بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! ابو طالب آپؐ کی حفاظت کرتے تھے اور آپؐ کی مدد کرتے تھے کیا ان کو اس نے کوئی فائدہ دیا۔ آپؐ نے فرمایا ہاں مَیں نے انہیں آگ کی گہرائیوں میں پایا تو میں ان کو نکال کر اوپر کی سطح پر لے آیا۔
حضرت ابو سعیدؓ خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس آپؐ کے چچا ابو طالب کا ذکر کیا گیا تو فرمایا شاید ان کو میری شفاعت قیامت کے دن فائدہ دے اور انہیں ہلکی آگ میں رکھا جائے جو ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو۔ اس سے ان کا دماغ ابل رہا ہوگا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہلِ جہنم میں سے سب سے کم عذاب والا وہ ہے جو آگ کی جوتیاں پہنے گا اور اس کی جوتیوں کی حرارت سے اس کا دماغ ابلنے لگے گا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آگ والوں میں سب سے ہلکے عذاب والے ابو طالب ہیں۔ انہوں نے ایسی جوتیاں پہنی ہوئی ہیں جن سے ان کا دماغ اُبلنے لگے گا۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہے جس کے پاؤں تلے دو انگارے رکھے جائیں گے جن سے اس کا دماغ اُبلنے لگے گا۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آگ والوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہوگا جس کی جوتیاں اور تسمے آگ کے ہوں گے۔ اس کا دماغ ان کی وجہ سے ابلتا رہے گا جس طرح ہنڈیا ابلتی ہے۔ وہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ عذاب کسی کو نہیں ملا حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب والا ہوگا۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکین کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا یہ اس کو نفع دے گا؟ آپؐ نے فرمایا اسے کوئی نفع نہیں دے گا کیونکہ اس نے یہ کبھی نہیں کہا رَبِّ اغْفِرْ لِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔ اے میرے رب! قیامت کے دن میری خطائیں معاف فرما۔
حضرت عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ بلند آواز سے نہ کہ سرگوشی سے فرما رہے تھے سنو! ابو فلاں کی آل میرے اولیاء نہیں ہیں میرا وَلی تو اللہ اور صالح مؤمن ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا میری امت کے ستر ہزار بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ آپؐ نے کہا اے اللہ! اسے بھی ان میں سے بنا دے۔ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے بنا دے تو آپؐ نے فرمایا عُکاشہؓ اس میں تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا میری امت سے ایک گروہ (جنت میں) داخل ہوگا وہ ستر ہزار ہوں گے اور ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں عُکاشہؓ بن محصن الاسدی دھاری دار چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ تو رسول اللہﷺ نے کہا اے اللہ اسے بھی ان میں شامل کر دے۔ پھر انصارؓ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا عکاشہؓ اس بارہ میں تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔