بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا سوار پیدل کو، چلنے والا، بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں۔ باب: سلام کا جواب دینا راستے میں بیٹھنے والے کی ذمہ داری ہے
حضرت ابو طلحہؓ کہتے ہیں کہ ہم گھروں کے سامنے کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا تمہارا راستوں کی مجالس سے کیا جوڑ؟راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔ ہم نے عرض کیا ہم ایسے امور کے لئے بیٹھتے ہیں جو باعثِ تکلیف نہیں۔ ہم بیٹھتے ہیں کہ آپس میں گفتگو کریں اور باتیں کریں۔ آپؐ نے فرمایااگر نہیں تو ان (راستوں ) کا حق ادا کرو۔ نظر نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کہنا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ لوگوں نے عرض کیایا رسولؐ اللہ!ہمارے لئے (راستوں پر)مجلسوں کے بغیر چارہ نہیں، ہم یہاں باتیں کرتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تمہیں ضرور ہی بیٹھنا ہے تو راستہ کا حق ادا کرو۔ انہوں نے عرض کیا۔ اس کا حق کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا نظر نیچی رکھنا اور تکلیف دینے سے بچنا اور سلام کا جواب دینا اور نیکی کا حکم دینا اور بُری بات سے روکنا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا مسلمان کے مسلمان پرپانچ حق ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مسلمان کیلئے اپنے بھائی کی طرف سے پانچ چیزیں واجب ہیں۔ سلام کا جواب۔ چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللَّہُکہنا۔ بلانے پر لبیک کہنا۔ مریض کی عیادت۔ جنازوں کیساتھ جانا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ عرض کیا گیایا رسولؐ اللہ!وہ کیا ہیں؟ آپؐ نے فرمایا جب تم اسے ملو، اسے السلام علیکم کہو اور جب وہ تمہیں بلائے تولبیک کہو اور جب وہ تجھ سے خیر خواہی چاہے تو اس سے خیر خواہی کرو اور جب وہ چھینک مار ے اور اَلْحَمْدُلِلَّہِکہے تو اسے یَرْحَمُکَ اللَّہُکہو اور جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ وفات پاجائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جاؤ۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تمہیں اہلِ کتاب میں سے کوئی سلام کہے تو تم کہو وَعَلَیْکُمْ (تم پر بھی)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے صحابہؓ نے نبیﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کہتے ہیں تو ہم انہیں کیسے جواب دیں؟ آپؐ نے فرمایا تم وَعَلَیْکُمْ کہو۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہود جب تمہیں سلام کہیں اور ان میں سے کوئی کہے السَّامُ عَلَیْکُمْ (تم پر ہلاکت ہو)تو تم کہو عَلَیْکَ۔ایک اور روایت میں (فَقُلْ عَلَیْکَ کی بجائے) فَقُولُوا وَعَلَیْکَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ یہود کے ایک گروہ نے رسول اللہﷺ سے حاضر ہونے کی اجازت مانگی اور انہوں نے اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہا تو حضرت عائشہؓ نے کہا بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عائشہؓ !یقینا اللہ ہر معاملہ میں نرمی پسند فرماتا ہے۔ وہ کہنے لگیں کیا آپؐ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا؟ آپؐ نے فرمایا میں نے (بھی) وَعَلَیْکُمْ کہہ دیا ہے۔ایک اور روایت میں (قَدْ قُلْتُ وَعَلَیْکُمْ کی بجائے) قَدْ قُلْتُ عَلَیْکُمْ کے الفاظ ہیں اور اس میں وَ کاذکر نہیں ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ کے پاس کچھ یہودی آئے اور انہوں نے کہا اے ابو القاسم السَّامُ عَلَیْکَ تجھ پر ہلاکت ہو۔ آپؐ نے فرمایا وَعَلَیْکُمْ اور تم پر بھی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے کہا بلکہ تم پر ہلاکت ہو، تمہاری مذمت ہو۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عائشہؓ !سخت کلامی سے پرہیز کرو۔ وہ کہنے لگیں کیا آپؐ نے ان کی بات نہیں سنی؟ آپؐ نے فرمایا جو انہوں نے کہا کیا میں نے اس کوجو انہوں نے کہا ان پر لوٹا نہیں دیا۔ میں نے کہا ہے وَعَلَیْکُمْ اور تم پر بھی۔ایک اور روایت میں یہ مزید ہے کہ حضرت عائشہؓ ان کی بات سمجھ گئیں اور ان کوبُرا بھلا کہا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عائشہؓ ! رُک جاؤ۔ یقینا اللہ تعالیٰ سختی اور درشتی کو پسندنہیں کرتا اور اس روایت میں یہ مزیدہے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی اور جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو اس طریق پر تجھ سے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں جس طریق پر اللہ نے تجھ پر سلام نہیں بھیجا۔