بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ کچھ بادیہ نشین رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا مگر بخدا! ہم تو بوسہ نہیں دیتے۔ اِس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھ کو کیا اختیار ہے اگر اللہ نے تم سے رحمت چھین لی ہے؟ ایک اور روایت میں ’’تمہارے دل سے رحمت‘‘ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نے نبیﷺ کو دیکھا۔ آپؐ حضرت حسنؓ کا بوسہ لے رہے تھے۔ اس نے کہا: میرے دس بچے ہیں میں نے کبھی ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
حضرت جریر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے زیادہ حیادار تھے اور جب آپؐ کچھ ناپسند فرماتے تو ہم اسے آپؐ کے چہرہ سے جان جاتے تھے۔
مسروق سے روایت ہے کہ جب امیر معاویہؓ کوفہ آئے تو ہم حضرت عبداللہ بن عمروؓ کے پاس گئے۔ انہوں نے رسول اللہﷺ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپؐ نہ تو طبعًا تلخ زبان استعمال کرنے والے تھے نہ تکلفًا۔ نیز انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہیں جو تم میں سے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔ راوی عثمان کہتے ہیں کہ (حضرت عبداللہؓ بن عمرو) نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب وہ امیر معاویہؓ کے ساتھ کوفہ آئے۔
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہؓ سے کہا کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں، بہت کثرت سے _ آپؐ اپنے اس مصلَّی سے جس پر آپؐ صبح کی نماز پڑھا کرتے تھے نہ اٹھتے جب تک سورج طلوع نہ ہو جاتا۔ پھر جب (سورج) طلوع ہو جاتا تو آپؐ کھڑے ہوتے _ (اور مجلس میں) لوگ باتیں کرتے، جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرنے لگ جاتے اور ہنستے اور حضورؐ تبسم فرماتے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک سفر پر تھے۔ ایک سیاہ رنگ کا غلام جسے انجشہ کہا جاتا تھا حُدی پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا: اے انجشہ! آہستہ، آبگینے لے جا رہے ہو۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لائے جبکہ ایک ہانکنے والا جسے انجشہ کہا جاتا تھا ان (سواری کے جانوروں ) کو (تیزی سے) ہانک رہا تھا۔ حضورؐ نے فرمایا: اے انجشہ! تیرا بھلا ہو، آرام سے، تم آبگینے لے جا رہے ہو۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ابو قلابہ نے کہا: رسول اللہﷺ نے ایسی بات کہی کہ اگر تم میں سے کوئی وہ کہتا تو تم ضرور اس وجہ سے اس کا عیب نکالتے۔
حضرت انسؓ بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کی ازواج مطہراتؓ کے ساتھ حضرت امّ سلیمؓ تھیں اور ایک ہانکنے والا ان (کی سواریوں ) کو ہانک رہا تھا۔ اس پر اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا اے انجشہ! آہستہ، تم آبگینے لے جا رہے ہو۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا ایک خوبصورت آواز والا حدی خوان تھا۔ (ایک دفعہ) رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا: اے انجشہ! آہستہ، آبگینوں کو نہ توڑ دینا یعنی کمزور عورتوں کو۔ ایک اور روایت حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ کے الفاظ نہیں ہیں۔