بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اس (حوض) میں آسمان کے ستاروں کی تعداد میں سونے اور چاندی کی صراحیاں دکھائی دیں گی۔ ایک اور روایت میں أَوْ أَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَائِ کے الفاظ ہیں یعنی آسمان کے ستاروں کی تعداد سے زیادہ۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس کے دونوں کناروں کے درمیان فاصلہ صنعاء اور ایلہ کے درمیان فاصلہ جتنا ہو گا اور گویا صراحیاں اس میں ستارے ہوں گے۔
عامر بن سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہؓ کی طرف اپنے غلام نافع کے ہاتھ لکھ بھیجا کہ مجھے اس میں سے کچھ بتائیے جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے (جوابًا) لکھا کہ میں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض پر پیش رو ہوں گا۔
حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ میں نے احد کے دن رسول اللہﷺ کے دائیں اور بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ نہ تو اس سے قبل میں نے انہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اس کے بعد۔ ان کی مراد جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام تھے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے احد کے دن رسول اللہﷺ کے دائیں اور آپؐ کے بائیں دو آدمیوں کو جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ آپؐ کی طرف سے زبردست جنگ کر رہے تھے دیکھا۔ نہ تو میں نے انہیں اس سے پہلے کبھی دیکھا نہ ہی بعد میں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سب لوگوں سے زیادہ حسین تھے اور سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ سب لوگوں سے زیادہ بہادر تھے اور ایک رات اہلِ مدینہ نے خطرہ محسوس کیا کچھ لوگ اس آواز کی طرف گئے تو رسول اللہﷺ انہیں واپس آتے ہوئے ملے۔ آپؐ آواز کی طرف ان سے پہلے چلے گئے تھے اور آپؐ ابو طلحہؓ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار تھے اور آپؐ کے گلے میں تلوار تھی اور آپؐ فرما رہے تھے گھبرا نے کی کوئی بات نہیں، گھبرا نے کی کوئی بات نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ہم نے اس (گھوڑے) کو سمندر پایا ہے یا فرمایا یہ سمندر ہے۔ راوی کہتے ہیں حالانکہ وہ گھوڑا بہت سُست ہوا کرتا تھا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ایک دفعہ خوف کی حالت پیدا ہوئی۔ نبی ﷺ نے حضرت ابو طلحہؓ کا گھوڑا مستعار لیا جسے مندوب کہا جاتا تھا اور آپؐ اس پر سوار ہوئے۔ پھر فرمایا ہم نے کوئی خوف (کی بات) نہیں دیکھی اور ہم نے اس (گھوڑے) کو سمندر پایا ہے۔ ایک اور روایت میں فَرَسًا لَنَا کے الفاظ ہیں اور انہوں نے لِأَبِی طَلْحَۃَ نہیں کہا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ خیر و بھلائی میں سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ لیکن رمضان کے مہینہ میں آپؐ سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام ہر سال رمضان میں آپؐ سے ملتے یہاں تک کہ وہ (رمضان) گزر جاتا۔ پھر رسول اللہﷺ انہیں قرآن سناتے۔ جب جبرائیلؑ آپؐ سے ملتے تو رسول اللہﷺ خیر و بھلائی میں تیز آندھی سے بھی بڑھ کر سخی ہوتے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں نے دس سال تک رسول اللہﷺ کی خدمت کی۔ اللہ کی قسم! آپؐ نے مجھے کبھی اُفّ تک نہیں کہا۔ نہ تو آپؐ نے مجھے کسی کام کے بارہ میں فرمایا کہ تُم نے یہ کیوں کیا اور (نہ ہی یہ فرمایا کہ) تم نے ایسا کیوں نہ کیا۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ (یہ خدمت) ایسی نہیں تھی جو نوکر کیا کرتا ہے اور اس روایت میں وَاللَّہِ کا لفظ نہیں ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو طلحہؓ نے میرا ہاتھ پکڑ ا اور مجھے رسول اللہﷺ کے پاس لے گئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! انسؓ سمجھدار بچہ ہے۔ یہ آپؐ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں پھر میں نے سفر و حضر میں آپؐ کی خدمت کی۔ اللہ کی قسم! میرے کسی کام کے بارہ میں جو میں نے کیا آپؐ نے کبھی نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور نہ ہی کسی کام کے بارہ میں جو میں نے نہیں کیا آپؐ نے فرمایا کہ تم نے یہ (کام) اس طرح کیوں نہ کیا۔