بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ پر ایمان اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: کونسی گردن آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جو اپنے مالک کے نزدیک سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگر میں ایسا نہ کر پاؤں؟ آپؐ نے فرمایا: پھر کسی کاریگر کی مدد کردے یا کسی سادہ لوح (بے ہنر، اناڑی) کو کچھ بنا کر دے۔ وہ کہتے ہیں: مَیں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمائیے اگر میں ایسا کوئی کام (بھی) نہ کرسکوں۔ آپؐ نے فرمایا اپنے شر کو لوگوں سے رو کے رکھ۔ یہی تیری طرف سے تیرے نفس کے لئے صدقہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔ وہ کہتے ہیں: مَیں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا والدین سے حسن سلوک کرنا وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے مزید سوال صرف آپؐ کے ادب کو مدنظر رکھتے ہوئے ترک کر دیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! کون سا عمل جنّت کے سب سے زیادہ قریب ہے؟ آپؐ نے فرمایا نماز اس کے اوقات پر ادا کرنا۔ وہ کہتے ہیں مَیں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ اور کیا؟ آپؐ نے فرمایا والدین سے نیک سلوک کرنا۔ میں نے عرض کیا اور کیا؟ اے اللہ کے نبیؐ ! آپؐ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔
ولید بن عیزار سے روایت ہے۔ انہوں نے ابو عمرو شیبانی سے سنا کہ انہوں نے حضرت عبداللہؓ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس گھر والے نے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ پیارا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: پھر والدین سے حسن سلوک۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ انہوں نے کہا یہ وہ باتیں ہیں جو آپؐ نے مجھے بتائیں اور اگر میں آپؐ سے مزید پوچھتا تو آپؐ ضرور مجھے بتاتے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ بہترین اعمال یا عمل یہ ہے کہ نماز اس کے وقت پر ادا کرنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ تو اللہ کا شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے آپؐ سے کہا یقینا یہ تو بہت بڑی بات ہے۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے بچہ کو اس ڈر سے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا قتل کر دے۔ وہ کہتے ہیں مَیں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا پھر یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔
حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کا ہمسر قرار دے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: پھر یہ کہ اپنے بچہ کو اس ڈر سے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا قتل کر دے۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ اللہ عزوجل نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی (ترجمہ) اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہیں پکارتے اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ہو ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا گناہ کی سزا پائے گا۔ (الفرقان: 69)
عبدالرحمان بن ابی بکرہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے کہ آپؐ نے تین بار فرمایا: کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے (گناہوں) کا نہ بتاؤں؟ آپؐ نے فرمایا اللہ کا شریک بنانا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بولنا۔ رسول اللہﷺ سہارا لئے ہوئے تھے۔ آپؐ بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے چلے گئے ہم نے کہا کہ کاش آپؐ خاموش ہو جائیں۔
حضرت انسؓ نبی ﷺ سے بڑے بڑے گناہوں کے بارہ میں روایت کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کا شریک بنانا، والدین کی نافرمانی کرنا کسی کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا۔
حضرت انسؓ بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا یا آپؐ سے کبائر کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا اللہ کا شریک بنانا، کسی جان کا قتل کرنا اور والدین سے بد سلوکی کرنا۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے بھی بڑے گناہ کے بارہ میں آگاہ نہ کروں؟ آپؐ نے فرمایا جھوٹ بولنا یا فرمایا جھوٹی گواہی دینا۔ شعبہ نے کہا: میرا گمان غالب یہ ہے کہ آپؐ نے شَہَادَۃُ الزُّوْرِ فرمایا تھا۔