بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت ابو موسٰیؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ یقینًا اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں میں سے کسی جماعت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے قبل اس کے نبی (کی روُح) کو قبض کر لیتا ہے اور اسے اس امت کے لئے آگے جانے والا اور پیش رو بنا دیتا ہے اور جب کسی امت کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ اسے عذاب دیتا ہے جبکہ اس کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اسے اس طرح ہلاک کرتا ہے کہ وہ (نبی) دیکھ رہا ہوتا ہے اور ان کی ہلاکت سے اس کی آنکھ ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اس کی تکذیب کی ہوتی ہے اور اس کے حکم کی نافرمانی کی ہوتی ہے۔
حضرت جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض پر تمہارے لئے پیش رو ہوں گا۔
ابو حازم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سہلؓ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ جو اس پر آئے گا وہ پیئے گا اور جو کچھ پیئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ میرے پاس ایسے لوگ آئیں گے جنہیں میں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے۔ پھر میرے اور ان کے درمیان روک حائل کر دی جائے گی۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ لقمان بن ابو عیاش نے سنا جب میں لوگوں کو یہ روایت سنا رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ تم نے حضرت سہلؓ کو اسی طرح کہتے سنا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابو سعید خدریؓ کے بارہ میں گواہی دیتا ہوں۔ میں نے انہیں مزید کہتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ فرمائیں گے کہ وہ مجھ سے ہیں۔ تب کہا جائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا۔ تب میں کہوں گا کہ ہلاکت ہو۔ ہلاکت ہو اس کے لئے جس نے میرے بعد (دین کو) بدل دیا۔
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ اس کے کنارے ایک جیسے ہیں۔ اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہے اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہے اور اس کے کُوزے آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں۔ جس نے اس میں سے پی لیا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
وہ (ابن ابی ملیکہ) کہتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے بیان کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں حوض پر ہوں گا اور میں اسے دیکھوں گا جو تم میں سے میرے پاس آتا ہے اور کچھ لوگ مجھ سے لے لئے جائیں گے تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ مجھ سے ہیں اور میری امت سے ہیں۔ تو کہا جائے گا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا؟ اللہ کی قسم! تمہارے بعد یہ اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاتے رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائیں یا ہم اپنے دین کے بارہ میں فتنہ میں ڈالے جائیں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے اور آپؐ اپنے صحابہؓ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ میں حوض پر انتظار کروں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے اور اللہ کی قسم! بعض لوگوں کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا تو میں کہوں گا اے میرے رب یہ مجھ سے ہیں اور میری امت میں سے ہیں۔ تب وہ فرمائے گا: تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا۔ یہ اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاتے رہے۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں لوگوں کو حوض کا ذکر کرتے ہوئے سنا کرتی تھی لیکن رسول اللہﷺ سے اس بارہ میں میں نے نہیں سنا تھا۔ انہی دنوں ایک روز جب ایک لڑکی مجھے کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! اس پر میں نے لڑکی سے کہا: ہٹ جاؤ، لڑکی نے کہا کہ حضورؐ نے تو صرف مردوں کو بلایا ہے عورتوں کو نہیں بلایا۔ اس پر میں نے کہا کہ میں لوگوں میں سے ہوں۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لئے حوض پر پیش رو ہوں گا۔ پس تم میں سے کوئی میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اُسے مجھ سے دور کر دیا جائے جیسے (کوئی) بھٹکا ہوا اُونٹ ہٹایا جاتا ہے۔ تو میں کہوں گا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا۔ پھر میں کہوں گا دوری ہو۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا جبکہ وہ کنگھی کر رہی تھیں: اے لوگو! اس وقت انہوں نے اپنی کنگھی کرنے والی سے کہا کہ میرے سر (کے بال) باندھ دو۔۔۔۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک دن باہر تشریف لے گئے اور اُحد (میں شہداء ہونے) والوں کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ پھر آپؐ منبر کی طرف واپس تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارے لئے پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں خدا کی قسم میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا) زمین کی کنجیاں۔ اور اللہ کی قسم مجھے تمہارے بارہ میں یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد شرک کرو گے لیکن مجھے تمہارے بارے میں یہ ڈر ضرور ہے کہ تم ان کے لئے آپس میں مقابلہ کرنے لگو گے۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اُحد کے شہداء کی نماز جنازہ پڑھی پھر آپؐ منبر پر چڑھے گویا زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں اور فرمایا میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ اس کی چوڑائی ایلہ سے جُحْفَہ کے درمیان تک کی ہے۔ مجھے تمہارے بارہ میں یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک میں پڑ جاؤ گے لیکن مجھے تمہارے بارہ میں یہ ڈر ہے کہ دنیا کے حصول میں تم ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگو گے اور تم باہم لڑنے لگو گے اور ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح تم میں سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے۔ حضرت عقبہؓ کہتے ہیں یہ آخری بار تھی میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں کچھ قوموں سے کشمکش کروں گا اور اُن پر غالب کیا جاؤں گا۔ پھر میں کہوں گا کہ اے میرے رب ! میرے صحابہؓ، میرے صحابہؓ پھر کہا جائے گا: تجھے پتہ نہیں کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کیا۔ ایک روایت میں أَصْحَابِی أَصْحَابِی کا ذکر نہیں ہے۔