بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 98 hadith
یحیٰ بن عمارہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدریؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے مرنے والوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنے مرنے والوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہے: ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ ! مجھے میری مصیبت کا اجر عطا فرما اور اس سے بہتر بدلہ مجھے دے مگر اللہ اس کے لئے اس سے بہتر بدلہ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں جب ابو سلمہؓ فوت ہوئے تو میں نے کہا کہ مسلمانوں میں سے ابو سلمہؓ سے بہتر کون ہوگا۔ یہ پہلا گھرانہ تھا جس نے رسول اللہﷺ کی طرف ہجرت کی پھر میں نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہﷺ بدلہ میں دئیے۔ وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ نے میرے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کو اپنے لئے منگنی کا پیغام دے کر بھیجا تو میں نے کہا میری ایک بیٹی ہے اور میں ایک غیرت مند عورت ہوں۔ آپؐ نے فرمایا جہاں تک اس کی بیٹی کا تعلق ہے ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ وہ اسے اس سے مستغنی کردے اور میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ غیرت کو (بھی) دور کردے۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کوئی بندہ نہیں جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ کہے یقینا ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور اس کا نعم البدل عطا فرما مگر اللہ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے۔ وہ (حضرت ام سلمہؓ) کہتی ہیں جب حضرت ابو سلمہؓ فوت ہوئے تو میں نے کہا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرمایا (یعنی) رسول اللہ ﷺ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ام سلمہؓ کہتی تھیں جب حضرت ابو سلمہؓ فوت ہو گئے میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے صحابیؓ حضرت ابو سلمہؓ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ نے مجھے عزم کی توفیق دی تو میں نے یہ دعا کی۔ وہ فرماتی ہیں پھر میری شادی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوئی۔
حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم مریض یا مرنے والے کے پاس آؤ تو اچھی بات کہو کیونکہ فرشتے جو تم کہتے ہو اس پر آمین کہتے ہیں۔ وہ (حضرت ام سلمہؓ) کہتی ہیں جب حضرت ابو سلمہؓ فوت ہوئے میں نبی ﷺ کے پاس آئی اور میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! ابو سلمہؓ فوت ہوگئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم یہ کہو اے اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما۔ وہ کہتی ہیں میں نے یہ دعا کی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی کے بدلہ میں وہ دیا جو میرے لئے اس سے بہتر ہے یعنی محمد ﷺ۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ ابو سلمہؓ کے پاس تشریف لائے۔ ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں۔ آپؐ نے ان کو بند کر دیا پھر فرمایا روح جب قبض کی جاتی ہے تو آنکھیں اس کا پیچھا کرتی ہیں۔ ان کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ چلّائے۔ آپؐ نے فرمایا اپنے لوگوں کے لئے بھلائی کے سوا کوئی دعا نہ کرو کیونکہ ملائکہ جو تم کہتے ہو اس پر آمین کہتے ہیں۔ پھر آپؐ نے کہا اے اللہ! ابو سلمہؓ کو بخش دے اور اس کا درجہ ہدایت یافتہ لوگوں میں بلند کر اور پیچھے رہنے والوں میں اس کے بعد تو خلیفہ ہو اور اے رب العالمین! ہمیں اور اسے بخش دے اور اس کی قبر میں فراخی پیدا کر دے اور اس میں اس کے لئے روشنی کر دے۔ ایک دوسری روایت میں ’’وَاخْلُفْہُ فِی تَرْکَتِہِ اس کے چھوڑے ہوؤں میں اس کا جانشین بن‘‘ کے الفاظ ہیں اور اِفْسَحْ لَہُ کے بجائے اَوْسَعْ لَہُ فِیْ قَبْرِہِ آیا ہے۔ راوی خالد حذاء نے کہا ایک اور دعا جو ساتویں تھی میں بھول گیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے انسان کو دیکھا ہے جب مرتا ہے اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی آنکھیں روح کا پیچھا کر رہی ہوتی ہیں۔
حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں جب حضرت ابو سلمہؓ فوت ہوئے میں نے کہا ایک مسافر پردیس میں (فوت ہو گیا ہے) میں ضرور اس پر ایسا رونا رؤوں گی کہ جس کا ذکر کیا جائے گا۔ میں نے اس پر رونے کا تہیّہ کر لیا اچانک ایک عورت بالائی علاقہ سے میری مدد کے ارادہ سے آئی۔ رسول اللہ ﷺ اس کے سامنے آگئے (اور مجھے) فرمایا کیا تم چاہتی ہو کہ شیطان کو ایسے گھر میں داخل کرو جس سے اللہ اسے نکال چکا ہے۔ (آپؐ نے) دو دفعہ (ایسا فرمایا) تو میں رونے سے رُک گئی اور پھر نہیں روئی۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نبیﷺ کے پاس تھے۔ آپؐ کی ایک بیٹی نے آپؐ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے بلا بھیجا کہ اس کا بچّہ (یا کہا) اس کا بیٹا مرنے کو ہے۔ آپؐ نے قاصد سے فرمایا اس کے پاس واپس جاؤ اور اسے کہو کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے عطا کیا اور ہر چیز کی مقررہ میعاد اس کے علم میں ہے۔ اسے کہو کہ وہ صبر کرے اور نیک اجر کی امید رکھے۔ وہ قاصد دوبارہ آیا اور کہا انہوں نے قسم دی ہے کہ آپؐ ضرور اُن کے پاس تشریف لائیں۔ راوی کہتے ہیں نبیﷺ کھڑے ہوئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ بھی کھڑے ہوگئے۔ میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔ بچہ آپؐ کو دیا گیا اس کا سانس اکھڑ رہا تھا گویا کہ وہ ایک مشکیزہ میں ہے۔ آپؐ کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ حضرت سعدؓ نے آپؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ یہ کیا؟ آپؐ نے فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر رحم کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہؓ بیمار ہوئے رسول اللہﷺ عبدالرحمان بن عوفؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ جب آپؐ ان کے پاس اندر گئے تو انہیں بے ہوش پایا اور پوچھا فوت ہوگئے ہیں! انہوں نے کہا نہیں یا رسولؐ اللہ! پھر رسول اللہﷺ رو پڑے۔ جب لوگوں نے رسول اللہﷺ کو روتے دیکھا تو (وہ بھی) رو پڑے۔ آپؐ نے فرمایا ذرا سنو، اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر عذاب نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے عذاب دیتا یا رحم کرتا ہے اور آپؐ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔