بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ مُحرِم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم قمیصیں نہ پہنو اور نہ پگڑیاں اور نہ شلواریں نہ بُرنس اور نہ موزے سوائے ایسے شخص کے جسے جوتیاں میسر نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے اور وہ انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے اور تم ایسے کوئی کپڑے نہ پہنو جو زعفران یا ورس سے رنگے ہوں۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ سے پوچھا گیا کہ مُحرِم کیا پہنے؟ آپؐ نے فرمایا کہ مُحرِم قمیص نہ پہنے نہ پگڑی نہ بُرنس نہ شلوار اور نہ ہی کوئی ایسا کپڑا پہنے جسے ورس یا زعفران سے رنگا گیا ہو اور نہ ہی موزے پہنے سوائے اس کے کہ اسے جوتیاں میسر نہ ہوں تو وہ ان موزوں کو کاٹ لے یہانتک کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ مُحرِم زعفران کہ یا ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہنے اور آپؐ نے فرمایا جسے جوتیاں میسر نہ ہوں وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں سے نیچے کاٹ دے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے سنا آپؐ فرما رہے تھے: شلواریں ان کے لئے ہیں جو ازار نہ پائیں اور موزے ان کیلئے ہیں جو جوتیاں نہ پائیں۔ آپؐ کی مراد مُحرِم سے تھی۔ ایک اور روایت میں (سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ کی بجائے) سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ یَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ کے الفاظ ہیں اور صرف شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ عرفات میں خطاب فرما رہے تھے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جوتے نہ پائے وہ موزے پہن لے اور جو ازار نہ پائے وہ شلوار پہن لے۔
صفوان بن یعلی بن امیہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپؐ جعرانہ میں تھے۔ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا۔ اور اس پر خوشبو لگی ہوئی تھی یا کہا خوشبو کا نشان تھا اس نے عرض کیا آپؐ مجھے کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اپنے عمرہ میں کیا کروں؟ راوی نے کہا کہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہونے لگی۔ آپؐ پر اوٹ کر دی گئی۔ حضرت یعلیؓ کہا کرتے تھے میں چاہتا ہوں کہ نبی ﷺ کو دیکھوں جب آپؐ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ راوی کہتے ہیں انہوں (حضرت عمرؓ) نے کہا کیا یہ بات تمہیں خوش کرتی ہے کہ تم نبی ﷺ کو اس حال میں دیکھو کہ آپؐ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ وہ (یعلیٰؓ) کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے کپڑے کا ایک کنارہ اٹھایا میں نے آپؐ کو دیکھا آپؐ کی تیز سانس لینے کی آواز آرہی تھی۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہا: جوان اونٹ کے سانس لینے کی آواز کی طرح۔ راوی کہتے ہیں جب حضورؐ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو آپؐ نے فرمایا عمرہ کے بارہ میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اپنے سے زردی کا نشان یا فرمایا خوشبو کا نشان دھو ڈالو۔ اور اپنا جبہ اتار دو اور اپنے عمرہ میں ویسے ہی کرو جیسے اپنے حج میں کرتے ہو۔
صفوان بن یعلیٰ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپؐ جعرانہ میں تھے اور میں نبیﷺ کے پاس تھا۔ وہ شخص سلے ہوئے کپڑے یعنی جبہ پہنے ہوئے تھا اور وہ خوشبو سے معطر تھا اس نے کہا میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہے اور میں نے یہ پہنا ہوا ہے اور میں خوشبو سے معطر ہوں۔ نبیﷺ نے اسے فرمایا تم اپنے حج میں کیا کرتے ہو۔ اس نے کہا میں یہ کپڑے اتار دیتا اور اپنے سے یہ خوشبو دھو لیتا۔ تو نبیﷺ نے اسے فرمایا جو تم نے اپنے حج میں کرنا تھا وہی اپنے عمرہ میں کرو۔
حضرت یعلیؓ حضرت عمرؓ سے کہا کرتے تھے اے کاش! میں نبیﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپؐ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ جب نبیﷺ جعرانہ میں تھے اور نبیﷺ پر ایک کپڑا تھا جس کے ذریعہ آپؐ پر سایہ کیا گیا تھا۔ آپؐ کے ساتھ آپؐ کے صحابہؓ میں سے کچھ لوگ بھی تھے ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے کہ آپؐ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا۔ اس نے اونی جبہ پہنا ہوا تھا اور خوشبو لگائے ہوئے تھا اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اس شخص کے بارہ میں آپؐ کا کیا ارشاد ہے جو عمرہ کے لئے احرام باندھتا ہے اس نے جبہ پہن رکھا ہے اور خوب خوشبو لگائی ہوئی ہے؟ نبیﷺ نے ایک لمحہ اس کی طرف دیکھا مگر خاموش رہے پھر آپؐ پر وحی ہونے لگی تو حضرت عمرؓ نے حضرت یعلیؓ کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آؤ۔ حضرت یعلیٰؓ آئے۔ انہوں نے اپنا سر اندر کیا تو کیا دیکھا کہ نبیﷺ کا چہرہ سرخ ہے اور آپؐ بلند آواز سے سانس لے رہے ہیں۔ پھر آپؐ سے وہ کیفیت جاتی رہی۔ آپؐ نے فرمایا وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے بارہ میں سوال کیا تھا؟ اس شخص کی تلاش کی گئی اور اسے آپؐ کے پاس لایا گیا نبیﷺ نے فرمایا جو خوشبو تم نے لگائی ہے اسے تین مرتبہ دھو ڈالو اور جبہ اتار دو اور اپنے عمرہ میں ویسا ہی کرو جیسے اپنے حج میں کرتے ہو۔
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپؐ جعرانہ میں تھے۔ اس نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اور اپنی داڑھی اور سر پر زرد رنگ (کی خوشبو) لگائی ہوئی تھی اور جبہ پہنا ہوا تھا۔ اس نے کہا: یا رسولؐ اللہ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور میرا حال آپؐ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا جُبّہ اتار دو اور زرد رنگ اپنے سے دھو ڈالو اور جو اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ میں کرو۔
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپؐ کے پاس ایک شخص آیا اس نے جبہ پہنا ہوا تھا جس پر خوشبو کا نشان تھا۔ اس نے کہا: یا رسولؐ اللہ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے میں کیا کروں۔ آپؐ اس پر خاموش رہے اور اسے جواب نہ دیا جب آپؐ پر وحی نازل ہوتی تھی تو حضرت عمرؓ آپؐ پر کپڑے سے سایہ کر دیتے تھے۔ مَیں نے حضرت عمرؓ سے کہا ہوا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب آپؐ پر وحی نازل ہو تو میں اپنا سر آپؐ کے ساتھ کپڑے میں داخل کروں پھر جب آپؐ پر وحی نازل ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپؐ پر کپڑا ڈال دیا میں آپؐ کے پاس آیا اور اپنا سر آپؐ کے ساتھ کپڑے میں داخل کر دیا اور آپؐ کو دیکھا جب آپؐ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو آپؐ نے فرمایا: ابھی جس نے عمرہ کے بارہ میں سوال کیا تھا کہاں ہے؟ وہ آپؐ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا اپنا جبہ اتار دو اور جو خوشبو کا نشان تم پر ہے دھو ڈالو اور اپنے عمرہ میں وہی کرو جو تم اپنے حج میں کرتے۔