بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات مہلک باتوں سے بچو۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ آپؐ نے فرمایا اللہ کا شرک کرنا، جادو کرنا، اس جان کو ناحق قتل کرنا جس کی حرمت اللہ نے قائم کی ہے، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، لڑائی کے دن پیٹھ دکھانا اور پاکدامن بے خبر مومن عورتوں پر الزام لگانا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (صحابہؓ نے) عرض کیا یا رسول اللہ! کیا کوئی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں، وہ کسی شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے اور وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے نبیﷺ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہے۔ ایک آدمی نے کہا انسان پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو؟ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے۔ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے تکبر اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے حق کا انکار کرنا ہے اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے وہ آگ میں داخل نہیں ہوگا اور جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حضرت عبداللہؓ روایت کرتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص مر گیا اس حال میں کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک بناتا تھا آگ میں داخل ہوگا‘‘ اور میں کہتا ہوں کہ جو مر گیا اور وہ اللہ کا شریک نہیں بناتا تھا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا یا رسول اللہ! (جنت اور جہنم) واجب کرنے والی دو چیزیں کونسی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کا شریک کسی چیز کو نہیں بناتا تھا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص فوت ہوا جبکہ وہ اللہ کا شریک بناتا تھا وہ آگ میں داخل ہوگا۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس نے کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں بنایا ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس حال میں اسے ملے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا ہوگا تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔
حضرت ابوذرؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو آپؐ کی امت میں سے اس حال میں مرا کہ اس نے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا اگر وہ زنا کر چکا ہو اور چوری کر چکا ہو؟ فرمایا: ہاں خواہ وہ زنا کر چکا ہو اور چوری کر چکا ہو۔
حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس آیا جبکہ آپؐ سوئے ہوئے تھے اور آپؐ کے اوپر سفید کپڑا تھا۔ میں پھر آپؐ کے پاس آیا تو آپؐ سوئے ہوئے تھے۔ پھر میں آپؐ کے پاس آیا آپؐ بیدار ہو چکے تھے۔ میں آپؐ کے پاس بیٹھ گیا تو آپؐ نے فرمایا: جو بندہ بھی لا الٰہ الا اللہ کہے اور پھر اسی پر اس کی موت آجائے وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اس نے چوری کی ہو؟ آپؐ نے فرمایا: خواہ اس نے زنا کیا ہو اور اس نے چوری کی ہو۔ میں نے کہا خواہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپؐ نے فرمایا خواہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، تین بار اور چوتھی دفعہ فرمایا اگر چہ ابو ذر کی ناک کو مٹی لگے۔ اس کے بعد ابوذرؓ باہر نکلے اور یہ کہہ رہے تھے ’’وَاِنْ رَغِمَ اَنْفُ اَبِیْ ذَرٍّ‘‘ (اگرچہ ابو ذرؓ کی ناک کو مٹی لگے)۔