بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 186 hadith
حضرت علیؓ بن ابی طالب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے رسول اللہﷺ کی معیت میں ایک اونٹنی ملی اور رسول اللہﷺ نے مجھے ایک اور اونٹنی دی۔ ایک دن میں نے ان دونوں کو ایک انصاریؓ کے دروازہ پر بٹھایا۔ میں ان پر اذخر گھاس بیچنے کے لئے لاد کر لانا چاہتا تھا اور میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک سنار بھی تھا اور میں اس (کی فروخت سے) حضرت فاطمہؓ کی دعوت ولیمہ کے لئے مدد لینا چاہتا تھا اور اس گھر میں حضرت حمزہؓ بن عبد المطلب شراب پی رہے تھے۔ اُن کے پاس ایک مغنّیہ گا رہی تھی اور اس نے یہ گایا اَلَا یَاحَمْزُ للِشُّرُفِ النِّوَائِ اے حمزہ! موٹی اونٹنیوں کے (ذبح کرنے کے) لئے (اٹھو)۔ حضرت حمزہؓ تلوار لے کر ان دونوں پر جھپٹ پڑے اور ان کی کوہانیں کاٹ دیں اور ان کی کوکھیں پھاڑ دیں، پھر ان کے کلیجے نکال لئے۔ میں نے ابن شہاب سے کہا اور کوہان بھی؟ انہوں نے کہا ان دونوں کی کوہانیں انہوں نے کاٹ دیں اور ان کو لے کر چلے گئے۔ ابن شہاب کہتے ہیں حضرت علیؓ نے کہا میں نے یہ منظر دیکھا تو اس نے مجھے دہلا دیا۔ پس میں اللہ کے نبیﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کے پاس حضرت زیدؓ بن حارثہ تھے۔ میں نے آپؐ کو یہ بات بتائی۔ آپؐ باہر تشریف لائے اور آپؐ کے ساتھ حضرت زیدؓ تھے۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ چلا۔ آپؐ حضرت حمزہؓ کے پاس اندر گئے اور ان پر ناراض ہوئے۔ حضرت حمزہؓ نے اپنی آنکھ اٹھائی اور کہا کیا تم لوگ میرے آباء و اجداد کے غلام نہیں ہو؟ (یہ سن کر) رسول اللہﷺ اُلٹے پاؤں واپس تشریف لے آئے اور ان کے پاس سے باہر تشریف لے گئے۔
علی بن حسین بن علیؓ کو حضرت حسینؓ بن علیؓ نے بتایا کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک اونٹنی میرے حصہ میں آئی اور رسول اللہﷺ نے اس دن مجھے ایک اونٹنی خمس میں سے عنایت فرمائی۔ جب میں نے حضرت فاطمہؓ بنت رسول اللہﷺ سے شادی کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے بنو قینقاع کے ایک شخص سے جو سنار تھا طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخر (گھا س) لائیں۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اسے سناروں کے پاس بیچوں اور میں اس سے اپنی دعوت ولیمہ کے لئے مدد لوں۔ اس اثناء میں مَیں اپنی دونوں اونٹنیوں کے لئے پالان، تھیلے اور رسیاں اکٹھی کر رہا تھا اور میری دونوں اونٹنیاں ایک انصا ریؓ کے حجرہ کے قریب بیٹھی تھیں اور میں نے جو اکٹھا کرنا تھا اکٹھا کر لیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں اور ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے کلیجے نکال لئے گئے ہیں۔ جب میں نے یہ منظر دیکھا تو میں اپنی آنکھوں پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے پوچھا یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حمزہؓ بن عبدالمطلب نے کیا ہے۔ وہ اس گھر میں انصارؓ کے بادہ نوشوں کے ساتھ ہیں اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ایک مغنّیہ نے گا کر سنایا اَلَا یَاحَمْزَہُ لِلشُّرُفِ النَِّوَائِِ اے حمزہؓ! موٹی اونٹنیوں کیلئے اٹھو۔ حضرت حمزہؓ تلوار لے کر کھڑے ہوئے اور ان دونوں کی کوہانیں کاٹ دیں اور ان کی کوکھیں پھاڑ دیں اور ان کے جگر نکال لئے۔ حضرت علیؓ کہتے ہیں اس پر میں چلا یہانتک کہ رسول اللہﷺ کے پاس اندر گیا اور آپؐ کے پاس حضرت زیدؓ بن حارثہ (بھی) تھے۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے میرے چہرے پر جو تکلیف مجھے پہنچی تھی پہچان لی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! خدا کی قسم آج جیسا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہؓ نے میری دونوں اونٹنیوں پر حملہ کیا اور ان کی کوہانیں اور کو کھیں کاٹ دیں اور وہ اس گھر میں شراب پینے والوں کے ساتھ ہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ لیا اور چل پڑے اور میں اور حضرت زیدؓ بن حارثہ آپؐ کے پیچھے ہو لئے، یہانتک کہ اس (گھر کے) دروازہ تک آئے جس میں حمزہؓ تھے۔ آپؐ نے اجازت مانگی۔ انہوں نے آپؐ کو اجازت دی۔ آپؐ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شراب پی رہے ہیں۔ رسول اللہﷺ حضرت حمزہؓ کو جو انہوں نے کیا تھا، اس پر ملامت کرنے لگے۔ حضرت حمزہؓ کی آنکھیں سرخ تھیں۔ حضرت حمزہؓ نے رسول اللہﷺ کی طرف دیکھا پھر نظر اٹھائی اور آپؐ کے گھٹنوں کی طرف دیکھا۔ پھر نظر اٹھائی اور آپؐ کی کمر کو دیکھا پھر نظر اٹھائی اور آپؐ کے چہرہ کی طرف دیکھا، پھر حضرت حمزہؓ نے کہا تم میرے باپ کے غلام ہی تو ہو۔ رسول اللہﷺ نے جان لیا کہ وہ مدہوش ہیں۔ رسول اللہﷺ انہی قدموں پر واپس تشریف لائے اور باہر آ گئے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ باہر نکل آئے۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جس دن شراب حرام ہوئی مَیں حضرت ابو طلحہؓ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا اور ان کی شراب کچی کھجور اور (عام) کھجور کی تھی۔ اچانک ایک پکارنے والے نے پکارا۔ انہوں نے کہا نکلو اور دیکھو۔ میں نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پکارنے والا پکار رہا ہے خبردار! یقینا شراب حرام ہوگئی ہے۔ راوی کہتے ہیں تو (وہ) مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی۔ مجھے حضرت ابو طلحہؓ نے کہا نکلو اور اسے بہا دو۔ میں نے اسے بہا دیا۔ لوگوں نے یا ان میں سے ایک نے کہا فلاں قتل ہوگیا، فلاں قتل ہو گیا جبکہ وہ (شراب) ان کے پیٹوں میں تھی۔ راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ یہ حضرت انسؓ کی روایت میں ہے یا نہیں کہ اللہ عزوّجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھاتے ہیں بشرطیکہ وہ تقوٰی اختیار کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔
عبد العزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انسؓ بن مالک سے فضیخ کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تمہاری اس فضیخ کے علاوہ کوئی شراب نہ تھی یہ جس کو تم فضیخ کہتے ہو اور میں کھڑا حضرت ابو طلحہؓ اور حضرت ابو ایوبؓ اور رسول اللہ ﷺ کے بعض دوسرے صحابہؓ کو اپنے گھر میں یہی پلا رہا تھا۔ جب ایک شخص آیا اور کہا کیا تمہیں خبر پہنچی ہے؟ ہم نے کہا نہیں۔ اس نے کہا شراب حرام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا اے انسؓ! ان مٹکوں کو بہا دو۔ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں انہوں نے اس آدمی کے خبر دینے کے بعد اس بارہ میں کوئی سوال و جواب نہ کیا۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں میں قبیلہ میں کھڑا اپنے چچوں کو فضیخ پلا رہا تھا اور میں ان میں سے عمر میں سب سے چھوٹا تھا۔ ایک شخص آیا اور اس نے کہا خُمر اَب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا اے انسؓ! انہیں الٹا دو۔ میں نے اسے الٹا دیا۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت انسؓ سے کہا وہ کس چیز کی تھی؟ انہوں نے کہا کچی اور پکی ہوئی کھجور کی۔ راوی کہتے ہیں ابو بکر بن انس نے کہا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی۔ حضرت انسؓ موجود تھے اور انہوں نے اس بات کا انکار نہیں کیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت انسؓ نے یہی بات کہی تھی کہ ان دنوں لوگوں کی شراب یہی تھی۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مَیں حضرت ابو طلحہؓ اور حضرت ابو دجانہؓ اور حضرت معاذؓ بن جبل کو انصارؓ کے کچھ لوگوں کے ساتھ شراب پلا رہا تھا کہ ہمارے پاس ایک شخص اندر آیا اور اس نے کہا تازہ خبر ہے کہ شراب کی حرمت نازل ہوگئی ہے تو اسی دن ہم نے اسے بہا دیا اور وہ شراب کچی اور پکی ملی جلی کھجوروں کی تھی۔ قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت انسؓ بن مالک نے کہا کہ شراب حرام ہوئی اور ان دنوں ان کی عام شرابیں بالعموم کچی اور پکی ملی جلی کھجور کی ہوتی تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت انسؓ بن مالک نے کہا کہ میں حضرت ابو طلحہؓ حضرت ابو دجانہؓ اور سہیل بن بیضاء کو ایک مشکیزہ سے پلا رہا تھا جس میں کچی اور پکی کھجوریں ملی جلی تھیں۔
حضرت انسؓ بن مالک کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے منع فرمایا کہ تَمْر اور زَھْو کو ملایا جائے اور پھر اس کو پیا جائے اور جب شراب حرام ہوئی تو ان کی عام شرابیں یہی تھیں۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح اور حضرت ابو طلحہؓ اور حضرت ابی بن کعبؓ کو فضیخ اور تمر کی شراب پلا رہا تھا تو ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا شراب حرام کردی گئی ہے۔ حضرت ابو طلحہؓ نے کہا اے انسؓ ! اٹھو اور اس گھڑے کو توڑ ڈالو۔ مَیں نے اپنی پتھر کی کونڈی اٹھائی اور اسے (گھڑے کے) نچلے حصہ پر مارا یہانتک کہ وہ ٹوٹ گیا۔
حضرت انسؓ بن مالک کہتے ہیں یقینا اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی جس میں اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام ٹھہرایا ہے اور مدینہ میں صرف کھجور کی شراب پی جاتی تھی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے شراب کو سرکہ بنانے سے متعلق سوال کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا نہیں۔