بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے سر منڈوایا اور آپؐ کے صحابہؓ کے ایک گروہ نے سر منڈوایا اور ان میں سے بعض نے بال کتروائے۔ حضرت عبداللہؓ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے ایک یا دو مرتبہ فرمایا اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرمائے پھر فرمایا اور بال کتروانے والوں پر (بھی)۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے (حج کے موقعہ پر) فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! اور بال کتروانے والوں پر (بھی)۔ آپؐ نے فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! بال کتروانے والوں پر بھی۔ آپؐ نے فرمایا اور بال کتروانے والوں پر بھی۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ رحم فرمائے سر منڈوانے والوں پر۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! بال کتروانے والوں پر بھی۔ آپؐ نے فرمایا اللہ رحم فرمائے سر منڈوانے والوں پر۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! بال کتروانے والوں پر۔ آپؐ نے فرمایا اللہ رحم فرمائے سر منڈوانے والوں پر۔ انہوں نے کہا اور یا رسولؐ اللہ! بال کتروانے والوں پر (بھی)۔ تب آپؐ نے فرمایا اور بال کتروانے والوں پر بھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب چوتھی بار ہوئی تو آپؐ نے فرمایا وَالْمُقَصِّرِیْنَ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! بال کتروانے والوں کو۔ آپؐ نے فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! بال کتروانے والوں کو۔ آپؐ نے فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! بال کتروانے والوں کو (بھی)۔ آپؐ نے فرمایا بال کتروانے والوں کو (بھی)۔
یحیٰ بن حصین اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو حجۃ الوداع میں سر منڈوانے والوں کے لئے تین دفعہ اور بال کتروانے والوں کے لئے ایک دفعہ دعا کرتے سنا۔ اور وکیع نے یہ نہیں کہا کہ حجۃ الوداع میں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ منٰی پہنچے اور جمرہ کے پاس آئے، اسے کنکر مارے، پھر منٰی میں اپنی جائے قیام پر تشریف لائے اور قربانی کی۔ پھر حجّام سے فرمایا (بال) کاٹو اور آپؐ نے اپنے (سر کے) دائیں جانب اشارہ کیا۔ پھر بائیں طرف اشارہ کیا پھر آپؐ وہ (بال) لوگوں کو دینے لگے۔ ابو بکر اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ آپؐ نے حجّام سے کہا یہاں سے (بال) لو اور اپنے ہاتھ سے دائیں جانب اس طرح اشارہ کیا اور اپنے بال ان لوگوں میں تقسیم فرمائے جو آپؐ کے قریب تھے۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ نے حجّام کو بائیں طرف اشارہ کیا تو اس نے آپؐ کے بال مونڈے۔ آپؐ نے وہ امّ سلیم کو عطا فرمائے۔ ابو کریب کی روایت میں ہے کہ (راوی) نے کہا اس (حجام) نے دائیں طرف سے (کاٹنا) شروع کیا پھر آپؐ نے انہیں ایک ایک دو دو (بال) لوگوں میں تقسیم کئے پھر آپؐ نے بائیں طرف اشارہ فرمایا تو اس (حجام) نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا یہاں ابو طلحہ ہے؟ پھر آپؐ نے وہ ابو طلحہؓ کو دے دئیے۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جمرۃ العقبہ کو کنکر مارے۔ پھر قربانیوں کی طرف گئے اور انہیں ذبح کیا اور حجّام بیٹھا ہوا تھا۔ آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو اس نے آپؐ کے دائیں حصّہ کے بال مونڈے۔ آپؐ نے انہیں ان لوگوں میں تقسیم فرما دیا جو آپؐ کے قریب تھے۔ پھر فرمایا دوسری جانب کو مونڈو۔ پھر آپؐ نے فرمایا ابو طلحہؓ کہاں ہیں۔ تو وہ انہیں دے دئیے۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب رسول اللہﷺ نے جمرہ کو کنکر مارے اور اپنی قربانیاں ذبح کیں اور آپؐ نے سر منڈوایا۔ آپؐ نے اپنا دایاں پہلو حجام کے سامنے کیا۔ اس نے اس کو مونڈا پھر آپؐ نے حضرت ابو طلحہؓ انصاری کو بلایا اور وہ (بال) انہیں عطا فرمائے۔ پھر اپنا بایاں پہلو اس کے سامنے کیا اور فرمایا مونڈو۔ اس نے اسے مونڈا۔ آپؐ نے وہ (بال) ابو طلحہؓ کو دئیے اور فرمایا یہ لوگوں میں تقسیم کردو۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن العاص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ حجۃ الوادع میں لوگوں کے لئے منیٰ میں ٹھہرے رہے۔ وہ آپؐ سے سوال پوچھتے تھے۔ ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! مجھے پتہ نہیں تھا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال مونڈ لئے۔ آپؐ نے فرمایا ذبح کر لو اور کوئی حرج نہیں پھر ایک اور شخص آیا اور کہا یا رسولؐ اللہ! مجھے پتہ نہیں تھا اور میں نے رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی۔ آپؐ نے فرمایا رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کے بارہ میں جو آگے پیچھے کی گئی نہیں پوچھا گیا مگر آپؐ نے فرمایا کر لو، کوئی حرج نہیں۔