بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے تو مدینہ کے خادم اپنے برتنوں میں پانی لے کر آجاتے۔ آپؐ کے پاس جو برتن بھی لایا جاتا آپؐ اس میں اپنا ہاتھ ڈبوتے اور بعض اوقات وہ ٹھنڈی صبح کو آپؐ کے پاس آتے تو (پھر بھی) آپؐ اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا جبکہ بال کاٹنے والا آپؐ کے بال کاٹ رہا تھا اور آپؐ کے صحابہؓ آپؐ کے گرد چکر لگاتے تھے اور چاہتے کہ ایک بال بھی گرے تو کسی آدمی کے ہاتھ میں گِرے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے جس کی عقل میں کچھ فرق تھا عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے آپؐ سے کام ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے اُمِّ فلاں! دیکھ، جس گلی میں بھی تو چاہتی ہے (لے چل) یہانتک کہ میں تیرا کام پورا کردوں۔ پھر آپؐ اس کے ساتھ ایک راستے پر تشریف لے گئے یہانتک کہ اس نے اپنا کام پورا کر لیا۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا تو آپؐ نے ان دونوں میں سے آسان کو اختیار فرمایا جب تک وہ گناہ نہ ہوتا اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپؐ سب لوگوں سے زیادہ اس سے دور تھے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کبھی انتقام نہیں نہ لیا۔ ہاں مگر جب اللہ عزوجل کی حرمت کی ہتک کی جاتی۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو میں سے ایک کام کرنے کا اختیار دیا جاتا جن میں سے ایک دوسرے کی نسبت آسان ہوتا تو آپؐ ان میں سے بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو آسان کو ہی منتخب فرماتے اور اگر اس میں کوئی گناہ کی بات ہوتی تو آپؐ سب لوگوں سے زیادہ اس سے دور ہوتے۔ ایک اور روایت میں أَیْسَرَھُمَا کے الفاظ تک ہے اور اس کے بعد کے الفاظ مذکور نہیں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ کسی عورت کو، نہ کسی خادم کو سوائے اس کے کہ آپؐ اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہوں۔ نہ ہی کوئی تکلیف پہنچنے پر آپؐ نے کبھی اس کے پہنچانے والے سے کوئی انتقام لیا۔ ہاں مگر اللہ کی محرمات کی بے حرمتی کی جاتی تو آپؐ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لیتے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ پہلی (یعنی ظہر کی) نماز پڑھی۔ پھر آپؐ اپنے گھر والوں کے پاس جانے کے لئے نکلے۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ نکلا۔ کچھ بچے آپؐ کے سامنے سے آ گئے۔ آپؐ ایک ایک کر کے ان میں سے ہر ایک کے گالوں کو تھپتھپانے لگے۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں جہاں تک میرا تعلق ہے آپؐ نے میرے گال پر بھی ہاتھ پھیرا تو وہ کہتے ہیں مجھے آپؐ کے ہاتھ کی ٹھنڈک (یا کہا) خوشبو محسوس ہوئی۔ گویا آپؐ نے اسے عطّار کے ڈبہ سے نکالا ہے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کوئی عنبر اور مُشک اور نہ ہی کوئی اور چیز رسول اللہ ﷺ کی مہک سے زیادہ عمدہ پائی اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کے مَس سے زیادہ نرم کوئی چیز کبھی چھوئی نہ دیباج نہ ریشم۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا رنگ ِکھلتا ہوا تھا گویا کہ آپؐ کا پسینہ موتی (کی طرح) تھا۔ جب آپؐ چلتے تو قدرے جھک کر چلتے، نہ ہی آپؐ کے ہاتھ سے زیادہ نرم دیباج اور ریشم میں نے چھوؤا۔ نہ ہی رسول اللہﷺ کی مہک سے زیادہ عمدہ کوئی مُشک یا عنبر میں نے سونگھی۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہمارے ہاں ہی آپؐ نے قیلولہ فرمایا۔ آپؐ کو پسینہ آنے لگا۔ میری ماں ایک شیشی لائی اور اس میں حضورؐ کا پسینہ جمع کرنے لگی۔ حضورﷺ بیدار ہو گئے اور فرمایا اے ام سلیمؓ ! تم یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: یہ آپؐ کا پسینہ ہے جسے ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے۔ وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔