يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ .
عباد بن تمیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہؓ بن زید المازنی کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ عید گاہ تشریف لے گئے اور نماز اِستسقاء پڑھی اور اپنی چادر کو پلٹا جب قبلہ کی طرف منہ کیا۔
قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ عید گاہ کی طرف نکلے اور بارش کے لئے دعا کی اور قبلہ کی طرف رُخ کیا اور اپنی چادر الٹائی اور دو رکعت نماز ادا کی۔
أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي وَأَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ .
حضرت عبداللہ بن زیدؓ انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ عیدگاہ نماز استسقاء کے لئے تشریف لے گئے اور جب آپؐ نے دعا کا ارادہ کیا تو قبلہ کی طرف رُخ کیا اور اپنی چادر اُلٹائی۔
أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَجَعَلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
عباد بن تمیم المازنی نے اپنے چچا سے سنا جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن بارش کی دعا کے لئے نکلے۔ آپؐ نے اپنی پشت لوگوں کی طرف کی اور اللہ سے دعا کی اور قبلہ کی طرف رُخ کیا اور اپنی چادر الٹائی، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔
أَنَّحَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ اپنی کسی دعا میں سوائے بارش کے لئے دعا کے اپنے دونوں ہاتھ (اتنے بلند) نہیں اٹھاتے کہ آپؐ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّجُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهِ يُغِثْنَا . قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا . قَالَ أَنَسٌ وَلاَ وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلاَ قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلاَ دَارٍ - قَالَ - فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ - قَالَ - فَلاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا - قَالَ - فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوْلَنَا وَلاَ عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ . فَانْقَلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ . قَالَ شَرِيكٌ فَسَأَلْتُ
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن دارالقضاء کی طرف کے دروازے سے مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ رسول اللہﷺ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا پھر کہا یا رسولؐ اللہ! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور رستے کٹ گئے۔ آپؐ اللہ سے دعا کیجئے وہ ہم پر بارش برسائے۔ راوی کہتا ہے تب رسول اللہﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ پھر دعا کی اے اللہ! ہم پر بارش برسا، اے اللہ! ہم پر بارش برسا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں خدا کی قسم! ہم آسمان میں کوئی بادل نہیں دیکھتے تھے نہ ہی بادل کا کوئی ٹکڑا اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر یا مکان نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں اس (پہاڑی) کے پیچھے سے ڈھال جیسی ایک بدلی اٹھی جب وہ آسمان کے درمیان آئی تو پھیل گئی پھر برسنے لگی۔ راوی کہتے ہے خدا کی قسم! پھر ہم نے ایک ہفتہ سورج نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں اگلے جمعہ پھر ایک شخص اسی دروازے سے داخل ہوا اور رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ آپؐ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور رستے کٹ گئے۔ آپؐ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم سے اس (بارش) کو روک دے۔ راوی کہتے ہیں تب رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے پھر کہا اے اللہ! ہمارے اردگرد اور ہم پر نہیں۔ اے اللہ! ٹیلوں اور چٹانوں پر وادیوں کے اندر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر، تو بارش رک گئی اور ہم باہر نکل کر دھوپ میں چلنے لگے۔ شریک کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا کیا وہ پہلا شخص ہی تھا؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا۔ داؤد بن رُشَید کی روایت جو حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں پر رسول اللہﷺ کے عہد میں قحط پڑا۔ اس دوران رسول اللہﷺ جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسولؐ اللہ! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور بچّے بھوکے مرنے لگے۔ پھر راوی نے پہلی روایت کے مطابق روایت کی اور اس روایت میں (حَوْلَنَا کی بجائے) حَوَالَیناَ کہا۔ راوی کہتے ہیں جس طرف بھی آپؐ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے (بادل) چھٹ جاتے یہاں تک کہ میں نے مدینہ کو (گول وسیع) میدان کی طرح دیکھا اور قناۃ وادی ایک مہینہ بہتی رہی اور کوئی بھی کسی سمت سے نہیں آیا مگر اس نے موسلا دھار بارش کا بتایا۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے لوگ آپؐ کے سامنے کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہنے لگے اے اللہ کے نبیؐ! بارش نہیں ہو رہی، درخت سرخ ہو گئے اور جانور ہلاک ہو گئے۔ راوی نے پوری روایت بیان کی اور اس بارہ میں عبدالاعلیٰ کی ایک روایت یہ ہے پھر مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور وہ اس کے اردگرد برسنے لگے اور مدینہ میں کوئی ایک قطرہ بھی نہ برستا تھا۔ پھر میں نے مدینہ کی طرف دیکھا اور وہ تاج (سے ڈھکے ہوئے سر) کی طرح تھا۔ ابو کریب کی روایت حضرت انسؓ سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں یہ بات زائد بیان کی کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جمع کر دیا اور ہم رک گئے یہاں تک کہ میں نے ایک طاقت ور شخص کو فکر کرتے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کیسے جائے گا۔ ہارون بن سعید الایلی کی روایت حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ
قَالَ قَالَ أَنَسٌ أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَطَرٌ قَالَ فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنْ الْمَطَرِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى.
حضرت انسؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نے آ لیا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اپنا کپڑا ہٹا دیا یہاں تک کہ آپؐ پر کچھ بارش پڑی۔ ہم نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے ایسا کس لئے کیا؟ آپؐ نے فرمایا کیونکہ یہ بلند و بالا رب کی طرف سے تازہ بتازہ آئی ہے۔
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب آندھی یا بادل کا دن ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ سے یہ معلوم ہو جاتا اور آپؐ سامنے تشریف لاتے اور واپس جاتے۔ پھر جب بارش برستی تو آپؐ اس سے خوش ہوتے اور آپؐ سے وہ (کیفیت) جاتی رہتی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے (اس بارہ میں) آپؐ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا میں ڈرا کہ یہ کوئی عذاب نہ ہو جو میری امّت پر مسلط کیا گیا ہو۔ جب آپؐ بارش دیکھتے تو فرماتے یہ رحمت ہے۔
يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ كَأَنَّهُ الْمُلاَءُ حِينَ تُطْوَى .
ﷺ
کے پاس جمعہ کے دن آیا اور آپؐ منبر پر تھے۔ پھر راوی نے پوری روایت بیان کی اور اس میں یہ زائد بات بیان کی کہ بادل اس طرح چھٹتے دیکھا جس طرح وہ چادر ہے جب وہ لپیٹی جاتی ہے۔