ایسے ہیں کہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا ہاں جب دل میں داخل ہواور اس میں راسخ ہو جائے تب نفع دیتا ہے۔ یقینا نماز کا بہترین حصہ رکوع اور سجدہ ہے اور میں ملتی جلتی سورتیں جانتا ہوں جن میں سے رسول اللہﷺ ہر رکعت میں دو سورتیں ملاتے تھے۔ پھر عبداللہؓ کھڑے ہوئے اور علقمہ ان کے پیچھے آئے۔ پھر وہ نکلے اور کہاآپؐ نے مجھے اس کے بارہ میں بتایا تھا۔ ابن نمیر اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبد اللہؓ کے پاس آیااور نھیک بن سنان نہیں کہا۔ ایک اور روایت میں ہے جو ابو وائل سے مروی ہے انہوں نے کہاکہ ایک شخص حضرت عبداللہ کے پاس آیاجس کا نام نہیک بن سنان تھاباقی روایت وکیع کی روایت کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا پھر علقمہ آئے تا وہ ان کے پاس اندر جائیں تو ہم نے ان سے کہا کہ ملتی جلتی سورتوں کے بارہ میں پوچھو جو رسول اللہﷺ ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر وہ ان کے پاس گئے اور اُن سے پوچھا، پھر ہمارے پاس آئے اور کہا کہ عبداللہؓ کے مجموعہ میں بیس سورتیں ’’مفصّل‘‘ میں سے ہیں۔ ایک اور روایت حضرت عبداللہؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک جیسی سورتوں کے بارہ میں جانتا ہوں جو رسول اللہﷺ ایک رکعت میں دو پڑھا کرتے تھے (یعنی) بیس سورتیں دس رکعات میں۔
ابو وائل سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دن ہم صبح کی نماز کے بعد صبح سویرے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس گئے۔ ہم نے دروازے پر سلام کہا انہوں نے ہمیں اجازت دی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ دیر دروازے پر ٹھہرے رہے۔ وہ کہتے ہیں پھر ایک لڑکی باہر آئی اور اس نے کہا آپ اندر کیوں نہیں جاتے؟ ہم اندر گئے تو وہ بیٹھے تسبیح کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں اندر آنے سے کس بات نے روکا جبکہ تمہیں اجازت دے دی گئی تھی؟ہم نے کہا نہیں سوائے اس کے کہ ہمیں خیال ہوا کہ کوئی گھر والا سو رہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تم نے ابن ام عبد کی آل کے بارہ میں ایسی غفلت کا گمان کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ تسبیح کرنے لگے۔ یہانتک کہ انہیں خیال ہوا کہ سورج طلوع ہو گیاہے۔ تو انہوں نے کہا اے لڑکی! دیکھو کیا(سورج) نکل آیا ہے؟راوی کہتے ہیں اس نے دیکھا کہ ابھی (سورج) نہیں نکلا توحضرت عبداللہؓ پھر تسبیح کرنے لگے یہانتک کہ انہیں خیال ہوا کہ سورج نکل آیا ہے۔ تو انہوں نے کہا اے لڑکی! دیکھو کہ سورج نکل آیا ہے؟ چنانچہ اس نے دیکھا تو(سورج) نکل چکا تھا۔ تب انہوں نے کہا کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے اس ہمارے آج کے دن ہم سے در گزر فرمایا۔ مہدی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس نے ہمارے گناہوں کے باعث ہمیں ہلاک نہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ گزشتہ رات میں نے ساری مفصّل سورتیں پڑھیں راوی کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ یہ تو جلدی جلدی شعر پڑھنے کی طرح ہے۔ یقینا ہم نے ایک جیسی (برابر کی سورتوں ) کو سنا اور مجھے یقینا وہ ایک جیسی (برابر کی) اٹھارہ سورتیں حفظ ہیں جورسول اللہﷺ پڑھا کرتے تھے جو مفصل میں سے تھیں اور دو سورتیں وہ ہیں جو حٰمٓ کے گروپ سے سے تعلق رکھتی ہیں ٭۔
شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی بجیلہ کا ایک شخص جسے نہیک بن سِنان کہا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہؓ کے پاس آیااور کہا کہ میں ایک رکعت میں مفصل سورتیں پڑھ لیتا ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہے۔ یقینا میں ایسی ملتی جلتی سورتیں جانتا ہوں جنہیں رسول اللہﷺ دو، سورتیں ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔
عمرو بن مرّہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابووائل کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعودؓ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے آج رات ساری مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیں۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا ایسی تیزی سے جیسے تیزی سے شعر پڑھتے ہیں۔ پھر حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ میں ایسی ملتی جلتی سورتیں جانتا ہوں جنہیں رسول اللہﷺ ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے مفصّل سورتوں میں سے بیس کا ذکر کیا، دو دو سورتیں ہر رکعت میں۔
ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اسود بن یزید سے جو مسجد میں قرآن پڑھا رہے تھے پوچھا اور کہا کہ آپ یہ آیت فَھَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ کیسے پڑھتے ہیں؟ دال سے یا ذال سے؟ انہوں نے کہا بلکہ دال سے، میں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دال سے مُدَّکِر پڑھتے سناہے۔
حضرت عبداللہؓ نبیﷺ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ یہ لفظ فَھَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ پڑھا کرتے تھے۔
علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم شام گئے تو حضرت ابو درداءؓ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو حضرت عبداللہ ؓ کی قراءت پر پڑھتا ہو؟ میں نے کہا ہاں میں ہوں۔ انہوں نے کہا تم نے حضرت عبداللہؓ کویہ آیت وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشَی کس طرح پڑھتے ہوئے سنا؟ راوی کہتے ہیں میں نے انہیں اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشَی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثَی انہوں نے کہا کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے یہ رسول اللہﷺ کو پڑھتے ہوئے سنالیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ’’وَمَا خَلَقَ‘‘(بھی) پڑھو ں لیکن میں ان کی پیروی نہیں کروں گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ علقمہ شام آئے اور مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں نماز پڑھی۔ پھر ایک حلقہ کے پاس گئے اور ان میں بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا میں نے اس میں لوگوں سے اور ان کے انداز سے جھجک محسوس کی۔ (راوی) کہتے ہیں کہ وہ میرے پہلو میں بیٹھ گیااور پھر کہنے لگا کیا تمہیں (بھی قرآن)اس طرح یاد ہے جس طرح عبداللہؓ پڑھتے تھے۔ پھر آگے اس جیسی روایت بیان کی۔