بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 98 hadith
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ حضرت عائشہؓ سے بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی وفات ہوئی تو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ لوگ ان کا جنازہ لے کر مسجد سے گزریں تاکہ وہ (ازواج) بھی ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (جنازہ) ان کے حجروں کے سامنے رکھا گیا تاکہ وہ دعا کر لیں پھر انہیں باب الجنائز سے باہر لے جایا گیا جو بیٹھنے کی جگہوں کے پاس تھا۔ پھر ان ازواج مطہرات کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے اس بات پر نکتہ چینی کی ہے اور کہتے ہیں کہ جنازے مسجد میں داخل نہیں کئے جاتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا لوگ کتنی جلدی ایسی باتوں پر نکتہ چینی کرنے لگ جاتے ہیں جن کا ان کو علم نہیں ہوتا۔ انہوں نے ہم پر اعتراض کیا ہے کہ جنازہ مسجد میں سے گزارا گیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے سہیلؓ بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھی تھی۔ مسلم کہتے ہیں سہیل بن دعد بیضاء کے بیٹے ہیں ان کی ماں بیضاء تھی۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہؓ نے کہا انہیں مسجد میں لے آؤ تاکہ میں بھی ان پر دعا کر سکوں۔ حضرت عائشہؓ پر اس بات کو اوپرا جانا گیا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا۔ اللہ کی قسم ! رسول اللہﷺ نے بیضاءؓ کے دو بیٹوں سہیلؓ اور اس کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ جس رات رسول اللہﷺ کی ان کے ہاں باری ہوتی تھی۔ آپؐ رات کے آخری حصّہ میں البقیع تشریف لے جاتے تھے اور فرماتے تھے مؤمن لوگوں کے گھر! تم پر سلامتی ہو، تمہارے پاس وہ آگیا ہے جس کا کل کے لئے تمہیں وعدہ دیا گیا تھا۔ (تم لوگوں کے لئے) اجل مقرر تھی اور اللہ نے چاہا تو یقینا ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع الغرقد والوں کو بخش دے اور قتیبہ نے اَتَاکُم کے الفاظ ادا نہیں کئے۔
عبداللہ بن کثیر بن المطلب نے محمد بن قیس کو کہتے سنا کہ میں نے حضرت عائشہؓ کو حدیث بیان کرتے سنا وہ کہتی تھیں کیا میں تمہیں نبیﷺ اور اپنے بارہ میں حدیث بیان نہ کروں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ دوسری سند میں یہ الفاظ ہیں کہ محمد بن قیس نے ایک دن کہا۔ کیا میں تمہیں اپنے اور اپنی ماں کے بارہ میں حدیث نہ سناؤں۔ وہ کہتے ہیں ہم سمجھے ان کی مراد اپنی ماں سے ہے جو اُن کی حقیقی والدہ تھیں۔ انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ نے فرمایا کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہﷺ کے بارہ میں بات نہ سناؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت عائشہؓ نے فرمایا ایک دفعہ اس رات میں جس میں نبیﷺ میرے ہاں تھے۔ آپؐ گھر لوٹے، اپنی چادر رکھ دی اور اپنے جوتے اتارے اور اپنے پاؤں کے قریب رکھ دیئے۔ اور اپنے ازار کا ایک پہلو بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے۔ اور آپ اتنا وقت ٹھہرے کہ آپ نے خیال فرمایا کہ میں سو گئی ہوں تو آپؐ نے آہستہ سے اپنی چادر لی۔ آہستہ سے اپنے جوتے پہنے اور دروازہ کھولا اور باہر چلے گئے۔ پھر اُسے آرام سے بند کر دیا۔ میں نے اپنی قمیص سر پر سے پہنی اور اپنی اوڑھنی لی اور ازار پہنا اور آپؐ کے پیچھے چل پڑی یہاں تک کہ آپؐ بقیع پہنچ گئے۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور لمبا قیام فرمایا۔ پھر آپؐ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔ پھر آپؐ واپس مڑے اور میں بھی مڑی۔ آپؐ تیز چلنے لگے، میں بھی تیز چلنے لگی۔ آپؐ نے رفتار اور تیز کی تو میں نے بھی کر لی۔ آپؐ تیز دوڑنے لگے میں بھی تیز دوڑنے لگی پھر آپؐ گھر آگئے اور میں آپؐ سے پہلے اندر داخل ہوئی۔ پس میں لیٹی ہی تھی کہ آپؐ اندر آگئے اور فرمایا اے عائش! تمہیں کیا ہوا؟ تمہارا سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا کوئی بات نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم ضرور مجھے بتاؤ گی ورنہ لطیف و خبیر (خدا) مجھے بتا دے گا۔ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ پھر میں نے آپؐ کو ساری بات بتا دی۔ آپؐ نے فرمایا(اچھا) تو تم وہ سایہ تھیں جسے میں نے اپنے آگے دیکھا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا جو مجھے محسوس ہوا۔ پھر فرمایا کیا تم نے گمان کیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ تمہاری حق تلفی کریں گے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں جبرائیل میرے پاس آئے جب تم نے دیکھا اور انہوں نے مجھے بلایا اور تم سے انہوں نے مخفی رکھا۔ میں نے ان کی بات قبول کی اور اسے تم سے مخفی رکھا۔ جب تم اپنے کپڑے رکھ چکی تو اس نے تمہارے پاس نہیں آنا تھا مجھے خیال تھا کہ تم سو چکی ہو اور میں نے ناپسند کیا کہ تمہیں جگاؤں اور مجھے اندیشہ ہوا کہ تم تنہائی محسوس کروگی۔ انہوں (جبرائیل) نے کہا کہ آپؐ کا رب آپؐ کو ارشاد فرماتا ہے کہ آپؐ بقیع والوں کے پاس جائیں اور ان کے لئے بخشش مانگیں۔ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں ان کے لئے کیسے دعا کروں؟ آپؐ نے فرمایا تم کہو، مومنوں اور مسلمانوں میں سے گھر والوں پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ ہم میں سے آگے جانے والوں اور بعد میں جانے والوں پر رحم فرمائے اور اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو (یہ دعا) سکھایا کرتے تھے جب وہ قبرستان جائیں اور ان میں سے کہنے والا _ ابو بکر کی روایت کے مطابق _ کہتا تھا السلام علی اھل الدیار گھر والوں پر سلام ہو۔ اور زہیر کی روایت میں ہے السلام علیکم اھل الدیار تم پر سلام اے گھر والو! مومنوں اور مسلمانوں میں سے اور ہم ان شاء اللہ ضرور ملنے والے ہیں۔ میں اللہ سے ہمارے لئے اور تمہارے لئے عافیت مانگتا ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں اپنی ماں کے لئے بخشش طلب کروں مگر اس نے مجھے اجازت نہیں دی۔ میں نے اس سے اجازت چاہی کہ ان کی قبر پر جاؤں تو اس نے مجھے اجازت دے دی۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے تو رو پڑے اور جو آپؐ کے گرد تھے ان کو بھی رُلا دیا۔ پھر فرمایا میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ ان کے لئے بخشش مانگوں مگر مجھے اجازت نہیں دی گئی۔ پھر میں نے اس سے اجازت چاہی کہ ان کی قبر کی زیارت کروں تو مجھے اجازت دی گئی۔ پس قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کو یاد دلاتی ہیں۔
ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں قبروں پر جانے سے روکا تھا اب ان پر جایا کرو اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانیوں کے گوشت رکھنے سے منع کیا تھا پس اب جتنا تم مناسب سمجھو رکھ لیا کرو اور میں نے تمہیں نبیذ سوائے اس کے جو مشکیزوں میں ہو پینے سے منع کیا تھا اور اب تمام پینے کے برتنوں سے پی لیا کرو اور نشہ آور چیز نہ پیؤ۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس ایک شخص (کا جنازہ) لایا گیا جس نے تیروں کے پھل سے خود کشی کر لی تھی۔ آپؐ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔