بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فتح کے دن (یعنی) فتحِ مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت نہیں ہے لیکن کوشش اور نیت ہے اور جب تمہیں نکلنے کے لئے کہا جائے تو نکلا کرو اور فتح یعنی فتحِ مکہ کے دن فرمایا یقینا اس شہر کی حرمت اللہ تعالیٰ نے اس دن سے قائم کی ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی اس حرمت کی وجہ سے قیامت تک قابلِ احترام ہے اور کسی کے لئے بھی مجھ سے پہلے اس میں لڑائی جائز نہیں ہوئی اور میرے لئے بھی صرف دن کی ایک گھڑی جائز ہوئی اور یہ اللہ تعالیٰ کے قابلِ احترام قرار دینے کی وجہ سے قیامت تک قابلِ احترام ہے اور اس کے کانٹے نہیں کاٹے جائیں گے اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے گا اور نہ اس کی گمشدہ چیز کوئی اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے، نہ ہی اس کی گھاس کاٹی جائے گی۔ حضرت عباسؓ نے کہا یارسولؐ اللہ! سوائے اذخر کے کیونکہ یہ ان کے کاریگروں اور گھروں کے استعمال کے لئے ہے۔ آپؐ نے فرمایا سوائے اذخر کے۔ ایک اور روایت میں یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کے الفاظ نہیں ہیں اور اَلْقِتَالْ کی بجائے اَلْقَتْلُ کا لفظ آیا ہے اور اسی طرح لَا یَلْتَقِطُ اِلَّا مَنْ عَرَّفَہَا کی بجائے لَا یَلْتَقِطُ لُقْطَتَہُ اِلَّا مَنْ عَرَّفَہَا کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو شریح عدوی سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید کو کہا جبکہ وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا اے امیر! مجھے اجازت دیں، میں آپ کو ایک ایسی بات بتاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ کے اگلے دن فرمائی تھی۔ جسے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے جسے محفوظ رکھا اور میری آنکھوں نے آپؐ کو دیکھا جب آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثناء کی پھر فرمایا یقینا مکہ کی حرمت کو اللہ نے قائم کیا ہے نہ کہ لوگوں نے اس کی حرمت قائم کی ہے۔ اس لئے کسی شخص کے لئے جو اللہ اور آخری دن پر ایمان لاتا ہے جائز نہیں کہ وہ یہاں خون بہائے اور نہ ہی یہاں کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے رسول ﷺ کی اس میں لڑائی سے جواز نکالے تو اسے کہو یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی صرف دن کی ایک ساعت کے لئے اجازت دی تھی اور آج کے دن اس کی حرمت پھر بحال ہوئی جیسے کل اس کی حرمت تھی اور چاہیے کہ حاضر غائب کو یہ بات پہنچا دے۔ ابو شریح سے کہا گیا عمرو نے آپ سے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا اے ابو شریح! میں اس بات کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں یقینا حرم کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ہی خون کر کے بھاگنے والے کو اور نہ ہی فساد کر کے بھاگنے والے کو۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں جب اللہ عزوجل نے رسول اللہﷺ کو مکہ کی فتح عطا فرمائی۔ آپؐ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثناء کی پھر فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو مکہ سے روک دیا تھا اور مکہ پر اپنے رسولﷺ کو اور مؤمنوں کو فتح عطا فرمائی اور یہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس کی حرمت نہیں اٹھائی گئی اور یقینا میرے لئے بھی دن کی ایک ساعت کے لئے اس کی حرمت اٹھائی گئی تھی اور میرے بعد کسی کے لئے اس کی حرمت نہیں اٹھائی جائے گی۔ نہ تو اس کا شکار بھگایا جائے گا اور نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے نہ اس کی گمشدہ چیز اٹھانا جائز ہوگا سوائے اعلان کرنے والے کے لئے۔ اور جس کا کوئی قتل ہو جائے اس کے لئے دو باتوں میں سے بہتر (اختیار کرنا) ہے یا تو اس کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کیا جائے۔ حضرت عباسؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ! سوائے اذخر کے کیونکہ ہم اسے قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا (ہاں) سوائے اذخر کے۔ پھر اہلِ یمن کا ایک شخص ابو شاہؓ کھڑا ہوا اور عرض کی یا رسولؐ اللہ! مجھے یہ باتیں لکھ دیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ابو شاہؓ کے لئے یہ لکھ دو۔ ولید کہتے ہیں میں نے اوزاعی سے کہا اس کی اس بات کا کیا مطلب تھا کہ یا رسولؐ اللہ! میرے لئے لکھ دیں؟ انہوں نے کہا یہی خطبہ جو اُس نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ خزاعہ قبیلہ نے بنی لیث کے ایک آدمی کو فتحِ مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے عوض جسے انہوں (بنی لیث) نے مار دیا تھا، قتل کر دیا۔ رسول اللہﷺ کو یہ بات بتائی گئی۔ آپؐ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا یقینا اللہ عزوجل نے مکہ سے اصحاب الفیل کو روک دیا تھا اور اپنے رسولؐ اور مؤمنوں کو اس پر غلبہ عطا فرمایا۔ سنو! مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس کی حرمت نہیں اٹھائی گئی اور نہ اس کی حرمت میرے بعد کسی کے لئے اٹھائی جائے گی۔ سنو! میرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی اس کی حرمت اٹھائی گی۔ سنو! یقیناً میری اس گھڑی میں پھر اس کی حرمت قائم ہے۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ جھاڑے جائیں گے اور نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے۔ نہ اس کی گمشدہ چیز کوئی اٹھائے گا سوائے اعلان کرنے والے کے۔ اور جس کا کوئی قتل کیا جائے اسے دو باتوں میں سے بہتر (اختیار کرنا) ہے۔ یا تو اسے دیت دی جائے اور یا مقتول کے اہل کو بدلہ دلایا جائے۔ راوی کہتے ہیں اہلِ یمن میں سے ایک شخص آیا جسے ابو شاہؓ کہا جاتا تھا اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! (یہ) مجھے لکھ دیں۔ آپؐ نے فرمایا ابو شاہؓ کے لئے لکھ دو۔ قریش میں سے ایک شخص نے کہا سوائے اذخر کے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا (ہاں) سوائے اذخر کے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا تم میں سے کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکّہ میں ہتھیار اٹھا کر چلے پھرے۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے۔ اور آپؐ کے سر پر خَود تھا جب آپؐ نے اس (خَود) کو اُتارا تو ایک شخص آپؐ کے پاس آیا اور کہا ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے قتل کردو۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مکّہ میں داخل ہوئے اور راوی قتیبہ کہتے ہیں آپ فتحِ مکہ کے دن داخل ہوئے اور آپؐ نے سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا مگر آپؐ احرام میں نہیں تھے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتحِ مکہ والے دن داخل ہوئے اور آپؐ نے سیاہ عمامہ پہن رکھا تھا۔
جعفر بن عمرو بن حُریث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے خطاب فرمایا اور آپؐ نے سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا۔
جعفر بن عمرو بن حُریث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا گویا میں رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھ رہا ہوں اور آپؐ سیاہ پگڑی پہنے ہوئے ہیں اور آپؐ نے اس کے دونوں پلو کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔ راوی ابوبکر نے ’’منبر پر‘‘ کے الفاظ نہیں کہے۔