حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کیا قیامت کے روز ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہیں صاف دوپہر کے وقت جبکہ بادل بھی نہ ہوں سورج کو دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے؟ کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں جب مطلع صاف ہو اور بادل بھی نہ ہوں دشواری ہوتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ تبارک و تعالیٰ کی رؤیت میں صرف اتنی دشواری ہوگی جتنی تمہیں ان دونوں میں سے ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ہر گروہ اس کے پیچھے ہو جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا۔ پس جو کوئی بھی اللہ سبحانہ کے علاوہ بتوں اور مجسموں کی عبادت کیا کرتا تھا باقی نہیں رہے گا بلکہ (سب) جہنم میں گرتے جائیں گے یہاں تک کہ صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے خواہ نیک ہوں یا بد۔ اور اہلِ کتاب کے باقی ماندہ لوگ۔ پھر یہود کو پکارا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کے بیٹے عزیر کی عبادت کرتے تھے۔ کہا جائے گا تم جھوٹ کہتے تھے، اللہ نے تو نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی بیٹا۔ ان کو کہا جائے گا تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، پس ہمیں پانی پلا۔ فرمایا پھر انہیں اشارہ کیا جائے گا کہ تم (پانی کی طرف) کیوں نہیں جاتے؟ پھر انہیں آگ کی طرف اکٹھا کیا جائے گا گویا کہ وہ سراب ہے۔ اس کا ایک حصہ دوسرے حصّے کو توڑ رہا ہوگا پھر وہ آگ میں گرنے لگیں گے۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کے بیٹے مسیح کی عبادت کیا کرتے تھے۔ تب ان سے کہا جائے گا تم جھوٹ کہتے تھے۔ اللہ نے تو نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی بیٹا۔ اُن کو کہا جائے گا تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں پس ہمیں پانی پلا۔ فرمایا پھر ان کو اشارہ کیا جائے گا کہ تم (پانی کی طرف) کیوں نہیں جاتے؟ پھر انہیں آگ کی طرف اکٹھا کیا جائے گا گویا کہ وہ سراب ہے۔ اس کا ایک حصہ دوسرے حصّے کو توڑ رہا ہوگا پھر وہ آگ میں گرنے لگیں گے یہاں تک کہ نیک و بد میں سے وہ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ تمام جہانوں کا رب سبحانہ وتعالیٰ اس سے کچھ اس جیسی صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اس کو دیکھا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم کس کے انتظار میں ہو؟ ہر گروہ اس کے پیچھے جائے گا جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! دنیا میں ہم لوگوں سے الگ رہے جبکہ ہم ان کے سب سے زیادہ محتاج تھے۔ اور ہم نے ان کی مصاحبت اختیار نہ کی۔ پھر وہ کہے گا: مَیں تمہارا رب ہوں۔ پھر وہ دو یا تین مرتبہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ہم اللہ کے ساتھ کچھ بھی شریک نہیں ٹھہراتے یہاں تک کہ قریب ہے کہ اُن میں سے بعض لوٹ جائیں۔ پھر وہ کہے گا: کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے؟ جس کے ذریعہ تم اس کو پہچان لو۔ وہ کہیں گے: ہاں۔ اس وقت نور کی تجلی ہوگی جو اپنے نفس کی خاطر اللہ کو سجدہ کرتا تھا وہ باقی نہ رہے گا سوائے اس کے کہ اللہ اسے سجدوں کی اجازت دے اور جو کوئی کسی ڈر خوف یا ریاء کی وجہ سے سجدہ کرتا تھا وہ بھی باقی نہیں رہے گا اور اس کی پیٹھ کو اللہ ایک تختہ کی صورت بنا دے گا۔ جب بھی وہ سجدہ کا ارادہ کرے گا اپنی پیٹھ کے بل گرے گا پھر جب وہ اپنے سروں کو اُٹھائیں گے اللہ اپنی صورت کو تبدیل کر کے وہ صورت اختیار فرما لے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہوگا۔ پھر وہ فرمائے گا مَیں تمہارا رب ہوں۔ وہ عرض کریں گے تو ہمارا رب ہے۔ پھر جہنم پر پُل بچھایا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دی جائے گی اور وہ کہیں گے اے اللہ! سلامتی فرما، سلامتی فرما۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! یہ پل کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ ایک خطرناک پھسلن ہے جس میں کنڈیاں آنکڑے (hooks) اور کانٹے ہیں اور نجد کے سعدان نامی کانٹے ہیں۔ مؤمن پلک جھپکتے میں، (بعض) بجلی کی طرح اور (بعض) تیز ہوا کی طرح اور بعض پرندوں کی طرح اور (بعض) تیز رفتار عمدہ گھوڑوں اور اونٹوں کی طرح گزریں گے پس کچھ پوری طرح نجات یافتہ اور خراش زدہ چھوڑے گئے اور کچھ جہنم کی آگ میں پھینکے ہوئے ہوں گے۔ یہاں تک کہ جب مؤمن آگ سے بچ جائیں گے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ قیامت کے دن تم میں سے کوئی اللہ کے حضورؐ اپنے نفس کے لئے اتنی بحث نہیں کرے گا جتنی وہ مؤمن اپنے بھائیوں کے لئے جو آگ میں ہوں گے بحث کرے گا۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے نمازیں پڑھتے اور حج کرتے تھے۔ تب ان سے کہا جائے گا۔ کہ ان میں سے جنہیں تم پہچانتے ہو، نکال لو۔ پس ان کے چہرے آگ پر حرام کر دئیے جائیں گے۔ چنانچہ وہ ایک انبوہِ کثیر کو باہر نکال لیں گے۔ جنہیں نصف پنڈلیوں اور گھٹنوں تک آگ (گرفت میں) لئے ہو گی۔ پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب! اب اس میں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔ جن کے بارہ میں تو نے حکم فرمایا تھا۔ تب وہ فرمائے گا واپس جاؤ اور جس کے دل میں تم ایک دینار کے برابر بھی بھلائی پاؤ تو اسے باہر نکال لو۔ پھر وہ ایک انبوہِ کثیر کو باہر نکالیں گے۔ پھر کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کے بارہ میں ہمیں تو نے حکم دیا تھا ان میں سے ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ تب وہ فرمائے گا واپس جاؤ اور جس کے دل میں تم نصف دینار کے برابر بھی بھلائی پاؤ تو اسے باہر نکال لو۔ پھر وہ ایک انبوہِ کثیر کو نکال لیں گے۔ پھر کہیں گے اے ہمارے رب! جن کے بارہ میں تو نے حکم دیا تھا ان میں کسی کو نہیں چھوڑا۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کہا کرتے تھے کہ اگر اس حدیث کے بارہ میں تم میری تصدیق نہیں کرتے تو اگر تم چاہو تو بے شک یہ آیت پڑھ لو:
(النساء: 41) یعنی یقینا اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی کی بات ہو تو وہ اسے بڑھاتا ہے اور اپنی طرف سے بھی بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔ پھر اللہ عزوجل فرمائے گا فرشتے شفاعت کر چکے اور انبیاء شفاعت کر چکے اور مومن شفاعت کر چکے۔ سوائے ارحم الراحمین کے اب کوئی باقی نہیں رہا۔ پھر آگ سے ایک مُٹھی بھرے گا اور اس میں سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیکی نہ کی ہوگی اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے۔ پھر وہ انہیں جنت کے دروازوں پر نہر میں ڈال دے گا جو زندگی کی نہر کہلاتی ہے۔ پھر وہ اس طرح نکلیں گے جیسے سیلاب کی مٹی سے دانہ (اُگ کر) نکلتا ہے۔ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں کہ وہ (دانہ) کسی پتھر یا درخت کے پاس ہوتا ہے تو سورج کے رُخ پر ہوتا ہے وہ چھوٹا سا زرد اور سبز ہو جاتا ہے اور اس میں سے جو سایہ میں ہوتا ہے وہ سفید رہتا ہے۔ اس پر انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یوں لگتا ہے جیسے آپؐ جنگلوں میں جانور چراتے رہے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ (اس میں سے) موتیوں کی طرح نکلیں گے اور ان کی گردنوں میں خواتم ہوں گے۔ (جس کی وجہ سے) اہلِ جنت انہیں پہچان لیں گے۔ یہ وہ ہیں جنہیں اللہ نے آزاد کر کے بغیر کسی عمل کے جو انہوں نے کیا ہو یا بغیر کسی نیکی کے جو انہوں نے کی ہو جنت میں داخل کر دیا ہے۔ پھر وہ فرمائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ۔ جو بھی تم دیکھو وہ تمہارے لئے ہے۔ تب وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ (کچھ) عطاء فرمایا ہے جو تو نے تمام جہانوں میں سے کسی کو بھی عطاء نہیں فرمایا۔ اس پر وہ فرمائے گا تمہارے لئے میرے پاس اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تب وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب! تیرے پاس کونسی چیز اس سے بھی افضل ہے؟ وہ فرمائے گا میری رضا۔ پس اس کے بعد اب میں تم پر کبھی ناراض نہ ہوں گا۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ اس پر رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں جب دن بالکل صاف ہو کچھ دشواری ہوتی ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں۔ (راوی کہتے ہیں) پھر مَیں نے آخر تک پوری روایت بیان کی اور وہ حفص بن میسرہ کی روایت کے مطابق تھی۔ انہوں نے ان کے قول
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کو جنت میں داخل کرے گا۔ وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت سے داخل کرے گا اور آگ والوں کو آگ میں داخل کرے گا پھر فرمائے گا: دیکھو! تم جس کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان پاتے ہو اسے نکال لو۔ چنانچہ ان کو اس سے نکال لیا جائے گا۔ وہ کوئلہ کی طرح جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ ان کو نہرِ حیات میں یا نہرِ حیا میں ڈالا جائے گا اور وہ اس میں نشوونما پائیں گے جس طرح سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے اس کو دیکھا نہیں وہ کیسے زرد اور لپٹا ہوا اُگتا ہے؟ عمرو بن یحیٰ اسی اسناد سے ان دونوں راویوں سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: فَیُلْقَوْنَ فِی نَہَرٍ یُقَالُ لَہُ الْحَیَاۃُ یعنی وہ اس نہر میں جسے الحیات یعنی زندگی کہا جاتا ہوگا ڈالے جائیں گے۔ ان دونوں نے اس میں شک نہیں کیا۔ خالد کی روایت میں ہے کَمَا تَنْبُتُ الْغُشَائَ ۃُ فِیْ جَانِبِ الْسَیْلِ یعنی جس طرح سیلاب کے لائے ہوئے بیج سیلاب کے کنارے پر اُگتے ہیں۔ اور وہیب والی روایت میں ہے کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّۃُ فِی حَمِئَۃٍ اَوْ حَمِیْلَۃِ السَّیْلِ یعنی جیسے دانہ کیچڑ میں یا سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں اگتا ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو تو آگ والے ہیں اور اس کے اہل ہیں وہ اس میں نہ تو مریں گے اور نہ جئیں گے مگر کچھ لوگ ہیں جو اپنے گناہوں یا فرمایا اپنی خطاؤں کی وجہ سے آگ کا شکار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ایک طرح کی موت دے گا یہاں تک کہ جب وہ (جل کر) کوئلہ ہوں گے تو شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ یہ لوگ گروہ در گروہ لائے جائیں گے اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! ان پر (پانی) ڈالو تو وہ اس طرح نشونما پانے لگیں گے جیسے دانہ سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں پھولتا پھلتا ہے۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: رسول اللہﷺ گویا صحراء میں رہے ہیں۔ : دونوں راویوں کے نزدیک ’’نہر الحیاۃ‘‘ یعنی زندگی کی نہر تھی۔ حضرت ابو سعید خدریؓ نے نبیﷺ سے ایسی ہی روایت کی ہے۔ راوی آپ کے قول فِی حَمِیْلَ السَّیْلِ تک روایت کرتے ہیں۔ اس کے بعد کا راوی نے ذکر نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ آگ والوں میں سب سے آخر پر کون نکلے گا اور اہلِ جنت میں سے سب سے آخر پر کون جنت میں داخل ہوگا۔ وہ ایک آدمی ہے جو گھٹنوں کے بل آگ سے نکلے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے فرمائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ اس (جنت) کے پاس جائے گا تو اسے خیال دلایا جائے گا کہ جنت تو بھر چکی ہے۔ وہ واپس جائے گا اور کہے گا اے میرے رب! مَیں نے اسے بھر اہوا پایا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے فرمائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ اس کے پاس آئے گا اسے خیال دلایا جائے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس جائے گا کہے گا اے میرے رب! میں نے اسے بھر اہوا پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ تیرے لئے دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا ہے۔ یا فرمایا تیرے لئے دس دنیا کے برابر ہے۔ وہ کہے گا کیا تو مجھ سے تمسخر کرتا ہے یا مذاق کرتا ہے۔ تُو تو بادشاہ ہے۔ حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں مَیں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا۔ آپؐ ہنسے اور خوب ہنسے۔ راوی کہتے ہیں کہا جاتا تھا کہ یہ سب سے کم درجہ کا جنتی ہوگا۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جہنم میں سے نکلنے کے لحاظ سے آخری جہنمی کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ آدمی گھسٹتا ہوا نکلے گا۔ اسے کہا جائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہو جائے گا تو لوگوں کو پائے گا کہ انہوں نے جگہیں لے لی ہیں۔ اسے کہا جائے گا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا؟ وہ کہے گا۔ ہاں۔ پھر اسے کہا جائے گا تمنّا کرو تو وہ تمنّا کرے گا پھر اسے کہا جائے گا جو کچھ تم نے تمنا کی ہے تمہارے لئے وہ بھی اور دنیا کا دس گنا مزید بھی ہے۔ راوی کہتے ہیں وہ کہے گا کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا۔ آپؐ ہنسے اور خوب ہنسے۔
حضرت انسؓ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آخری شخص جنت میں داخل ہوگا وہ کبھی سیدھا چلے گا۔ کبھی اوندھے منہ گرے گا اور کبھی آگ اسے جھُلسائے گی۔ جب وہ اسے عبور کرے گا تو اس کی طرف متوجہ ہو گا اور کہے گا بہت ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۔ یقینا اللہ نے مجھے وہ چیز عطاء فرمائی ہے جو اس نے اولین و اٰخرین میں سے کسی کو نہیں دی۔ پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا۔ وہ شخص کہے گا اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سایہ سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کا پانی پیؤں۔ تب اللہ عزوجل فرمائے گا اے ابنِ آدم! ہو سکتا ہے کہ اگر میں نے تجھے یہ دے دیا تو تُو مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگے۔ تب وہ کہے گا نہیں اے میرے رب! پھر وہ اس سے عہد و پیمان کرے گا کہ اس کے علاوہ وہ اس سے اور کچھ نہیں مانگے گا اور اس کا رب اس کو معذور جانے گا کیونکہ اس نے وُہ دیکھ لیا ہے جس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ تو وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ پس وہ اس کے سایہ سے فائدہ اٹھائے گا اور اس کے پانی میں سے پئے گا۔ پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگا۔ تب وہ کہے گا اے میرے رب! مجھے اس (درخت) کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پانی پؤں اور اس کے سایہ سے فائدہ اٹھاؤں۔ اس کے علاوہ میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ تب وہ فرمائے گا اے ابنِ آدم کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے علاوہ مجھ سے کوئی سوال نہ کرے گا۔ اور فرمائے گا کہ ممکن ہے کہ اگر میں نے تجھے اس کے قریب کر دیا تو تُو مجھ سے اس کے علاوہ اور مانگے۔ تب وہ اس سے پھر عہد کرے گا کہ اس کے علاوہ اس سے کچھ نہیں مانگے گا۔ اور اس کا رب اس کو معذور جانے گا کیونکہ وہ اُسے دیکھ رہا ہے جس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ پس وہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ پھر وہ اس کے سایہ سے فائدہ اٹھائے گا اور اس کے پانی میں سے پئے گا۔ پھر اس کے لئے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے دونوں (درختوں) سے زیادہ حسین ہوگا۔ پھر وہ عرض کرے گا۔ اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سایہ سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کا پانی پؤں۔ اس کے علاوہ میں تجھ سے اور کچھ نہ مانگوں گا۔ تب (اللہ) فرمائے گا اے ابنِ آدم کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا۔ وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب! بس یہی۔ اس کے علاوہ میں تجھ سے کچھ سوال نہیں کروں گا اور اس کا رب اس کو معذور جانے گا کیونکہ وہ اسے دیکھ رہا ہے جس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ پس وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ پھر جب وہ اسے اس کے قریب کر دے گا اور اہلِ جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا اے میرے رب! مجھے اس میں داخل فرما دے۔ تب وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا۔ اے ابنِ آدم! مجھے تجھ سے کون بچائے؟ کیا تو اس بات پر راضی ہوگا کہ میں تجھے دنیا اور اس کے ساتھ اس جیسی اور (دنیا) دے دوں۔ اس پر وہ کہے گا اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تو رب العٰلمین ہے۔ اس پر حضرت ابنِ مسعودؓ ہنس پڑے اور کہا کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح رسول اللہﷺ ہنسے تھے۔ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا تھا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا رب العٰلمین کے ہنسنے پر۔ جب اس شخص نے عرض کیا کیا مجھ سے مذاق کرتا ہے؟ اور تو رب العالمین ہے۔ تب وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا یقینا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا لیکن میں جو چاہوں اس پر قادر ہوں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سب سے کم درجہ والا شخص وہ ہوگا جس کا چہرہ اللہ تعالیٰ آگ سے ہٹا کر جنّت کی طرف پھیر دے گا اور اس کے لئے ایک سایہ دار درخت متمثل کرے گا تو وہ کہے گا اے میرے رب! مجھے اس درخت کی طرف لے جا کہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں۔ پھر حضرت ابن مسعودؓ کی روایت کی طرح روایت بیان کی مگر یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ (اللہ تعالیٰ) کہے گا اے ابنِ آدم! مجھے تجھ سے کون بچائے گا راوی نے یہ روایت حضرت ابن مسعودؓ کی روایت کی طرح بیان کی مگر یہ ذکر نہیں کیا یاَ ابْنَ آدَمَ مَا یَصْرِیْنِیْ مِنْکَ (آخر روایت تک) اور اس میں یہ بات زائد ہے کہ اللہ اسے یاد کرائے گا کہ فلاں فلاں چیز مانگ۔ پس جب اس کی آرزؤیں تمام ہو جائیں گی تو اللہ فرمائے گا یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس جیسے دس اور۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو حور عین میں سے اس کی دو بیویاں بھی اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی الحمد للہ۔ اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ہمارے لئے زندہ کیا اور ہمیں تیرے لئے زندگی بخشی۔ وہ کہے گا کسی کو وہ نہیں دیا گیا جو مجھے دیا گیا ہے۔
شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے مغیرہ بن شعبہؓ کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا اور وہ اس روایت کو رسول اللہﷺ کی طرف مرفوع بیان کر رہے تھے ..... حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے پوچھا کہ سب سے کم درجہ والا جنتی کون ہے؟ فرمایا وہ ایک شخص ہے جو سب اہلِ جنت کے جنت میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے گا۔ اسے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جا۔ وہ کہے گا اے میرے رب! کیسے جبکہ سب لوگ اپنی منزلوں پر اتر چکے ہیں اور اپنی لینے والی چیزیں لے لی ہیں؟ اس سے کہا جائے گا کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ دنیا کے بادشاہوں میں کسی بادشاہ کی سلطنت کے برابر تیرے لئے ہو جائے؟ وہ کہے گا اے میرے رب! میں راضی ہوں۔ خدا فرمائے گا تیرے لئے یہ بھی ہے اور اس جیسی اور اور اس جیسی اور اس جیسی اور بھی۔ پانچویں دفعہ وہ شخص کہے گا اے میرے رب! میں راضی ہوں۔ اللہ فرمائے گا یہ بھی تیرے لئے ہے اور اس جیسی دس اور بھی اور جو کچھ تیرا دل پسند کرے اور تیری آنکھیں لذت پائیں وہ بھی تیرے لئے ہے۔ وہ کہے گا اے میرے رب! میں راضی ہو گیا ہوں۔ پھر انہوں نے (حضرت موسیٰؑ) نے عرض کیا! اے میرے رب! جنت میں سب سے اعلیٰ درجہ والا کون ہے؟ اللہ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو میری مراد ہیں۔ ان کی بزرگی کا پودا میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا اور پھر میں نے اس پر (ان کی بزرگی پر) مہر لگا دی۔ کسی آنکھ نے اسے نہیں دیکھا اور کسی کان نے نہیں سنا اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک نہیں گزرا۔ کہا اس کا مصداق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ (السجدہ: 18) (ترجمہ) پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے اُس کی جزاء کے طور پر جو وہ کیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو منبر پر کہتے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل سے اہلِ جنت میں سب سے کم حصہ پانے والے کے متعلق پوچھا اور پھر ویسی ہی روایت بیان کی۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اہلِ جنت میں سب سے آخر پر جنّت میں داخل ہونے والے اور سب سے آخر پر آگ والوں میں سے اس سے نکلنے والے کو خوب جانتا ہوں۔ ایک شخص قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ اس کے سامنے پیش کرو اور بڑے بڑے گناہ اس سے اٹھا رکھو۔ چنانچہ اس کے معمولی گناہ اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور کہا جائے گا تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ کیا اور فلاں فلاں دن یہ یہ کیا۔ وہ کہے گا ہاں وہ انکار کی طاقت نہیں پائے گا اور وہ اس بات سے خوفزدہ ہو گا کہ اس کے کبائر گناہ اس کے سامنے پیش کئے جائیں پھر اسے کہا جائے گا تیرے لئے ہر بدی کے مقابلہ پر ایک نیکی ہے۔ تو وہ کہے گا اے میرے رب میں نے تو وہ کام بھی کئے تھے جو اب مجھے یہاں دکھائی نہیں دے رہے۔ (حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں ) کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپؐ ہنسے اور خوب ہنسے۔
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا جبکہ ان سے (قیامت کے دن) لوگوں کے وارد ہونے کے متعلق پوچھا جارہا تھا۔ انہوں نے کہا ہم قیامت کے دن اس اس طرح آئیں گے دیکھو یعنی وہ آدمیوں کے اوپر پھر امتوں کو ان کے بتوں اور معبودوں کے ساتھ باری باری بلایا جائے گا۔ پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور کہے گا تم کسے دیکھ رہے ہو؟ وہ کہیں گے ہم اپنے رب کی راہ دیکھ رہے ہیں اس پر وہ کہے گا میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے یہانتک کہ ہم تجھے دیکھیں پھر وہ ان پر ہنستے ہوئے تجلی فرمائے گا اور ان کو لے کر چلے گا اور وہ اس کے پیچھے چلیں گے اور ان میں سے ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا مومن ایک نور ملے گا پھر وہ اس کے پیچھے چلیں گے اور جہنم کے پل پر آنکڑے اور کانٹے ہونگے اور جن کے متعلق خدا چاہے گا ان کو وہ پکڑ لیں گے پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا۔ اور مومن نجات پائیں گے اور پہلا گروہ (جو) نجات پائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند ہونگے وہ ستر ہزار ہوں گے۔ ان کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔ پھر ان کے ساتھ آنے والے لوگ آسمان میں روشن ترین ستارہ کی طرح چمک رہے ہونگے پھر اسی طرح ہوگا، شفاعت کی اجازت ہوگی اور وہ شفاعت کریں گے یہانتک کہ ہر وہ شخص آگ سے نکل آئے گا جو لا الٰہ الا اللہ کہتا تھا اور جس کے دل میں جو کے دانہ کے برابر نیکی تھی پھر یہ لوگ جنت کے صحن میں لائے جائیں گے اور جنت والے ان پر پانی چھڑکنے لگیں گے یہانتک کہ وہ اس طرح نشو و نما پائیں گے جیسے سیلاب میں کوئی روئیدگی اور ان کی سوزش اور جلن جاتی رہے گی۔ پھر ان میں سے ہر ایک مانگے گا یہانتک کہ ہر ایک کو دنیا اور اس جیسی دس اس کے ساتھ بنا دی جائیں گی۔