بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
عبدالرحمان اپنے والد حضرت ابو سعیدؓ خدری سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا میں نے مدینہ کے دو لاوے کے میدانوں کے درمیان کو حرم قرار دیا ہے جیسے ابراہیمؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت ابو سعیدؓ ہم میں سے کسی کو پکڑتے یا بقول ابوبکر پاتے اور اس کے ہاتھ میں پرندہ ہوتا تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے اور اس کو چھوڑ دیتے۔
حضرت سہلؓ بن حُنیف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یہ امن والا حرم ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں ہم مدینہ آئے اور وہ وبائی علاقہ تھا۔ حضرت ابو بکرؓ بیمار پڑ گئے اور حضرت بلالؓ بھی بیمار پڑ گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہؓ کی بیماری دیکھی تو فرمایا اے اللہ! ہمیں مدینہ کی محبت عطا کر جیسا کہ تو نے مکہ کی محبت عطا کی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت افزا (مقام) بنا دے اور ہمارے لئے اس کے صاع اور مدّ میں برکت ڈال دے اور اس کے بخار کو جُحفۃ کی طرف پھیر دے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا جو شخص مدینہ کی مشقت پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لئے شفاعت کرنے والا (یا فرمایا) گواہ ہوں گا۔
حضرت زبیرؓ کے آزاد کردہ غلام یُحَنَّس سے روایت ہے کہ وہ فتنے کے زمانہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی آئی۔ اس نے ان کو سلام کیا اور اس نے کہا اے ابو عبدالرحمان! میں نے یہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا ہے کیونکہ زمانہ ہم پر سخت ہو گیا ہے۔ عبداللہ نے اس سے کہا بیوقوف بیٹھ جا۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کوئی بھی مدینہ کی مشقت اور شدت پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دینے والا یا (فرمایا) شفاعت کرنے والا ہوں گا۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے جو شخص اس کی مشقت اور شدّت پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی گواہی دینے والا یا (فرمایا) اور شفاعت کرنے والا ہوں گا۔ آپؐ کی مراد مدینہ سے تھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو مدینہ کی مشقت اور شدّت پر صبر کرے مگر میں قیامت کے دن اس کے لئے شفاعت کرنے والا یا فرمایا گواہی دینے والا ہوں گا۔ ایک اور روایت میں (لَا یَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِ الْمَدِیْنَۃِ کی بجائے) لَا یَصْبِرُ اَحَدٌ عَلَی لَأْوَائِ الْمَدِیْنَۃِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ کے راستوں پر ملائکہ ہیں۔ نہ اس میں طاعون داخل ہوگی اور نہ دجال۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مسیح (الدجال) مشرق کی طرف سے آئے گا اس کا ارادہ مدینہ کا ہوگا یہاں تک کہ احد پہاڑ کے عقب میں اُترے گا۔ پھر فرشتے اس کا رُخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہاں وہ ہلاک ہو جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ایک شخص اپنے چچا زاد اور اپنے قریبی کو بلائے گا کہ آسائش کی طرف آؤ، آسائش کی طرف آؤ حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ جانتے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی (شخص) بھی مدینہ سے بے رغبتی کرتے ہوئے نہیں نکلتا مگر اللہ تعالیٰ اس میں اس سے بہتر قائم مقام بناتا ہے۔ سنو! مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو گندے کو باہر نکال دیتا ہے۔ قیامت قائم نہیں ہوگی یہانتک کہ مدینہ اپنے شریر لوگوں کو نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کے گند کو نکال دیتی ہے۔