بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپؐ نے اسے اتار دیا اور پھینک دیا اور فرمایا کیا تم میں سے کوئی آگ کے انگارے کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا ارادہ کر سکتا ہے؟ پھر جب رسول اللہﷺ تشریف لے گئے تو اس شخص سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں لوں گا کیونکہ رسول اللہﷺ اسے پھینک چکے ہیں۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ جب آپؐ اسے پہنتے اس کے نگینہ کو ہتھیلی کے اندر کی طرف کر دیتے۔ چنانچہ لوگوں نے بھی بنوا لیں۔ پھر آپؐ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اسے اتار پھینکا اور فرمایا کہ میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا تو نگینہ کا رُخ اندر کی طرف کر لیتا تھا۔ پھر آپؐ نے اسے پھینک دیا اور آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم! اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ چنانچہ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ ایک اور روایت میں ہے ’’وَجَعَلَہُ فِیْ یَدَہِ الْیُمْنٰی‘‘ اور آپؐ نے اسے دائیں ہاتھ میں پہنا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جو آپؐ کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ پھر حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ میں پھر حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں پھر حضرت عثمانؓ کے ہاتھ میں یہاں تک کہ آپؓ سے اریس نامی کنویں میں گر گئی۔ اس کا نقش محمدؐ رسول اللہ تھا۔ ابن نمیر کی روایت میں ’’حتّٰی وَقَعَ فِیْ بِئْرٍ‘‘ یعنی حتی کہ وہ کنویں میں گر گئی کے الفاظ ہیں انہوں نے ’’مِنْہُ‘‘ (آپ سے) نہیں کہا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی پھر اسے پھینک دیا۔ پھر آپؐ نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں آپؐ نے محمدؐ رسول اللہ کندہ کروایا اور فرمایا کہ کوئی میری اس انگوٹھی کی طرح (کے الفاظ) کندہ نہ کروائے۔ جب آپؐ اسے پہنتے تو اس کے نگینہ کو ہتھیلی کے اندر کی طرف کر لیتے۔ یہ وہی انگوٹھی تھی جو معیقیب سے اریس نامی کنویں میں گر گئی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں محمدؐ رسول اللہ کندہ کروایا اور لوگوں سے فرمایا کہ میں نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں محمدؐ رسول اللہ کندہ کرایا ہے۔ پس کوئی اس کے نقش کی طرح نقش نہ بنائے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے روم کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ وہ صرف وہی خط پڑھتے ہیں جس پر مہر لگی ہو۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی گویا میں رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ اس کا نقش محمدؐ رسول اللہ تھا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے نبی ﷺ نے عجمیوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ عجمی کوئی ایسی تحریر قبول نہیں کرتے جس پر مہر نہ ہو۔ چنانچہ آپؐ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں گویا میں آپؐ کے ہاتھ میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے قیصر، کسریٰ اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ کوئی تحریر بغیر مہر کے قبول نہیں کرتے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس کا ring چاندی کا تھا اور اس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ ﷺ کے الفاظ کندہ کروائے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک روز انہوں نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھی۔ وہ کہتے ہیں لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا کر پہن لیں۔ پھر نبیﷺ نے اپنی انگوٹھی اتار پھینکی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔