بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 20 hadith
علقمہ بن وائلؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا تم انگور کوکَرْم نہ کہو لیکن حَبْلَۃ کہو۔
علقمہ بن وائلؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا تم (انگور کو) کَرْم نہ کہو بلکہ عِنَب اور حَبْلَۃ کہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ہرگزیہ عَبْدِی_أَمَتِی (میرا عَبْد_ میری اَمَۃ) نہ کہے کیونکہ تم سب اللہ کے عَبْد ہو اور ہر عورت اللہ کی أَمْۃ ہے بلکہ یہ کہے: غُلَامِی، جَارِیَتِی، فَتَایَ، فَتَاتِی۔ میرا غلام، میری لڑکی، میرا جوان، میری خادمہ
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی یہ نہ کہے میرا عَبْد، تم سب اللہ کے عَبْد ہو بلکہ تم کہو فَتَایَ اور نہ ہی غلام (اپنے آقا کو) رَبِّی کہے بلکہ سَیِّدِی کہے۔ ایک اور روایت میں (وَلَا یَقُلْ الْعَبْدُ رَبِّی کی بجائے) وَلَا یَقُلْ الْعَبْدُ لِسَیِّدِہِ مَوْلَایَ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں یہ مزید ہے کہ یقینًا اللہ عزوجل ہی تم سب کا مَولَی ہے۔
ہمام بن منبّہ کہتے ہیں یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بتائیں اور انہوں نے کئی احادیث بیان کیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے تم میں سے (کوئی اپنے لئے ربّ کالفظ استعمال کرتے ہوئے) اپنے غلام سے نہ کہے کواپنے ربّ کو پلا، اپنے ربّ کو کھلا اور اپنے ربّ کو وضوء کرا اور تم میں سے کوئی (اپنے آقا کو) رَبِّینہ کہے بلکہ کہے سَیِّدِی، مَوْلَایَ اور تم میں سے کوئی(اپنے غلام کو)نہ کہے عَبْدِی أَمَتِی بلکہ کہے فَتَایَ، فَتَاتِی، غُلَامِی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ خَبُثَتْ نَفْسِی(میرا نفس خبیث ہو گیاہے)بلکہ یہ کہے لَقِسَتْ نَفْسِی میری طبیعت مکدّرہے۔ ایک روایت میں لٰکن کا لفظ نہیں ہے۔
امامہ بن سہلؓ بن حُنیف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی یہ نہ کہ خَبُثَتْ نَفْسِی بلکہ یہ کہے لَقِسَتْ نَفْسِی میری طبیعت مکدّرہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک چھوٹے قد کی عورت دو لمبی عورتوں کے ساتھ چلتی تھی۔ اس نے لکڑی کے دو پاپوش بنائے اور سونے کی ایک خولدار انگوٹھی جو بند کی جا سکتی تھی اور اس میں مشک بھردیا اور وہ سب سے اچھی خوشبو ہے اور دونوں عورتوں کے درمیان چلنے لگی اور لوگوں نے اس کو نہ پہچانا اور اس عورت نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیااس طرح اور شعبہ نے اپنے ہاتھ کو جھٹکا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا ذکر کیا۔ جس نے اپنی انگوٹھی میں مشک بھرا تھا اور مشک سب سے اچھی خوشبو ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جسے(ریحان) خوشبو دار پھول دیا جائے تو وہ اسے لینے سے انکار نہ کرے کیونکہ وہ وزن میں ہلکا ہے اور اس کی خوشبو عمدہ ہے۔
نافع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابن عمرؓ جب دھونی لیتے تو عود کی دھونی لیتے جس میں کوئی اور چیز ملی نہ ہوتی اور یا کافور کی جس کو عود کے ساتھ ڈال دیتے۔ پھر کہتے اسی طرح رسول اللہﷺ دھونی لیتے تھے۔