بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے ساتھ نماز عید الفطر میں حاضر ہوا اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے ساتھ بھی اور آپ سب نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے پھر خطبہ ارشاد فرماتے۔ وہ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے ہیں پھر اللہ کے نبیﷺ (منبر سے) اترے، گویا اب بھی میں آپ کو دیکھ رہا ہوں جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ (کے اشارہ) سے بٹھا رہے ہیں۔ پھر آپؐ ان (کی صفوں کے درمیان) میں سے گزرتے ہوئے آئے اور خواتین کے پاس تشریف لائے اور آپؐ کے ساتھ حضرت بلالؓ تھے۔ آپؐ نے یہ آیت پڑھی یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ آخر تک (المُمْتَحِنَۃ: 13) ترجمہ: اے نبیؐ! جب مؤمن عورتیں تیرے پاس آئیں (اور) اس (امر) پر تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ پھر اس (آیت کی تلاوت) سے فارغ ہوئے اور فارغ ہونے پر فرمایا: تم اس پر قائم ہو؟ ایک عورت بولی ’’جی ہاں اے اللہ کے نبیؐ‘‘ اس کے سوا اُن میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔ اس وقت پتہ نہیں چلا کہ وہ کون ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر صدقہ کرو۔ حضرت بلالؓ نے اپنا کپڑا پھیلایا پھر کہا لاؤ تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ پھر وہ چھلّے اور انگوٹھیاں حضرت بلالؓ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے بارہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ نے خطبہ سے پہلے نماز (عید) پڑھی۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ نے خطبہ دیا پھر آپ کو خیال ہوا کہ آپؐ عورتوں تک آواز نہیں پہنچا سکے۔ تو آپؐ ان کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کی اور ان کو وعظ فرمایا اور انہیں صدقہ کا حکم دیا اور حضرت بلالؓ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ عورتیں اپنی انگوٹھیاں، چھلّے اور چیزیں ڈالنے لگیں۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ عید الفطر کے روز کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے نماز پڑھی اور خطبہ سے پہلے آپؐ نے نماز سے ابتداء کی۔ پھر لوگوں کو خطاب فرمایا۔ پھر جب اللہ کے نبیﷺ فارغ ہوئے تو اُترے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے اور ان کو نصیحت فرمائی اور آپؐ بلالؓ کے بازو پر سہارا لئے ہوئے تھے اور بلالؓ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے عطاء سے کہا عید الفطر کا صدقہ (یعنی فطرانہ)؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ (عام) صدقہ جو وہ اس وقت دے رہی تھیں عورتیں چھلّے ڈال رہی تھیں اور وہ ڈالتی اور ڈالتی چلی گئیں۔ میں نے عطاء سے کہا کیا اب بھی امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورتوں کے پاس جائے جب وہ (خطبہ سے) فارغ ہو جائے اور انہیں نصیحت کرے؟ انہوں نے کہا ہاں! میری عمر کی قسم! یقینا یہ ان پر لازم ہے اور انہیں کیا ہوا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں رسول اللہﷺ کے ساتھ عید کے دن نماز میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور اقامت کے نماز سے ابتداء کی۔ پھر آپؐ بلالؓ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے۔ اور آپؐ نے اللہ کا تقوی اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا اور اس کی اطاعت کی تلقین کی اور لوگوں کو وعظ کیا اور انہیں نصائح فرمائیں۔ پھر آپؐ چلے یہاں تک کہ عورتوں کے پاس تشریف لائے۔ انہیں وعظ فرمایا اور انہیں نصیحت فرمائی اور فرمایا تم صدقہ کیا کرو اور تم میں سے بہت سی جہنم کا ایندھن ہیں تو عورتوں کے درمیان سے ایک سرخی مائل سیاہ رنگ کے گالوں والی عورت کھڑی ہوئی اور کہنے لگی۔ یا رسولؐ اللہ! ایسا کیوں ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا کیونکہ تم (عورتیں) بہت گلہ شکوہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے اپنے زیوروں سے صدقہ دینا شروع کیا اور حضرت بلالؓ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
عطاء سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ انصاری اور حضرت ابن عباسؓ دونوں کہتے ہیں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن اذان نہیں کہی جاتی تھی۔ پھر میں نے کچھ عرصہ کے بعد اس بارہ میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ نے خبر دی کہ عید الفطر کے دن نماز کے لئے کوئی اذان نہیں ہے۔ جب امام باہر نکلے اور نہ ہی اس کے باہر نکلنے کے بعد اور نہ ہی اقامت نہ اذان اور نہ کوئی اور چیز۔ نہ اس دن اذان ہے اور نہ اقامت۔
عطاء نے بیان کیا کہ ابن زبیرؓ کی بیعت کے شروع (ایّام) میں حضرت ابن عباسؓ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ عید الفطر کے دن نماز کے لئے اذان نہیں دی جاتی تھی پس آپ اس کے لئے اذان نہ دلوائیں۔ راوی کہتے ہیں ابن زبیرؓ نے اس دن اذان نہیں دلوائی۔ اور حضرت ابن عباسؓ نے یہ بھی پیغام بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے اور یہ ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔ راوی کہتے ہیں ابن زبیرؓ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دو دفعہ نہیں (بلکہ بہت دفعہ) بغیر اذان اور بغیر اقامت کے عیدین کی نماز پڑھی۔
حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ عید الاضحی اور عید الفطر کے دن نکلتے تھے اور نماز سے ابتداء کرتے تھے۔ پھر جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے اور لوگوں کی طرف توجہ فرماتے اور لوگ اپنی نماز کی جگہ بیٹھے ہوتے۔ پھر اگر آپ کو کسی دستہ یا لشکر کے بھجوانے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے یا اس کے علاوہ کوئی کام ہوتا اس کا انہیں ارشاد فرماتے اور آپؐ فرمایا کرتے صدقہ دو، صدقہ دو، صدقہ دو اور سب سے زیادہ صدقہ عورتیں دیتی تھیں۔ پھر آپؐ واپس تشریف لے جاتے تھے ایسا ہی ہوتا رہا یہانتک کہ مروان بن الحکم (امیر) ہوا پس میں مروان کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے نکلا، یہانتک کہ ہم عید گاہ پہنچے۔ جب ہم عید گاہ پہنچے تو دیکھا کثیر بن الصلت نے مٹی اور اینٹوں سے منبر بنایا تھا مروان اپنا ہاتھ مجھ سے کھینچنے لگا گویا کہ وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ کر لے جانے لگا جبکہ میں اسے نماز کی طرف کھینچ رہا تھا۔ جب میں نے اس سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا نماز سے ابتداء (کا طریق) کہاں گیا؟ اس نے کہا نہیں اے ابو سعیدؓ! جو تم جانتے ہو وہ ترک کیا جا چکا۔ میں نے کہا ہر گز نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس سے بہتر نہیں لا سکو گے جو میں جانتا ہوں (میں نے) تین مرتبہ کہا پھر وہ چلا گیا۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں ہمیں آپؐ نے حکم دیا ان کی مراد نبیﷺ سے تھی کہ ہم عیدین میں کنواری لڑکیوں اور پردے کرنے والیوں کو بھی لایا کریں اور آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی جائے نماز سے الگ رہیں۔