حضرت نواس بن سمعانؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صبح رسول اللہﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا اور اس کے ذکر میں آواز کبھی دھیمی ہوئی اور کبھی بلند یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ (دجال قریب ہی) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔ جب ہم شام کو آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ہم میں (گھبراہٹ کے آثار) پہچان لئے اور فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! صبح آپؐ نے دجال کا ذکر کیا تھا کبھی آپؐ کی آواز دھیمی تھی کبھی بلند۔ ہم سمجھے وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا دجال کے علاوہ (اور امور کا) تمہارے بارے میں مجھے زیادہ خوف ہے۔ اگر وہ میری موجودگی میں نکلے تو میں تمہاری طرف سے اس سے دلیل کے ذریعہ مقابلہ کرنے والا ہوں اور اگر وہ نکلے اور میں تم میں نہ ہوں تو ہر شخص کو خود دلیل کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنا ہو گا اور اللہ میرے بعد ہر مسلمان کا خلیفہ ہے۔ وہ (دجال) جوان ہے، بہت گھنے گھنگھریالے بالوں والا ہے۔ اس کی آنکھ پھولی ہوئی ہے گویا کہ میں اسے عبد العزیٰ بن قطن سے تشبیہ دوں گا۔ تم میں سے جو کوئی اسے پائے تو اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راہ سے نکلنے والا ہے۔ دائیں جانب بھی فساد برپا کرے گا اور بائیں جانب بھی۔ پس اے اللہ کے بندو! تم ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا؟ آپؐ نے فرمایا چالیس دن، کوئی دن ایک سال کے برابر ہوگا اور کوئی دن ایک ماہ کے برابر اور کوئی دن ایک ہفتہ کے برابر، اس کے باقی سارے دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! وہ دن جو ایک سال کی طرح ہوگا کیا اس میں ایک دن کی نمازیں ہمارے لئے کافی ہوں گی۔ آپؐ نے فرمایا نہیں اس کے لئے اندازہ کر لینا۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! زمین میں اس کی تیز رفتاری کیسی ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا بارش کی طرح جس کے پیچھے ہوا چل رہی ہو۔ پھر وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں پکارے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے۔ اس پر وہ بادلوں کو حکم دے گا تو وہ خوب بارش برسائیں گے اور زمین کو حکم دے گا تو وہ اگائے گی اور شام کو ان کے مویشی آئیں گے تو ان کی کوہانیں پہلے سے بہت اونچی ہوں گی، ان کے تھن بھرے ہوئے ہوں گے اور ان کی کوکھیں بھری ہوں گی۔ پھر وہ ایک اور قوم کو بلائے گا وہ اس کی بات کو رد کر دیں گے اور وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا تو وہ قحط میں مبتلا ہو جائیں گے اور ان کے ہاتھوں میں ان کے مالوں میں سے کچھ نہ رہے گا اور وہ (دجال) ویرانے سے گذرے گا تو اسے کہے گا کہ اپنے خزانے نکال تو اس (ویرانے) کے خزانے اس طرح اس کے پیچھے چل پڑیں گے جیسے شہد کی نَر مکھیاں۔ پھر وہ ایک بھر پور جوان آدمی کو بلائے گا اور اسے تلوار سے مارے گا اور اس کے دو ٹکڑے کر دے گا نشانے پر مارنے کی طرح پھر اسے پکارے گا تو وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا۔ اتنے میں اللہ مسیحؑ ابن مریم کو مبعوث کرے گا اور وہ سفید مینار کے پاس دمشق کے شرقی جانب دو زرد چادروں میں دو فرشتوں کے بازؤوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔ جب وہ اپنا سر جھکائے گا تو سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے اور جب سر اٹھائے گا تو موتی کی طرح بوندیں ٹپکیں گی۔ کافر (جو) اُس کی سانس کی ہوا پائے، اس کے لئے کچھ چارہ ممکن نہیں مگر یہ کہ وہ مر جائے گا اور اُس کی سانس وہاں تک جائے گی جہاں تک اس کی نظر جائے گی۔ پھر وہ (مسیحؑ دجال) کو تلاش کرے گا یہاں تک کہ اسے بابِ لد پر پالے گا اور اسے قتل کر دے گا پھر عیسیٰؑ بن مریم کے پاس ایک قوم آئے گی جنہیں اللہ نے اس (دجال) سے محفوظ رکھا تھا وہ (عیسیٰؑ بن مریم) ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور انہیں جنت میں ان کے درجے بتائیں گے۔ وہ اس حالت میں ہوں گے کہ اللہ عیسٰیؑ کی طرف وحی کرے گا کہ میں نے اپنے کچھ ایسے بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں تاب نہیں۔ پس میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ۔ پھر اللہ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا وہ ہر بلندی کو پھلانگتے ہوئے آئیں گے۔ ان کا پہلا ہراول دستہ بُحیرہ طبریہ سے گذرے گا۔ وہ جو اس میں ہوگا پی جائیں گے اور ان کا آخری دستہ گذرے گا تو کہے گا یہاں کبھی پانی ہوتا تھا۔ اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کو محصور کردیا جائے گا یہاں تک کہ ان میں سے ایک کے لئے بیل کا سر آج تم میں سے کسی ایک کے لئے سودینار سے بہتر ہوگا۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی (خدا کی طرف) توجہ کریں گے۔ تو اللہ ان (یاجوج ماجوج) کی گردنوں میں ایک کیڑا بھیجے گا۔ ایک آدمی کے مرنے کی طرح سب ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت بھر جگہ بھی ان کی چربی اور تعفّن سے خالی نہ پائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف توجہ کریں گے تو اللہ پرندوں کو بھیج دے گا جو بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گے۔ وہ ان کی لاشیں اٹھا اٹھا کر وہاں پھینکیں گے جہاں اللہ چاہے گا پھر اللہ بارش بھیجے گا جس سے خاک و خشت کا گھر یا خیمہ نہیں بچائے گا۔ پھر زمین کو دھو ڈالے گی یہاں تک کہ اسے آئینے کی طرح کر دے گی پھر زمین سے کہا جائے گا کہ اپنا پھل اگا اور اپنی برکت لوٹا۔ اس دن ایک انار سارا گروہ کھائے گا اور اس کے چھلکے سے سایہ لیں گے اور دودھ میں برکت دی جائے گی حتی کہ دودھ والی اونٹنی ایک بڑے گروہ کو کفایت کرے گی۔ ایک دودھ والی گائے ایک قبیلے کو کفایت کرے گی۔ ایک دودھ والی بکری کا دودھ ایک خاندان کو کفایت کرے گا۔ اسی دوران اللہ ایک خوشگوار ہوا بھیجے گا جو ہر مسلمان کے پہلو کو لگے گی اور ہر مسلمان اور مومن کی روح قبض کر لے گی اور صرف شریر لوگ رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح لڑائی، فساد کریں گے اور ان پر وہ گھڑی آئے گی۔ ایک روایت میں
پر جا کر جو بیت المقدس کا پہاڑ ہے رُک جائیں گے اور کہیں گے کہ جو کوئی زمین میں ہے ہم اسے قتل کر چکے ہیں
آؤ
ہم انہیں قتل کریں جو آسمان میں ہیں پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے تو اللہ ان کی طرف ان کے تیر لوٹادے گا جو خون آلود ہوں گے۔ ایک اور روایت میں (
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے دجال کے بارہ میں تفصیلی گفتگو فرمائی۔ آپؐ نے جو ہمیں بتایا اس میں یہ بھی تھا وہ آئے گا اور اس پر حرام ہوگا کہ وہ مدینہ کے راستوں میں داخل ہو جائے۔ وہ مدینہ کے قریب ایک کلّر زمین تک پہنچ جائے گا۔ اس دن لوگوں میں سے ایک بہترین آدمی اس کی طرف جائے گا اور وہ اسے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارہ میں ہمیں رسول اللہﷺ نے بتایا تھا۔ دجال کہے گا بتاؤ اگر میں اسے قتل کر کے پھر زندہ کر دوں تو کیا تمہیں اس معاملہ میں کوئی شک ہوگا؟ تو وہ کہیں گے نہیں۔ آپؐ نے فرمایا وہ اسے قتل کرے گا پھر زندہ کرے گا اور جب اسے زندہ کر دے گا تو وہ کہے گا اللہ کی قسم! مجھے تیرے بارہ میں پہلے اتنا یقین نہیں تھا جتنا اب ہے۔ آپؐ نے فرمایا دجال پھر اسے قتل کرنے کا ارادہ کرے گا مگر اسے اس پر مسلط نہیں کیا جائے گا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ یہ شخص خضر علیہ السلام تھے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا دجال نکلے گا اور مومنوں میں سے ایک شخص اس کی طرف جائے گا تو اسے ہتھیار بند لوگ _ دجال کے ہتھیار بند لوگ _ ملیں گے۔ وہ اسے کہیں گے کہ تمہارا کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ کہے گا اس (دجال) کی طرف جو نکلا ہے۔ فرمایا وہ اسے کہیں گے کیا تو ہمارے رب (دجال) پر ایمان نہیں لاتا؟ وہ کہے گا ہمارا رب مخفی نہیں ہے۔ وہ کہیں گے اسے قتل کردو وہ آپس میں کہیں گے کیا تمہیں تمہارے رب (دجال) نے منع نہیں کیا تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو قتل نہ کرنا۔ فرمایا وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے جب مومن اسے دیکھے گا تو کہے گا اے لوگو ! یہ تو وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا۔ فرمایا پھر دجال اس کے بارہ میں حکم دے گا تو اس کو پیٹ کے بل لٹایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا اسے پکڑو اور اس کا سر پھوڑ دو اور اس کی پشت اور پیٹ پر بھی مارا جائے گا فرمایا وہ کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا؟ فرمایا وہ کہے گا تو جھوٹا مسیح ہے فرمایا پھر اس کے بارہ میں حکم دیا جائے گا تو اسے آرے کے ساتھ سر سے دونوں پاؤں کے درمیان تک چیرا جائے گا۔ فرمایا پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا پھر وہ اسے کہے گا کھڑے ہوجاؤ تو وہ سیدھا کھڑا ہوجائے گا۔ فرمایا پھر وہ اسے کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ کہے گا مجھے تو تیرے بارہ میں اور زیادہ بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔ فرمایا پھر وہ (مومن) کہے گا اے لوگو! میرے بعد یہ کسی اور سے ایسا نہ کرسکے گا۔ فرمایا پھر وہ (دجال) اسے ذبح کرنے کے لئے پکڑے گا۔ تو اس کا گلا ہنسلی تک تانبے کا بن جائے گا۔ اور وہ (اسے ذبح کرنے) کی طاقت نہیں رکھے گا۔ فرمایا پھر وہ اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر اسے پھینک دے گا۔ لوگ گمان کریں گے کہ اس نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے حالانکہ وہ تو جنت میں ڈالا گیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ رب العالمین کے نزدیک لوگوں میں سے شہادت کے اعتبار سے سب سے بڑا ہے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے نبیؐ ﷺ سے دجال کے بارہ میں اتنا نہیں پوچھا جس کثرت سے میں نے اس کے بارہ میں پوچھا آپؐ نے فرمایا تجھے کیا چیز اس کے بارہ میں پریشان کرتی ہے؟ وہ تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور نہریں ہوں گی۔ آپؐ نے فرمایا اس سب کے باوجود وہ اللہ کے نزدیک بالکل بے حیثیت ہے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کسی نے رسول اللہﷺ سے دجال کے بارہ اس کثرت سے نہیں پوچھا جتنا اس کے بارہ میں میں نے آپؐ سے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا تمہارا سوال کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ روٹی اور گوشت کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی۔ آپؐ نے فرمایا اس سب کے باوجود وہ اللہ کے نزدیک باکل بے حیثیت ہے۔ ایک روایت میں مزید ہے آپؐ نے مجھے فرمایا اے میرے بیٹے۔۔۔۔
یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی کہتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کے پاس ایک شخص آیا تھا میں نے اسے کہتے ہوئے سنا _ یہ کیا روایت ہے جو آپ بیان کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ گھڑی فلاں وقت آئے گی۔ انہوں نے سبحان اللہ کہا یا لا الہ الا اللہ کہا یا ان سے ملتا جلتا کوئی کلمہ _ میں نے ارادہ کیا تھا کہ کسی کے پاس کبھی کوئی روایت بیان نہ کروں میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ تم ضرور کچھ وقت بعد ایک بہت بڑا واقعہ دیکھو گے۔ بیت اللہ کو جلایا جائے گا اور ہو گا اور ہوگا۔ پھر انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت میں دجال خروج کرے گا اور وہ چالیس تک رہے گا _ راوی نے کہا میں نہیں جانتا چالیس دن چالیس مہینے یا چالیس سال _ پھر اللہ عیسیٰؑ بن مریم کو مبعوث فرمائے گا گویا کہ وہ عروہ بن مسعودؓ ہیں۔ وہ (عیسیٰ ابن مریمؑ )اس (دجال) کا پیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے۔ پھر لوگ سات سال تک اس طرح رہیں گے کہ کسی کے درمیان دشمنی نہیں ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا تو سطح ارض پر کوئی ایسا شخص جس کے دل میں ایک ذرہ خیر یا ایمان کا ہے باقی نہیں رہے گا مگر یہ (ٹھنڈی ہوا) اس کی روح قبض کر لے گی یہاں تک کہ اگر کوئی تم میں سے پہاڑ کے اندر بھی داخل ہو جائے تو یہ وہاں داخل ہو کر اس کی روح قبض کرے گی۔ راوی کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا پھر فرمایا برے لوگ بے حیثیت پرندوں اور ناسمجھ درندوں میں ہوں گے۔ وہ کسی نیکی کو نیکی نہیں جانیں گے اور کسی برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے۔ شیطان ان کے لئے متمثل ہوگا اور کہے گا تم میری بات نہیں مانو گے؟ وہ کہیں گے تم ہمیں کیا حکم دیتے ہو؟ تو وہ انہیں بتوں کی عبادت کا حکم دے گا۔ وہ اس میں مشغول ہو جائیں گے ان کا رزق کشادہ اور ان کی زندگی خوشحال ہو گی۔ پھر صور پھونکا جائے گا اور جو بھی اسے سنے گا اس کی طرف لپکے گا راوی کہتے ہیں پہلا شخص جو اس آواز کو سنے گا وہ شخص ہے جو اپنے اونٹوں کے حوض کو لیپ رہا ہو گا۔ راوی کہتے ہیں وہ بے ہوش ہو جائے گا اور لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا (یا فرمایا) بارش نازل فرمائے گا گویا وہ _ طَلٌّ ہے یا فرمایا ظِلٌّ ہے _ یعنی ہلکی بارش یا سایہ ہے۔ اس بارہ میں نعمان راوی کو شک ہے۔ پھر اس سے لوگوں کے جسموں میں نشوونما ہو گی۔ پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ اور (کہا جائے گا) ان کو کھڑا کرو ان سے پوچھا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر کہا جائے گا آگ کے لئے گروہ کو نکالو تب کہا جائے گا کتنے؟ پھر کہا جائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ آپؐ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور یہ وہ دن ہے جس دن سخت گھبراہٹ کا سامنا ہوگا۔ ایک روایت میں (یَعْقُوبِ بْنِ عَاصِمٍ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ مَسْعُودِ الثَّقَفی۔۔۔ یُحْرِّقُ البَیت کی بجائے)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ الآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا . وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنِ الآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا الدَّجَّالُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ . وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے ایک حدیث یاد کی جسے میں ابھی تک نہیں بھولا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا سب سے پہلی نشانی ظہور کے لحاظ سے سورج کا مغرب سے نکلنا ہے اور چاشت کے وقت لوگوں پر زمین کے کیڑے کا نکلنا، اور جو ان دونوں میں پہلے ہو تو دوسری جلد اس کے پیچھے آجائے گی۔ ابو زُرعہ کہتے ہیں کہ تین مسلمان مروان بن حکم کے پاس مدینہ میں بیٹھے اور انہوں نے سنا تو وہ نشانیاں بیان کر رہا تھا کہ سب سے پہلی نشانی ظہور کے لحاظ سے دجال ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ مروان نے (اپنی طرف سے) کچھ نہیں کہا۔ میں نے رسول اللہﷺ سے ایک حدیث یاد کی جسے میں اب تک نہیں بھولا اور انہوں نے ویسی ہی روایت بیان کی۔ ایک روایت میں (وَھُوَ یُحَدِّثُ عَنِ الْآیَاتِ کی بجائے) تَذَاکَرُوْا السَّاعَۃَ عِنْدَ مَرْوَانَ کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ - حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ شَعْبُ هَمْدَانَ أَنَّهُ سَأَلَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ فَقَالَ حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تُسْنِدِيهِ إِلَى أَحَدٍ غَيْرِهِ فَقَالَتْ لَئِنْ شِئْتَ لأَفْعَلَنَّ فَقَالَ لَهَا أَجَلْ حَدِّثِينِي . فَقَالَتْ نَكَحْتُ ابْنَ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ مِنْ خِيَارِ شَبَابِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ فَأُصِيبَ فِي أَوَّلِ الْجِهَادِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا تَأَيَّمْتُ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَوْلاَهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَكُنْتُ قَدْ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ . فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أَمْرِي بِيَدِكَ فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ . وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ فَقُلْتُ سَأَفْعَلُ فَقَالَ
عامر بن شراحیل شعبی_ شعب ہمدان_ بیان کرتے ہیں انہوں نے ضحاک بن قیس کی بہن فاطمہ بنت قیسؓ سے پوچھا اور وہ ابتدائی ہجرت کرنے والیوں میں سے تھیں کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بتائیں جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو اور آپ اسے حضورؐ کے علاوہ کسی کی طرف منسوب نہ کریں تو انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں ضرور ایسا ہی کروں گی۔ تو انہوں (عامر بن شراحیل) نے ان سے کہا کہ ہاں مجھے بتائیں تو انہوں (حضرت فاطمہ بنت قیسؓ) نے کہا کہ میں نے ابن مغیرہؓ سے نکاح کیا اور وہ اس وقت قریش کے بہترین نوجوانوں میں سے تھے وہ رسول اللہﷺ کی معیت میں پہلے جہاد میں ہی شہید ہوگئے اور جب میں بیوہ ہوگئی تو مجھے عبد الرحمان بن عوفؓ نے اور رسول اللہﷺ کے کئی صحابہؓ نے نکاح کا پیغام بھیجا اور رسول اللہﷺ نے بھی اپنے آزاد کردہ غلام اسامہؓ بن زید کے لئے پیغام بھیجا اور مجھے بتایا گیا تھا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ جو مجھ سے محبت کرے تو اُسامہؓ سے بھی محبت کرے جب رسول اللہﷺ نے مجھ سے اس بارہ میں گفتگو کی تو میں نے عرض کیا کہ میرا معاملہ تو آپؐ کے سپرد ہے۔ آپؐ جس سے چاہیں میرا نکاح کردیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ ام شریک کے گھر چلی جاؤ _اور ام شریک ایک مالدار انصاری خاتون تھیں جو اللہ کی راہ میں بہت خرچ کرنے والی تھیں۔ ان کے پاس مہمان آیا کرتے تھے _میں نے کہا میں ایسا ہی کروں گی پھر آپؐ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو (کیونکہ) ام شریک وہ خاتون تھیں جن کے پاس بہت مہمان آتے ہیں اور مجھے پسند نہیں کہ تمہاری اوڑھنی گر جائے یا تیری پنڈلیاں بے پردہ ہوں اور لوگ تیرے بدن سے وہ دیکھیں جو تجھے برا لگے، ہاں اپنے چچا زاد عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ وہ بنی فہر سے _فہر قریش سے_ تعلق رکھتے تھے اور اس قبیلہ کی شاخ سے تھے جس سے یہ (فاطمہؓ) تھیں۔ پس میں ان کے ہاں چلی گئی جب میری عدت پوری ہوگئی تو میں نے ایک پکارنے والے کی پکار سنی وہ رسول اللہﷺ کا منادی تھا جو نماز کے لئے پکارتا تھا۔ میں مسجد کی طرف نکلی اور رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں عورتوں کی اس صف میں تھی جو مردوں کے پیچھے تھی جب رسول اللہﷺ نے نماز مکمل فرما لی تو منبر پر بیٹھ گئے اور آپؐ ہنس رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا ہر شخص اپنی نماز کی جگہ پر ہی رہے پھر فرمایا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ زیادہ جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم! میں نے تمہیں کسی چیز کی طرف رغبت دلانے یا ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا بلکہ میں نے تمہیں اس لئے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری ایک عیسائی شخص تھا آیا، اس نے بیعت کی اور اسلام لایا اور اس نے مجھے اس سے ملتی جلتی بات بتائی جو میں تمہیں مسیح دجال کے بارہ میں بتایا کرتا تھا اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جذام کے تیس لوگوں کے ہمراہ ایک بحری جہاز میں سوار ہوا اور ایک ماہ تک سمندر کی موجیں ان سے کھیلتی رہیں پھر سمندر میں ایک جزیرہ کے قریب پہنچ گئے یہاں تک کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پر پہنچ گئے۔ پھر وہ چھوٹی کشتیوں پر بیٹھے اور جزیرہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں انہیں ایک بہت گھنے اور زیادہ بالوں والا چوپایہ ملا۔ زیادہ بالوں کی وجہ سے نہ اس کے آگے کا پتہ چلتا تھا نہ پیچھے کا۔ انہوں نے کہا تیرا بھلا ہو تو کون ہے؟ اس نے کہا میں جساسہ ہوں۔ انہوں نے کہا کیا ہے جساسہ؟ اس نے کہا کہ تم اِس آدمی کے پاس دَیر میں چلے جاؤ وہ تمہارے بارہ میں جاننے کا مشتاق ہے۔ جب اس نے ایک آدمی کا نام لیا تو ہم گھبرائے کہ کہیں یہ شیطان ہی نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں ہم تیزی سے دَیر کی طرف چل پڑے۔ جب اس میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الخلقت انسان ہے جیسا ہم نے کبھی نہ دیکھا اور مضبوطی سے جکڑا ہوا، دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ اس کے گھٹنوں اور ٹخنوں کے درمیان لوہے (کی زنجیروں) سے جکڑے ہوئے۔ ہم نے کہا تمہارا بھلا ہو تم کون ہو؟ اس نے کہا میرے بارہ میں تمہیں پتہ لگ ہی چکا ہے، تم مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں جو ایک بحری جہاز میں سوار ہوئے دوران سفر ہم نے سمندر کو اس وقت پایا جب وہ جوش میں تھا۔ موجیں ہم سے ایک ماہ تک کھیلتی رہیں یہاں تک کہ تمہارے جزیرہ میں آ پہنچے۔ ہم اس (جہاز) کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھے اور جزیرہ میں داخل ہوگئے۔ ہم جزیرہ میں داخل ہوئے تو ہمیں ایک بہت گھنے بالوں والا چوپایہ ملا۔ زیادہ بالوں کی وجہ سے نہ اس کے آگے کا پتہ چلتا تھا نہ پیچھے کا۔ ہم نے کہا تیرا بھلا ہو تو کیا ہے؟ اس نے کہا میں جساسہ ہوں ہم نے کہا کون جساسہ؟ اس نے کہا کہ تم اِس آدمی کے پاس دَیر میں چلے جاؤ کیونکہ وہ تمہارے بارہ میں سننے کا شوق رکھتا ہے۔ پس ہم تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئے ہیں اور ہم اس سے بہت گھبرائے ہوئے ہیں کہ کہیں وہ شیطان ہی نہ ہو۔ اس نے کہا کہ مجھے نخل بیسان کے بارہ میں بتاؤ ہم نے کہا کہ اس کی کس چیز کے بارہ میں پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس کی کھجوروں کے بارہ میں کیا وہ پھل دیتی ہیں؟ ہم نے اس سے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ قریب ہے کہ وہ پھل نہیں دیں گی۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے بحیرہ طبریہ کے بارہ میں بتاؤ۔ ہم نے کہا کہ اس کی کس چیز کے بارہ میں پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ کیا اس میں پانی ہے؟ انہوں نے کہا اس میں بہت پانی ہے۔ اس نے کہا عنقریب اس کا پانی ختم ہوجائے گا اس نے کہا مجھے زُغر کے چشمہ کے بارہ میں بتاؤ انہوں نے کہا اس کی کس چیز کے بارہ میں پوچھتے ہو؟ اس نے کہا کیا چشمہ میں پانی ہے؟ اور کیا وہاں رہنے والے اس چشمہ کے پانی سے کھیتیاں اگاتے ہیں؟ ہم نے کہا ہاں اس میں بہت پانی ہے اور اس کے رہنے والے اس سے کھیتیاں اگاتے ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھے امیوں کے نبی کے بارہ میں بتاؤ کہ اس نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ وہ مکہ سے نکلا اور یثرب آ گیا۔ اس نے کہا کیا عربوں نے اس سے جنگ کی؟ ہم نے کہا ہاں اس نے کہا اس نے ان سے کیا سلوک کیا؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے اردگرد عرب پر غالب آگیا اور انہوں نے اس کی اطاعت قبول کر لی۔ اس نے ان سے کہا کیا ایسا ہوگیا ہے؟ ہم نے کہا ہاں اس نے کہا ان کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔ میں تمہیں اپنے بارہ میں بتاتا ہوں کہ میں مسیحِ (دجال) ہوں اور قریب ہے کہ مجھے خروج کی اجازت دی جائے گی۔ میں عنقریب خروج کروں گا اور زمین میں پھروں گا اور چالیس راتوں میں ساری بستیوں میں اتروں گا سوائے مکہ اور طیبہ کے، کہ وہ دونوں مجھ پر حرام کئے گئے ہیں۔ جب کبھی میں ان میں سے کسی ایک میں داخل ہونے کا ارادہ کروں گا تو میرے سامنے ایک فرشتہ آجائے گا جس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تلوار ہوگی اور وہ مجھے اس سے روک دے گا اور اس کے ہر رستہ پر فرشتے ہوں گے جو اس کا پہرا دے رہے ہوں گے۔ وہ (راویہ) کہتی ہیں رسول اللہ
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئی علاقہ ایسا نہیں جس میں دجال اپنا قدم نہ رکھے گا اور ان کے راستوں میں کوئی راستہ نہیں مگر اس پر فرشتے صف بہ صف ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے۔ پھر وہ شور زمین پر اترے گا اور مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے تو اس میں سے ہر کافر اور منافق نکل کر اس (دجال) کی طرف چلا جائے گا۔ ایک روایت میں (فَیَنْزِلُ بِالسِّبْخَۃِ فَتَرْجُفُ الْمَدِینَۃُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ یَخْرُجُ اِلَیہِ مِنْھَا کُلُّ کَافِرٍ وَ مُنَافِقٍ کی بجائے) فَیَاتِی سِبْخَۃَ الْجُرُفِ فَیَضْرِبُ رِوَاقَہُ وَ قَالَ فَیَخْرُجُ اِلَیہِ کُلُّ مُنَافِقٍ وَ مُنَافِقَۃٍ کے الفاظ ہیں۔
نے منبر میں اپنی چھڑی ٹھکور کر فرمایا یہ طَیبہ ہے، یہ طَیبہ ہے یعنی مدینہ۔ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں بتایا تھا؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں (فرمایا) مجھے تمیم کی بات اچھی لگی کہ وہ اس بات کے مطابق ہے جو میں تمہیں اس کے اور مکہ اور مدینہ کے بارہ میں بتایا کرتا تھا۔ سنو! وہ شام یا یمن کے سمندر میں نہیں ہے بلکہ مشرق کی طرف سے ہے، وہ جو بھی ہے مشرق کی طرف ہے، وہ جو بھی ہے مشرق کی طرف ہے۔ آپؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ وہ کہتی ہیں میں نے یہ بات رسول اللہ
ﷺ
سے یاد کرلی۔ ایک روایت میں ہے شعبی کہتے ہیں کہ ہم حضرت فاطمہؓ بنت قیس کے پاس گئے تو انہوں نے اس کھجور سے ہماری تواضع کی جسے رطب ابن طاب کہا جاتا تھا اور ہمیں جَو کے ستو پلائے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں وہ کہاں عدت گذارے؟ انہوں نے کہا کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں تو نبی
ﷺ
نے مجھے اجازت دی کہ میں اپنے اہل میں عدت گزار لوں۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ نماز باجماعت ہونے کو ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ چلی گئی۔ وہ کہتی ہیں میں عورتوں کی سب سے پہلی صف میں تھی جو مردوں کی سب سے آخری صف کے قریب تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی
ﷺ
کو منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپؐ نے فرمایا کہ تمیم داری کے چچیرے بھائی ایک بحری سفر پر گئے۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ گویا میں نبی
ﷺ
کی طرف دیکھ رہی ہوں۔ آپؐ نے اپنی چھڑی کو زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا
ھٰذِہِ طَیْبَۃُ
یہ طیبہ ہے، آپؐ کی مراد مدینہ سے تھی۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت فاطمہؓ بنت قیس سے روایت ہے کہ تمیم داری رسول اللہ
ﷺ
کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ
ﷺ
کو بتایا کہ وہ ایک بحری سفر پر روانہ ہوئے اور ان کی کشتی اصل راستہ سے ہٹ گئی اور ایک جزیرہ میں آ لگی۔ وہ پانی کی تلاش میں اس کے اندر گیا تو ایک شخص سے اس کی ملاقات ہوئی جس کے لمبے بال تھے۔ باقی روایت راوی نے بیان کی اور ذکر کیا کہ اس نے کہا اگر مجھے نکلنے کی اجازت دی گئی تو میں طیبہ کے علاوہ تمام علاقوں کو روند ڈالوں گا۔ پس رسول اللہ
ﷺ
انہیں لے کر لوگوں کے پاس گئے تو آپؐ نے یہ بات بتائی فرمایا یہ طیبہ ہے اور وہ دجال تھا۔ ایک اور روایت حضرت فاطمہؓ بنت قیس سے مروی ہے کہ رسول اللہ
ﷺ
منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا اے لوگو! مجھے تمیم داری نے بتایا کہ اس کی قوم کے کچھ لوگ سمندر میں اپنی کشتی میں سوار تھے جو ٹوٹ گئی تو وہ ان میں سے بعض کشتی کے تختوں میں سے ایک پر سوار ہوگئے اور سمندر میں ایک جزیرہ کی طرف نکل گئے۔