بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت حارثہؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے نبیﷺ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا کہ آپؐ کا حوض صنعاء اور مدینہ کے درمیان مسافت جتنا ہے۔ مستورد نے ان سے پوچھا کیا آپ (حضرت حارثہؓ) نے آپﷺ کو نہیں سنا جب آپؐ نے برتنوں کا ذکر کیا انہوں نے کہا نہیں۔ مستورد نے کہا کہ اس میں برتن ستاروں کی طرح دکھائی دیں گے ایک اور روایت اسی طرح ہے مگر اس میں مستورد کے سوال اور حارثہؓ کے جواب کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمہارے آگے چل کر ایک حوض ہو گا جس کے دونوں کناروں کے درمیان جرباء اور اذرح کے درمیان جتنا فاصلہ ہو گا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے آگے ایک حوض ہے جس کے کناروں کے درمیان جرباء اور اذرح کی مسافت جتنا فاصلہ ہو گا۔ ایک روایت میں (حَوْضًا کی بجائے) حَوْضِی (میرا حوض) کے الفاظ ہیں۔ عبید اللہ کہتے ہیں میں نے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا شام کی ان دو بستیوں کے درمیان تین رات کی مسافت ہے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے آگے جرباء اور اذرح کے مابین (مسافت) جتنا ایک حوض ہے۔ جس میں آسمان کے ستاروں کی مانند صراحیاں ہیں۔ جو اس (حوض) پر آیا اور اس میں سے پیا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہو گا۔
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! حوض کے برتن کیا ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے۔ اس کے برتن آسمان کے ستاروں سے تعداد میں زیادہ ہیں۔ سنو! ایک اندھیری رات میں جس میں بادل نہ ہو ستاروں کی طرح جنّت کے برتن ہوں گے۔ جس نے اُن میں پی لیا وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا۔ اس میں جنت کے دو پرنالے گرتے ہیں جس نے اس میں سے پیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ اس کا عرض اس کی لمبائی کی طرح عمان سے ایلۃ کے درمیان مسافت جتنا ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔
حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے حوض کے پینے کی جگہ پر اہلِ یمن کے لئے لوگوں کو ہٹاؤں گا۔ اپنا عصا ماروں گا یہان تک کہ وہ (پانی) ان پر بہہ پڑے گا۔ پھر اس کے عرض کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ میری جگہ سے عمان تک اور جب اس کے پانی کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور اس میں دو پرنالے گریں گے جو اس (حوض) کو جنت (کے پانی) سے بڑھا رہے ہوں گے ایک ان میں سے سونے کا ہوگا اور ایک چاندی کا۔ ایک اور روایت میں (إِنِّی لَبِعُقْرِ حَوْضِی کی بجائے) أَنَّہُ قَالَ أَنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ عُقْرِ الْحَوْضِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: میں اپنے حوض سے ضرور بعض آدمیوں کو ہٹا دوں گا جیسے بیگانہ اونٹ ہٹایا جاتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے حوض کی وسعت ایلہ اور یمن کے صنعاء کی مسافت کے برابر ہے اور یقینا اس میں آسمان کے ستاروں کی تعداد میں صراحیاں ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں میں سے جنہوں نے میری صحبت اختیار کی بعض میرے پاس حوض پر آئیں گے حتی کہ جب میں ان کو دیکھوں گا اور وہ میرے سامنے لائے جائیں گے اور وہ مجھ سے ہٹا دئیے جائیں گے تو میں کہوں گا اے میرے رب! میرے صحابہ، میرے صحابہ۔ تب مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس (حوض) کے برتن ستاروں جتنے ہوں گے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان فاصلہ صنعاء اور مدینہ کے درمیان فاصلہ جتنا ہے۔ ایک روایت میں صنعاء اور مدینہ کے درمیان فاصلہ کی بجائے مدینہ اور عمان کے درمیان فاصلہ کا ذکر ہے۔ اور ایک روایت میں (نَاحِیَتَیْ حَوْضِیْ کی بجائے) لَابَتَیْ حَوْضِیْ کے الفاظ ہیں۔