بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت مقداد بنؓ اسود سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپؐ کا کیا ارشاد ہے اگر میری کفّار میں سے کسی آدمی سے مٹھ بھیڑ ہو جائے اور وہ مجھ سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ پر تلوار مارے اور اسے کاٹ ڈالے اور پھر مجھ سے بچنے کے لئے کسی درخت کی پناہ لے لے اور کہے: میں اللہ کے لئے مسلمان ہوتا ہوں تو یا رسول اللہ! اس کے یہ کہنے کے بعد میں اس کو قتل کر سکتا ہوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے قتل مت کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا جو اس نے اسے کاٹنے کے بعد ایسا کہا۔ کیا میں اسے قتل کر سکتا ہوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اسے قتل مت کرو اور اگر تم نے اس کو قتل کیا تو اس کی وہ حیثیت ہو گی جو اسے قتل کرنے سے پہلے تمہاری تھی اور تمہاری وہ حیثیت ہو گی جو اس کی یہ بات کہنے سے پہلے تھی۔ زہری سے اسی سند سے روایت ہے مگر اوزاعی اور ابن جریج کی روایت ہے کہ اس نے کہا تھا ’’میں نے اللہ کے لئے اسلام قبول کیا‘‘ مگر معمر نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے کہ جب میں اس پر جھپٹا کہ قتل کروں تو اس نے کہا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ حضرت مقداد بنؓ عمرو بن اسود کندی سے روایت ہے۔ وہ بنی زھرہ کے حلیف تھے اور وہ ان میں سے تھے جو بدر کی جنگ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ شامل تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ کا کیا ارشاد ہے اگر کفار میں سے کسی آدمی سے میری مٹھ بھیڑ ہو۔ پھر اس نے لیث والی روایت بیان کی۔
حضرت اسامہؓ بن زیدؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں ایک مہم پر بھیجا۔ صبح کے وقت ہم جہینہ کے حرقات میں پہنچے۔ وہاں ایک شخص کو میں نے جا لیا، اس نے کہا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ مگر میں نے اسے نیزہ مارا، پھر اس سے میرے دل میں خلش پیدا ہوئی تو میں نے اس کا ذکر نبیﷺ سے کیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو اس نے ہتھیار کے ڈر سے کہا تھا۔ فرمایا تو تم نے کیوں اس کا دل نہ چیرا تا کہ تم جان لیتے کہ اس نے یہ (دل سے) کہا تھا یا نہیں۔ آپؐ میرے سامنے یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں نے اس دن ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔ حضرت سعدؓ نے کہا: خدا کی قسم میں کسی مسلمان کو قتل نہیں کروں گا یہاں تک کہ یہ ذُوالبُطین یعنی اسامہؓ کسی کو قتل کرے۔ ایک آدمی نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: وَ قَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لََاتَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّٰہِ (ترجمہ): اور تم ان سے قتال کرتے رہو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالصۃً اللہ کے لئے ہو جائے (الانفال: 39) حضرت سعدؓ نے کہا: ہم لڑتے رہے یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہا اور تم اور تمہارے ساتھی چاہتے ہو کہ تم لڑتے رہو تاکہ فتنہ فساد ہو۔
حضرت اسامہؓ بن زیدؓ بن حارثہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں جہینہ قبیلہ کے (مقام) حُرَقَہ کی طرف بھیجا۔ ہم صبح صبح ان لوگوں کے پاس جا پہنچے اور ہم نے انہیں شکست دے دی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اور ایک انصاریؓ نے ان میں سے ایک شخص کو جا لیا۔ جب ہم نے اس پر قابو پا لیا تو اس نے کہا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ انصاریؓ نے تو اس سے ہاتھ روک لیا مگر میں نے اسے نیزہ مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔ پھر جب ہم واپس آئے تو نبیﷺ کو یہ خبر پہنچی۔ اس پر آپؐ نے مجھے فرمایا: اے اسامہ! کیا تم نے اسے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر دیا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ تو محض پناہ لے رہا تھا آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اسے لا الٰہ الا اللہ کے اقرار کے بعد قتل کر دیا؟ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ یہ فقرہ بار بار میرے سامنے دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
صفوان بن مُحْرِز سے روایت ہے کہ حضرت جندب بن عبداللہؓ البجلی نے حضرت ابنِ زبیرؓ کے زمانہء آزمائش میں عسعس بن سلامہ کو کہلا بھیجا کہ اپنے کچھ بھائیوں کو میرے لئے جمع کرو تاکہ میں ان سے کچھ باتیں کروں۔ اس پر انہوں نے ان لوگوں کی طرف ایلچی بھیجا۔ جب وہ اکٹھے ہوئے تو حضرت جندبؓ آئے۔ انہوں نے ایک زرد ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا: وہ باتیں کرتے رہو جو پہلے کر رہے تھے۔ اس طرح گفتگو کا دور چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت جندبؓ کے بات کرنے کی باری آئی تو انہوں نے ٹوپی سر سے اتار دی اور کہا: میں تمہارے پاس آیا ہوں مگر میرا یہ ارادہ نہیں تھا کہ میں تمہیں تمہارے نبیﷺ کی کوئی بات بتاؤں۔ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکوں کی طرف بھیجا اور ان کی مٹھ بھیڑ ہوئی اور مشرکوں میں ایک ایسا آدمی تھا کہ جس مسلمان پر چاہتا حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا۔ ایک مسلمان اس کے غافل ہونے کا منتظر رہا اور ہم کہتے تھے کہ وہ مسلمان حضرت اسامہؓ بن زیدؓ تھے۔ جب اُنہوں نے اُس پر تلوار سونتی تو اس نے کہا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ مگر اُنہوں نے اُسے قتل کر دیا۔ بشارت دینے والا نبی کریمﷺ کے پاس آیا تو آپؐ نے اس سے پوچھا وہ آپؐ کو بتاتا رہا یہاں تک کہ اس شخص کی بات بھی آپؐ کو بتائی کہ اُس نے کیا کہا تھا۔ آپؐ نے اسے (اسامہؓ کو) بلایا اور پوچھا کہ تم نے اسے کیوں قتل کر دیا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے مسلمانوں کو دکھ دیا تھا اور اس نے فلاں فلاں (مسلمان) کو قتل کر دیا تھا اور کئی لوگوں کے نام لئے پھر میں نے اس پر حملہ کیا اور جب اس نے تلوار دیکھی تو کہہ دیا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تو نے اسے پھر بھی قتل کر دیا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: جب قیامت کے دن لا الٰہ الا اللہ آئے گا تو تو کیا کرے گا؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! میرے لئے استغفار کیجئے۔ آپؐ نے پھر فرمایا: جب قیامت کے دن لا الٰہ الا اللہ آئے گا تو تُو کیا کرے گا؟ راوی کہتے ہیں آپؐ اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے تھے کہ جب لا الٰہ الا اللہ قیامت کے دن آئے گا تو کیا کرے گا؟۔
حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حضرت سلمہؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا جو شخص ہم پر تلوار اُٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حضرت ابو موسیٰؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا جس نے ہم پر ہتھیار اُٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے ہم پر ہتھیار اُٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گذرے، آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو آپؐ کی انگلیوں کو نمی لگی تو آپؐ نے فرمایا: اے اناج والے! یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! اس پر بارش ہو گئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: تو نے اسے اناج کے اوپر کیوں نہ کر دیا تا کہ لوگ اس کو دیکھ سکتے، جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو اپنے گال پیٹے یا گریبان پھاڑے یا جاہلیت کے بین کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔