بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
عبدالرحمان بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے جمرۃ العقبہ کو وادی کے نشیب سے سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکر کے ساتھ وہ اللہ اکبر کہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں ان سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس کو اوپر کی طرف سے کنکر مارتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یہ ان کے کھڑا ہونے کا مقام ہے جن پر سورۃ البقرہ اتری۔
اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حجاج بن یوسف کو کہتے سنا۔ وہ منبر پر خطبہ دے رہا تھا قرآن کو اسی طرح تالیف کرو جس طرح جبریل نے تالیف کیا تھا۔ (اور یہ کہو) کہ وہ سورت جس میں بقرہ کا ذکر ہے اور وہ سورت جس میں نساء کا ذکر ہے اور وہ سورت جس میں آل عمران کا ذکر ہے۔ راوی کہتے ہیں میں ابراہیم سے ملا اور انہیں حجاج بن یوسف کی بات بتائی تو انہوں نے اسے بُرا بھلا کہا اور کہا کہ عبدالرحمان بن یزید نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ تھے۔ وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور وادی کے نشیب میں کھڑے ہوئے اور اس کو سامنے رکھا اور اسے وادی کے نشیب سے سات کنکر مارے۔ ہر کنکر کے ساتھ وہ اللہ اکبر کہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو عبدالرحمان! لوگ تو اس کو اوپر کی طرف سے کنکر مارتے ہیں۔ انہوں نے کہا اس کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یہ اُن کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ اُتری۔ اعمش سے روایت ہے کہ میں نے حجاج سے سنا وہ کہتا تھا کہ سورۃ البقرہ نہ کہا کرو۔
عبدالرحمان بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہؓ کے ساتھ حج کیا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے جمرہ کو سات کنکر مارے۔ انہوں نے بیت اللہ کو اپنے بائیں اور منٰی کو اپنے دائیں رکھا اور کہا یہی اُن کے کھڑا ہونے کی جگہ ہے جن پر سورۃ بقرہ اُتری۔ ایک اور روایت میں (حضرت عبداللہؓ کے بارہ میں) فَلَمَّا اَتٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ کے الفاظ ہیں۔
عبد الرحمان بن یزید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہؓ سے کہا گیا کہ لوگ گھاٹی کے اوپر کی طرف سے جمرہ کو کنکریاں مارتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہؓ نے وادی کے نشیب سے کنکر مارے۔ پھر انہوں نے کہا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ انہوں نے یہاں سے کنکر مارے تھے جن پر سورہ بقرہ اُتری۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں میں نے نبیﷺ کو اپنی سواری پر سے قربانی کے دن کنکریاں مارتے دیکھا اور آپؐ فرما رہے تھے تاکہ تم اپنے عبادت کے طریق سیکھو۔ کیونکہ میں نہیں جانتا شاید میں اپنے اس حج کے بعد کوئی اور حج نہ کر سکوں۔
یحیٰ بن حصین اپنی دادی ام الحصینؓ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں میں نے انہیں سنا وہ کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقعہ پر حج کیا۔ میں نے آپؐ کو اس وقت دیکھا جب آپؐ نے جمرہ عقبہ کو کنکر مارے اور واپس ہوئے۔ آپؐ اپنی سواری پر سوار تھے اور آپؐ کے ساتھ حضرت بلالؓ اور حضرت اسامہؓ تھے۔ ان میں سے ایک تو آپؐ کی سواری لے کر آگے آگے چل رہا تھا اور دوسرا رسول اللہ ﷺ کے سر پر دھوپ کی وجہ سے اپنا کپڑا تانے ہوئے تھا۔ وہ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے بہت سی باتیں فرمائیں پھر میں نے آپؐ کو فرماتے سنا اگر تمہارے اوپر غلام کو امیر بنا دیا جائے جس کے ناک کان کٹے ہوں۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہا تھا ایک سیاہ رنگ کا آدمی جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری رہنمائی کرے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔
یحیٰ بن حصین اپنی دادی ام حصین سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کیا اور میں نے حضرت اسامہؓ اور حضرت بلالؓ کو دیکھا۔ ان میں سے ایک نبی ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھا اور دوسرا اپنا کپڑا تانے ہوئے آپؐ کو گرمی سے بچا رہا تھا یہاں تک کہ آپؐ نے جمرۃ العقبیٰ کو کنکر مارے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو سنگریزوں جیسے کنکروں سے رمی جمار کرتے دیکھا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمرہ کو قربانی کے دن چاشت کے وقت کنکریاں ماریں اور اس کے بعد جب سورج ڈھل چکا تھا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کنکر طاق لینے چاہئیں اور رمی جمار طاق ہے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی طاق ہے اور (بیت اللہ کا) طواف طاق (ہے) پس جب تم میں سے کوئی کنکر لے تو اُسے چاہیے کہ وہ طاق تعداد میں کنکر لے۔