بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ ! مکہ میں جو برکت ہے اس سے دو چند مدینہ کو عطا فرما۔
ابراہیم التیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب نے ہم سے خطاب فرمایا کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ ہمارے پاس کتاب اللہ کے علاوہ اور اس صحیفہ کے سوا کوئی چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو اس نے غلط کہا۔ راوی کہتے ہیں ایک صحیفہ ان کی تلوار کی میان میں لٹکا ہوا تھا۔ اس میں اونٹوں کی عمریں اور مختلف قسم کے زخموں کے معاملات کا ذکر تھا اور اس میں یہ بھی تھا نبیﷺ نے فرمایا مدینہ عَیر اور ثور کے درمیان حرم ہے۔ پس جس نے اس میں کوئی بدعت نکالی یا بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے نہ کوئی بدلہ اور نہ کوئی معاوضہ قبول کرے گا اور سب مسلمانوں کی ذمہ داری ایک ہی ہے ان کا کوئی عام آدمی بھی یہ ذمہ داری اٹھائے اور جس نے اپنے والد کے علاوہ خود کو کسی اور طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کیا یا جو اپنے مالکو ں کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے تو اس پر اللہ اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے نہ کوئی بدلہ اور نہ معاوضہ قبول کرے گا۔ راوی ابو بکر اور زہیر کی روایت میں یَسْعَی بِھَا اَدْنَاہُمْ سے بعد کے الفاظ نہیں ہیں اور اس طرح مُعَلَّقَۃٌ فِی قِرَابِ سَیْفِہِ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جس نے کسی مسلمان سے عہد شکنی کی اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اور قیامت کے دن اس سے کوئی بدلہ نہ معاوضہ قبول کیا جائے گا اور اس روایت میں مَنْ ادَّعٰی اِلٰی غِیْرِ اَبِیْہِ کے الفاظ نہیں ہیں اور نہ ہی یوم القیامۃ کا ذکر ہے ایک اور روایت میں اِنْتَمَی اِلَی غَیْرِ مَوَالیْہِ کے بجائے مَنْ تَوَلّٰی غَیْرِ مَوَالِیْہِ کے الفاظ ہیں اور لَعْنَۃُ اللّٰہِ کے بجائے اَلْلَعْنَۃُ لَہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا مدینہ حرم ہے جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اس سے قیامت کے دن نہ کوئی بدلہ اور نہ کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا۔ ایک اور روایت میں یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کے الفاظ نہیں مگر اضافہ ہے کہ ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌ یَسْعَی بِھَا اَدْنَاہُمْ فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ لَا یُقْبَلُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے اگر میں ہرنوں کو مدینہ میں چرتے دیکھوں تو انہیں ہراساں نہیں کروں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے دو لاوے کے میدانوں کے درمیان کی جگہ حرمت والی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے مدینہ کے دو لاوے کے میدانوں کے درمیانی علاقہ کی حرمت قائم کی تھی۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں اگر میں ان دونوں میدانوں کے درمیان ہرنوں کو پاؤں تو انہیں ہراساں نہیں کروں گا اور آپ نے مدینہ کے گرد بارہ میل تک محفوظ علاقہ مقرر فرمایا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگ جب پہلا پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبیﷺ کے پاس لاتے۔ جب رسول اللہﷺ اسے لیتے تو آپؐ یہ دعا کرتے۔ اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت ڈال اور ہمارے لئے ہمارے شہر میں برکت ڈال اور ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت ڈال اور ہمارے لئے ہمارے مدّ میں برکت ڈال۔ اے اللہ! یقینا ابراہیمؑ تیرا بندہ اور تیرا دوست اور تیرا نبی تھا اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں اور اس نے تجھ سے مکہ کے لئے دعا کی تھی اور میں تجھ سے مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں اسی کی طرح جو اس نے مکہ کے لئے دعا کی تھی اور اس جیسی اور بھی۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور اُسے وہ پھل دے دیتے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس پہلا پہلا پھل لایا جاتا۔ آپؐ کہتے اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے شہر میں برکت رکھ دے۔ اور ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مدّ میں اور ہمارے صاع میں برکت پر برکت رکھ دے۔ پھر اپنے پاس موجود بچوں میں سے سب سے چھوٹے کو وہ عطا فرماتے تھے۔
المَہری کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ ان کو مدینہ میں سخت تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ حضرت ابو سعیدؓ خدری کے پاس آئے اور ان سے کہا میں بہت عیالدار ہوں اور ہمیں سخت مشکل کا سامنا ہے اس لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں بچوں کو کسی گاؤں میں منتقل کر دوں۔ حضرت ابو سعیدؓ نے کہا ایسا نہ کرنا اور مدینہ سے چمٹے رہنا کیونکہ ہم اللہ کے نبیﷺ کے ساتھ نکلے۔ میرا خیال ہے انہوں نے کہا یہانتک کہ ہم عسفان پہنچے وہاں آپؐ نے کچھ راتیں قیام کیا لوگوں نے کہا اللہ کی قسم! یہاں ہمارا کوئی کام نہیں ہے اور ہمارے اہل و عیال پیچھے ہیں جن کی حفاظت کے بارہ میں ہمیں اطمینان نہیں ہے۔ یہ بات نبیﷺ تک پہنچی تو آپؐ نے فرمایا تمہاری یہ کیا بات ہے جو مجھ تک پہنچی ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ آپؐ نے کیسے کہا کہ قسم ہے اس کی جس کا میں حلف اٹھاتا ہوں یا فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقینا میں نے ارادہ کیا یا فرمایا اگر تم چاہو مجھے نہیں معلوم ان دونوں میں سے آپؐ نے کیا فرمایا میں ضرور اپنی اونٹنی کے تیار کئے جانے کا حکم دوں اور پھر اس کی گانٹھ نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں اور آپؐ نے کہا اے اللہ! یقینا ابراہیمؑ نے مکہ کی حرمت قائم کی تھی اور اسے حرم بنایا تھا اور میں مدینہ کی حرمت قائم کرتا ہوں اور جو اس کی دونوں گھاٹیوں کے درمیان ہے اس میں خون نہ بہایا جائے اور نہ اس میں لڑائی کے لئے ہتھیار اٹھائے جائیں اور نہ اس میں درختوں کے پتے جھاڑے جائیں سوائے چارہ کے اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت ڈال دے، اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت ڈال دے۔ اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے مدّ میں برکت ڈال دے۔ اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت ڈال۔ اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے مدّ میں برکت ڈال۔ اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت ڈال دے۔ اے اللہ! اس برکت کے ساتھ دو اور برکتیں عطا کرنا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مدینہ میں کوئی گھاٹی اور کوئی درہ نہیں مگر اس پر دو فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں یہاں تک کہ تم اس کی طرف واپس جاؤ۔ پھر آپؐ نے لوگوں سے فرمایا روانہ ہو جاؤ تو ہم روانہ ہوئے، پھر ہم مدینہ پہنچے۔ پس اس ذات کی قسم جس کا ہم حلف اٹھاتے ہیں یا جس کا حلف اٹھایا جاتا ہے_یہ شک (راوی) حماد کو ہے_ مدینہ میں داخل ہوکر ابھی ہم نے اپنے کجاوے اتار کر نہیں رکھے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کر دیا حالانکہ اس سے پہلے انہیں کسی چیز نے نہیں اکسایا تھا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے دعا کی۔ اے اللہ ! ہمارے لئے ہمارے صاع اور ہمارے مدّ میں برکت ڈال دے اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں عطا کردے۔
مہری کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس حرّہ کے واقعہ کے زمانہ میں آیا اور ان سے مدینہ سے چلے جانے کے بارہ میں مشورہ کیا اور ان کے پاس مدینہ کی مہنگائی اور (اپنی) کثرت عیال کی شکایت کی اور انہیں بتایا کہ مدینہ کی مشقت اور تنگی پر اس سے صبر نہیں ہوسکتا۔ اس پر انہوں نے اس سے کہا تیرا بھلا ہو! میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دیتا کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا جو شخص بھی مدینہ کی تنگی پر صبر کرے گا اور مر جائے گا میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا اس پر گواہ ہوں گا اگر وہ مسلمان ہو۔