بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
معاذہ کہتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ چاشت کی نماز کی کتنی (رکعت) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا چار رکعتیں لیکن اس سے زائد جتنی چاہتے (پڑھتے)۔ ایک دوسری روایت میں (یَزِیْدُ مَاشَائَ کی بجائے) یَزِیْد مَا شَائَ اللّٰہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ چاشت کی چار رکعت پڑھتے اور جتنی اللہ چاہتا اتنی مزید۔
حضرت عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ام ہانیؓ کے علاوہ کسی نے نہیں بتا یا وہ بیان فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کو چاشت (کی نماز) پڑھتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبیﷺ فتح مکہ کے دن ان کے گھر تشریف لائے اور آٹھ رکعت ادا فرمائیں میں نے کبھی آپ کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مگر آپؐ رکوع و سجود پورا فرماتے۔ ابن بشار نے اپنی روایت میں راوی کے قول قَطُّ کا ذکر نہیں کیا۔
عبد اللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ میں سوال کیا کرتا تھا اور اس بارہ میں حریص تھا کہ لوگوں میں سے کسی ایسے شخص کو پاؤں جو مجھے بتائے کہ رسول اللہﷺ نے چاشت کے نوافل پڑھے ہیں لیکن میں نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالبؓ کے علاوہ کسی کو نہ پایا جو مجھے اس بارہ میں بتائے انہوں نے مجھے اس بارہ میں بتایا کہ فتح مکہ کے دن خوب دن چڑھ جانے کے بعد رسول اللہﷺ تشریف لائے ایک کپڑا لایا گیا جس سے آپؐ پر پردہ کیا گیا پھر آپؐ نے غسل فرمایا پھر کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعت پڑھیں۔ میں نہیں جانتی کہ اس میں آپؐ کا قیام زیادہ طویل تھا یا آپؐ کے رکوع یا آپؐ کے سجدے سب ایک دوسرے کے قریباً برابر تھے۔ وہ کہتی ہیں میں نے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعدحضورؐ کو (چاشت کے) نفل پڑھتے ہوئے دیکھا۔
حضرت ام ہانیؓ بنت ابوطالب بیان کرتی ہیں کہ میں فتح(مکہ) کے سال رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپؐ غسل فرمارہے تھے اور آپؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ ایک کپڑے سے آپؐ پر پردہ کئے ہوئے تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے سلام عرض کیا تو آپؐ نے پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا۔ ام ہانی بنت ابو طالب۔ آپؐ نے فرمایا خوش آمدید ام ہانی! جب آپؐ اپنے غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں ادا فرمائیں جب آپؐ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! میری ماں کے بیٹے علیؓ بن ابوطالب کہتے ہیں کہ وہ اس شخص کو قتل کریں گے جسے میں نے پناہ دی ہے فلاں ابن ہُبیرہ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے ام ہانی! ہم نے اُسے پناہ دی جسے تم نے پناہ دی۔ حضرت ام ہانیؓ کہتی ہیں وہ چاشت کا وقت تھا۔
حضرت ام ہانیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فتح (مکہ) کے سال ان کے گھر آٹھ رکعت ایک کپڑے میں پڑھیں جس کے دونوں کنارے آپؐ نے مخالف سمت میں ڈالے ہوئے تھے۔
حضرت ابو ذرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر ہر صبح صدقہ ہے۔ پس ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر تحمید صدقہ ہے اور ہر تہلیل صدقہ ہے اور ہر تکبیر صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور ناپسندیدہ بات سے روکنا صدقہ ہے اور جو چاشت کی دو رکعت پڑھ لے وہ ان سے کفایت کرجائیں گی۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے پیارے دوستﷺ نے مجھے تین باتوں کی نصیحت فرمائی۔ ہرماہ تین دن کے روزے رکھنے کی، دورکعت نماز چاشت پڑھنے کی اور یہ کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں۔ ابو رافع الصائغ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ کوکہتے ہوئے سناکہ میرے پیارے دوست ابو القاسمﷺ نے مجھے تین باتوں کی تاکید فرمائی۔ پھر راوی نے ابو عثمان کی روایت کی طرح جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے ذکر کی۔
حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے حبیبﷺ نے تین باتوں کی تاکید فرمائی۔ جب تک میں زندہ رہوں گا انہیں کبھی ترک نہیں کروں گا۔ ہرماہ تین دن روزے رکھنا اور چاشت کی نماز پڑھنے کی اور یہ کہ میں اس وقت تک نہ سوؤں جب تک وتر نہ پڑھ لوں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت حفصہؓ نے انہیں بتایاکہ جب مؤذن صبح کی نماز کی اذان دے کر خاموش ہوجاتا اور فجر کا وقت شروع ہوجاتا رسول اللہﷺ قبل اس کے کہ نماز کھڑی ہو دو ہلکی رکعت ادافرماتے۔