بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے توشے ختم ہو گئے یہاں تک کہ آپؐ نے ان کے کچھ سواری کے اونٹ ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ! کیوں نہ آپؐ لوگوں کے باقی ماندہ زاد سفر جمع کرکے اس پر دعا کریں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے ایسا ہی کیا۔ وہ کہتے ہیں جس کے پاس گندم تھی وہ گندم لے آیا اور کھجور والا کھجور لے آیا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ جس کے پاس گٹھلی تھی وہی لے آیا۔ میں نے کہا وہ گٹھلی سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا اس کو چوستے تھے اور اوپر سے پانی پی لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے ان پر دعا کی اور لوگوں نے اپنے توشہ دان ان سے بھر لئے۔ اس وقت آپؐ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسولؐ ہوں۔ اللہ سے جو بندہ ان دونوں (شہادتوں) کے ساتھ اس حال میں ملے گا کہ اس کو ان دونوں باتوں پر شک نہیں ہو گا تو ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ یا حضرت ابو سعیدؓ (اعمش کو شک ہے) سے روایت ہے کہ جب غزوئہ تبوک کے دن تھے تو لوگوں کو سخت بھوک لگی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپؐ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے پانی لانے والے اونٹ ذبح کر لیں اور ہم کھائیں اور چکنائی استعمال کریں۔ آپؐ نے فرمایا کر لو۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرؓ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر آپؐ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی ہاں لوگوں کو اپنا باقی ماندہ زاد راہ لانے کا ارشاد فرمائیں اور پھر ان کے لئے اس پر برکت کے لئے دعا کریں۔ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت رکھ دے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہاں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے ایک چمڑے کا دسترخوان منگوایا اور بچھا دیا اور پھر ان کے باقی ماندہ زاد منگوائے۔ راوی کہتے ہیں کوئی مٹھی بھر مکئی لایا اور کوئی مٹھی بھر کھجوریں اور کوئی روٹی کا ٹکڑا وغیرہ لے آیا یہاں تک کہ اس دستر خوان پر اس میں سے کچھ تھوڑا سا اکٹھا ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اس پر برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: اپنے برتنوں میں لے لو۔ انہوں نے برتنوں میں اس کو لے لیا یہاں تک کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا مگر اس کو بھر لیا پھر سب نے کھایا اور سیر ہو گئے اور کچھ بچ بھی گیا۔ تب رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسولؐ ہوں اور جو شخص بغیر کسی شک کے ان دونوں (شہادتوں ) کے ساتھ خدا سے ملے گا وہ جنت سے روکا نہیں جائے گا۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں اور یہ کہ عیسٰی اللہ کا بندہ اور اس کی بندی کا بیٹا ہے اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا جنت میں داخل کرے گا۔ عمیر بن ھانی اسی سند سے یہی روایت کرتے ہیں سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا جو بھی اس کا عمل ہو اور یہ ذکر نہیں کیا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس میں سے چاہے۔
صُنابِحِی سے روایت ہے کہ میں حضرت عبادہ بن صامتؓ کے پاس گیا جب کہ وہ موت کے قریب تھے۔ میں رو پڑا تو انہوں نے کہا ٹھہرو، کیوں رو رہے ہو؟ خدا کی قسم اگر مجھ سے گواہی طلب کی جائے تو میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور مجھے شفاعت کا حق دیا گیا تو میں تمہاری شفاعت کروں گا اور اگر مجھے طاقت ہوئی تو میں تجھے فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ہر حدیث جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی تھی جس میں تمہارے لئے بھلائی تھی وہ میں نے تمہارے سامنے بیان کر دی ہے سوائے ایک حدیث کے جو میں آج تمہیں بتاؤں گا جبکہ میں موت کی گرفت میں ہوں میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسولؐ ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر آگ حرام کر دی ہے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ کہتے ہیں کہ میں سواری پر نبیﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میرے اور آپؐ کے درمیان کجاوہ کا پچھلا حصہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے کہا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ! اور یہ میری سعادت ہے۔ پھر آپؐ تھوڑی دیر چلے اور فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے پھر عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ! میری سعادت ہے۔ پھر آپؐ تھوڑی دیر چلے اور فرمایا اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ! میری سعادت ہے۔ فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں۔ پھر آپؐ کچھ دیر چلے اور فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ! میری سعادت ہے۔ فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جب وہ ایسا کریں؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر جس کا نام عُفَیْر تھا بیٹھا ہوا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں اور بندوں کا اللہ عزوجل پر یہ حق ہے کہ جو اس کا کسی کو شریک نہ بنائے وہ اس کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ بشارت نہ دوں؟ آپؐ نے فرمایا: ان کو یہ نہ بتانا ورنہ وہ اس پر تکیہ کر بیٹھیں گے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا (حق یہ ہے) کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے اگر وہ ایسا کریں؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ اسود بن ھلال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذؓ کو کہتے سنا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے بلایا میں نے لبیک کہا۔ آپؐ نے فرمایا تم جانتے ہو کہ اللہ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟ باقی روایت اُن کی روایت کے مطابق ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سمیت اور لوگ بھی تھے۔ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے مگر آپؐ کو واپسی میں دیر ہو گئی اور ہم ڈرے کہ آپؐ ہم سے کٹ نہ جائیں اور ہم گھبرا گئے اور اُٹھ کھڑے ہوئے۔ سب سے پہلے مجھے فکر پیدا ہوئی تو میں رسول اللہﷺ کو ڈھونڈنے کے لئے باہر نکل پڑا، یہاں تک کہ میں انصارؓ کے ایک باغ کے پاس آیا جو بنو نجار کا تھا۔ میں نے اس کے گرد چکر لگایا کہ دروازہ ڈھونڈوں مگر میں نے دروازہ نہ پایا۔ پھر دیکھا کہ پانی کی ایک کھال باہر ایک کنویں سے باغ کے اندر جاتی ہے۔ ربیع بڑی کھال کو کہتے ہیں۔ میں اس میں لومڑی کے سمٹنے کی طرح سمٹ سمٹا کر داخل ہوا اور رسول اللہﷺ کے پاس چلا گیا۔ آپؐ نے پوچھا ابوہریرہ؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! فرمایا کیا بات ہے؟ میں نے کہا آپؐ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے پھر آپؐ اُٹھ کھڑے ہوئے مگر واپسی میں آپؐ کو دیر ہو گئی تو ہم ڈر گئے کہ آپؐ ہم سے کٹ نہ جائیں تو ہم گھبرا گئے۔ سب سے پہلے مجھے فکر پیدا ہوئی اور میں اس باغ کے پاس آیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر اس باغ میں داخل ہوا اور وہ لوگ میرے پیچھے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے ابو ہریرہ اور مجھے اپنے جوتے دئیے اور فرمایا: میرے یہ دونوں جوتے لے جاؤ اور جو کوئی اس باغ کے پرے تمہیں ملے اور یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی قابلِ عبادت نہیں اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو اسے جنت کی بشارت دے دو۔ میں سب سے پہلے حضرت عمرؓ سے ملا انہوں نے کہا اے ابوہریرہ! یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہﷺ کے جوتے ہیں اور آپؐ نے مجھے ان دونوں کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں جس سے ملوں اور وہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو تو میں اسے جنت کی بشارت دے دوں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مارا اور میں پشت کے بل گرا اور انہوں نے کہا: اے ابوہریرہؓ! واپس جاؤ۔ میں رسول اللہﷺ کے پاس گیا اور رونے ہی لگا تھا کہ حضرت عمرؓ بھی میرے پیچھے پیچھے آ پہنچے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا میں عمرؓ سے ملا تھا اور اُن سے جو آپؐ نے مجھے دے کر بھیجا تھا بیان کیا۔ تو عمرؓ نے مجھے سینہ پر زور سے مارا، میں پشت کے بل گر گیا۔ انہوں نے کہا واپس جاؤ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں، کیا آپؐ نے اپنی جوتیوں کے ساتھ ابو ہریرہؓ کو بھیجا تھا کہ جو اسے ملے اور وہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کا دل اس بات پر یقین رکھتا ہو اسے جنت کی بشارت دے دے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: ایسا نہ کیجیے کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ اسی پر بھروسہ کرنے لگ جائیں گے۔ آپؐ ان کو عمل کرنے دیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اچھا رہنے دو۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ سواری پر تھے اور حضرت معاذؓ بن جبل آپؐ کے ساتھ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اے معاذ! انہوں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور یہ میری سعادت ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے معاذ! انہوں نے پھر عرض کیا میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور یہ میری سعادت ہے۔ آپؐ نے پھر فرمایا: اے معاذ! انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں اور یہ میری سعادت ہے۔ آپؐ نے فرمایا جو بندہ بھی یہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام قرار دے گا۔ حضرت معاذؓ نے کہا: یا رسولؐ اللہ! کیا میں یہ لوگوں کو بتا نہ دوں کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپؐ نے فرمایا اس صورت میں وہ (اس پر) بھروسہ کر بیٹھیں گے۔ چنانچہ حضرت معاذؓ نے اپنی موت کے وقت گناہ سے ڈرتے ڈرتے یہ حدیث بیان کر دی۔
حضرت محموؓ د بن ربیع کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو حضرت عتبان بن مالکؓ سے ملا۔ میں نے کہا مجھے ایک حدیث آپ کی روایت سے پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا میری نظر کمزور ہو گئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میری خواہش ہے کہ آپؐ میرے گھر پر تشریف لائیں اور وہاں نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں۔ چنانچہ نبی ﷺ تشریف لائے اور آپؐ کے وہ صحابہؓ بھی جن کے متعلق اللہ نے چاہا داخل ہو گئے اور آپؐ میرے گھر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ کے صحابہؓ آپس میں باتیں کرنے لگے۔ پھر انہوں نے مالک بن دخشم پر اس معاملہ کا (منافقوں سے تعلقات کا) الزام لگایا راویوں نے کہا کہ انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ ﷺ اس کے خلاف دعا کریں اور وہ ہلاک ہو جائے (اور) انہوں نے چاہا کہ اسے شر پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا کیا وہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسولؐ ہوں؟ صحابہؓ نے کہا وہ کہتا ہے مگر یہ بات اس کے دل میں نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا جو شخص یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا رسولؐ ہوں نہ وہ آگ میں داخل ہوگا یا نہ اس کو آگ کھائے گی۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں مجھے یہ حدیث بہت اچھی لگی اور میں نے اپنے بیٹے سے کہا اسے لکھ لو چنانچہ اس نے لکھ لیا۔ حضرت عتبان بن مالکؓ کہتے ہیں کہ وہ نابینا ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس کہلا بھیجا کہ تشریف لائیں اور میرے لئے مسجد کی جگہ مقرر کر دیں چنانچہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور اس (یعنی عتبانؓ بن مالک) کی قوم بھی آگئی۔ ان میں سے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جسے مالک بن دخشم کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے سلیمان بن المغیرہ کی طرح روایت بیان کی۔