بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک بستر مرد کے لئے ہے۔ ایک اس کی بیوی کے لئے تیسرا مہمان کے لئے اور چوتھا (بستر) شیطان کا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو تکبّر سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ ایک اور روایت میں قیامت کے دن (کے الفاظ) ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص جو تکبّر سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہے اللہ قیامت کے روز اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے تکبّر سے اپنا کپڑا گھسیٹا اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ ایک اور روایت میں (ثَوْبَہُ کی بجائے) ثِیَابَہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا کہ تم کس قبیلہ سے ہو؟ تو اس نے انہیں اپنا نسب بتایا تو وہ بنی لیث میں سے تھا۔ حضرت ابن عمرؓ نے اسے پہچان لیا اور کہا کہ مَیں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اپنے تہبند کو محض تکبّر کی وجہ سے گھسیٹا تو اللہ قیامت کے روز اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ مَیں نے نافع بن عبد الحارث کے آزاد کردہ غلام مسلم بن یسار سے کہا کہ وہ حضرت ابن عمرؓ سے سوال کریں _ اس نے پوچھا اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا _ کہ جو شخص تکبّر سے چادر گھسیٹے کیا آپؓ نے اس کے بارہ میں نبیﷺ کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مَیں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ مَیں رسول اللہﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ میری تہبند لٹک رہی تھی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اے عبداللہ! اپنی تہبند اوپر اُٹھا لو۔ مَیں نے اسے اوپر کر لیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا اور کرو۔ (حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں): مَیں نے اور زیادہ اوپر کر لی۔ میں اس کے بعد بھی اس کا اہتمام کرتا رہا۔ کسی نے پوچھا کہاں تک؟ انہوں نے کہا آدھی پنڈلیوں تک۔
محمد بن زیاد سے روایت ہے کہ مَیں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا اور انہوں نے ایک شخص کو اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے دیکھا۔ وہ (حضرت ابو ہریرہؓ) بحرین کے امیر تھے۔ وہ زمین پر اپنے پاؤں مارتے ہوئے کہتا تھا امیر آگیا امیر آگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص تکبّر سے اپنا تہبند گھسیٹتا ہے۔ اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ ابنِ جعفر کی روایت میں ہے کہ مَروَان حضرت ابو ہریرہؓ کو گورنر مقرر کیا کرتا تھا۔ ابن المثنی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا جاتا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص اپنی زلفوں اور اپنی دونوں چادروں پر اِتراتا ہوا جا رہا تھا کہ اچانک اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ پس جب تک قیامت قائم نہ ہو جائے وہ زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جبکہ ایک شخص اپنی دو چادروں میں تکبّر سے چل رہا تھا اور اپنے جی میں خوش ہو رہا تھا تو اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا۔ پس وہ زمین میں قیامت کے دن تک دھنستا چلا جائے گا۔ ایک روایت میں (یَمْشِیْ فِی بُُرْدَیْہِ) کی بجائے (یَتَبَخْتَرُ فِیْ بُرْدَیْنِ) کے الفاظ ہیں۔ ایک روایت میں (بَیْنَمَا رَجُلٌ یَتَبَخْتَرُ فِیْ بُرْدَیْہ) کی بجائے (اِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یَتَبَخْتَرُ فِیْ حُلَّۃٍ) کے الفاظ ہیں۔ یعنی تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص اپنے جوڑے میں تکبر سے چل رہا تھا۔