بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 116 hadith
حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے خشک کھجور کے اس ڈھیر کا سودا جس کے بارہ میں معیّن طور پر معلوم نہ ہو کہ کس قدر ہے معیّن مقدار کی کھجور کے ساتھ کرنے سے منع فرمایا۔ ایک اور روایت میں (سَمِعْتُ کی بجائے) سَمِعَ کے لفظ ہیں اور اسی طرح اس روایت کے آخر میں مِنَ التَّمْرِ کا ذکر نہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو خریدو فروخت کرنے والوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں سوائے بیع خیار کے (جس میں بعد میں بھی اختیار قائم رہتا ہے۔)
حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب دو آدمی ایک دوسرے سے خرید و فروخت کریں تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اور وہ اکٹھے رہیں یا ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور وہ دونوں سودا طے کر لیں تو وہ سودا ہو گیا اور اگر وہ اس وقت الگ ہوں جب وہ سودا طے کر چکے ہوں اور (بعد میں) ان میں سے کوئی بیع کو ترک نہ کرے تو بیع واجب ہو گئی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب دو خریدو فروخت کرنے والے کوئی سودا کریں تو ان میں سے ہر کوئی اپنے سودے کا اختیار رکھتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں یا ان کی خریدو فروخت میں اختیار کا حق رکھا گیا ہو اور جب ان کے سودا میں اختیار ہو تو وہ (سودا) واجب ہو گیا۔ ایک اور روایت میں ہے نافع کہتے ہیں کہ جب وہ (ابن عمرؓ) کسی شخص سے خریدو فروخت کرتے اور چاہتے کہ وہ شخص اس (سودا) کو منسوخ نہ کرے تو آپؓ کھڑے ہو جاتے اور تھوڑا سا چلتے پھر اس کے پاس واپس آجاتے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر دو خرید و فروخت کرنے والوں میں کوئی سودا طے نہیں ہوتا یہان تک کہ وہ دونوں جدا ہو جائیں سوائے بیع خیار کے۔
حضرت حکیم بن حزامؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے فرمایا دو خریدو فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں۔ اگر انہوں نے سچ بولا اور خوب اچھی طرح بیان کیا تو ان دونوں کے لئے ان کے سودا میں برکت دی جائے گی اور اگر ان دونوں نے جھوٹ بولا ہو اور کچھ چھپایا تو ان دونوں کے سودے سے برکت مٹا دی جائے گی۔ مسلم بن حجاج کہتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزامؓ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے تھے اور ایک سو بیس سال زندہ رہے تھے۔
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ کے پاس ذکر کیا کہ اسے خرید و فروخت میں دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم جس سے خرید و فروخت کرو تو کہو لَا خِلَابَۃَ (کوئی دھوکہ نہ ہو)۔ پس جب وہ سودا کرتے تو کہتے لَا خِیَابَۃَ ۔ ایک اور روایت میں فَکَانَ اِذَا بَایَعَ یَقُوْلُ لَا خِیَابَۃَ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ آپؐ نے فروخت کرنے والے اور خریدار (دونوں کو) منع فرمایا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے کھجور کے درخت (کا پھل) فروخت کرنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ پکنے لگے اور سٹے (کی بیع) سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سفید ہو جائے اور یہاں تک کہ آفت سے امن میں آ جائے۔ آپؐ نے بیچنے والے اور خریدار (دونوں کو) منع فرمایا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا پھل کو فروخت نہ کرو یہانتک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور اس پر آفت (کا ڈر) جاتا رہے۔ انہوں (حضرت ابن عمرؓ) نے کہا اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے (یعنی) اس کی سرخی اور اس کی زردی۔ ایک اور روایت میں حتّٰی یَبْدُوَ صَلَاحُہُ کا ذکر ہے مگر اس کے بعد کے الفاظ کا ذکر نہیں۔